ہم کو سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق سیکھنا ہوگا ،سید منورحسن

126

جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ افسوس ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان سے کوئی سبق نہیں لیا گیا،پاکستان وہ واحد ملک ہے کہ جہاں بار بار ملٹری آپریشن کا تجربہ کیا گیا لیکن اس کے نتائج بھی سب نے دیکھ لیے ہیں،مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے نتائج سب کے سامنے ہیں اس کے لیے کسی کمیشن کی رپورٹ آنے کی ضرورت نہیں ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے تجزیہ کرتے رہنا چاہیے اور سوچ بچار کا عمل آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے حالات اور سانحات سے بچا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ادارہ نور حق میں ’’یوم سقوطِ ڈھاکہ اور پاکستان کی سلامتی کے تقاضے ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے صدارتی خطاب کر تے ہوئے کیا ۔سیمینار سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ،معروف دانشور و کالم نگار شاہنواز فاروقی ،کراچی یونین آف جرنلسٹ کے سابق صدر خورشید تنویر ، شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کے سابق سربراہ ڈاکٹر پروفیسر طاہر مسعود اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

سید منورحسن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے اثرات اور مضمرات پر غور و فکر کرنے کے لیے جماعت اسلامی کراچی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اوراس عمل کو آگے بڑھانا چاہیے ،یہ ملک اور قوم کی بڑی خدمت ہوگی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 16دسمبر ملکی تاریخ کا ایک اندو ہناک دن ہے ۔24سال کے عرصے میں یہ ملک دولخت ہو گیا آخر ایسا کیوں ہوا یہ ایک بہت بڑا اور اہم سوال ہے اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس کے اسباب اور آئندہ اس قسم کے حالات کے سدِ باب کے لیے کوششیں کی جائیں ۔یہ سانحہ آج بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے اور ہمیں سوچ بچار کر نے کی دعوت دیتا ہے ۔

10-ji

ڈاکٹرپروفیسر طاہر مسعود نے کہا کہ پاکستان کوئی نظر یاتی مملکت نہیں بلکہ ایک دینی ریاست ہے ۔اسلامی ریاست کسی نظریے نہیں بلکہ شریعت کی بنیاد پر قائم ہو تی ہے اور یہ ملک اسی دین کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا ۔میرے خیال میں اس ملک کو دینی اور الٰہی ریاست کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا ۔یہ ملک اللہ اور اس کے رسولؐ کے نام پر حاصل کیا گیا اور صرف 1947میں نہیں بلکہ 1971میں بھی قر بانیاں دیں گئیں اور 1971میں جو کچھ ہوا میں اس کا چشمِ دید گواہ ہوں ۔میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور میں نے اپنے گھر پر پاکستانی جھنڈا لہرایا اور پھر مکتی باہنی کے غنڈوں نے ہمارے گھر پر حملہ کر دیا ۔میں نے اپنی آنکھوں سے خون کی ندیاں بہتی دیکھی ہیں ۔بنگلہ دیش میں پاکستان کی سالمیت کے لیے جن لوگوں نے 1971میں قر بانیاں دیں تھیں آج وہ لوگ ایک بار پھر آزمائشوں اور مشکلات کا شکار ہیں اور کوئی ان کے لیے مؤثر آواز اُٹھانے والا نہیں۔

پروفیسر طاہر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنا رشتہ کتاب اللہ ،رسولؐ اور عصر حاضر کے علوم سے مضبوط کر نا ہو گا اور جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو لٹریچر کی بنیاد پر قائم ہوئی اور آج بھی کھڑی ہے ۔پاکستان علامہ اقبالؒ کے خطبۂ الٰہ آباد کی روشنی میں قائم ہوا اور میں اس خطبے کو الہامی خطبہ کہتا ہوں ۔اس خطبے میں دین کی نشاۃ ثانیہ کی بات کی گئی تھی ۔اس خطبے میں بنگال کا ذکر نہیں تھا ۔میر ے خیال میں اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہیئے اور ماضی پر افسوس کر نے کے بجائے موجودہ ملک اور ریاست کی تعمیر و ترقی پر توجہ دینی چاہئے ۔

ڈاکٹر طاہر مسعود کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کے مسئلے کو فوجی آپریشن کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا تھا اور پھر ثابت ہوا کہ فوجی آپریشن سے حالات نہیں بہتر ہوئے اور مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج نے ہتھیار ڈالے ۔مشرقی پاکستان کو الگ کر نے کا منصوبہ پہلے سے تیار کیا جاچکا تھا اور اس حصے کا ایک نہ ایک دن الگ ہو نا ہی تھا ۔شاہنواز فاروقی نے کہا کہ یہ ملک نظر یے کی طاقت نے تخلیق کیا ہم نے نظر یے سے غداری کی اور اس نظر یے کے علاوہ کوئی اور طاقت نہیں تھی کہ جو اس ملک کو ایک رکھ سکتی ہو عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ملک جنرل یحیٰ ،بھٹو اور شیخ مجیب نے مل کر توڑا لیکن یہ بات پوری طرح درست نہیں ہے ۔یہ ملک ایک ملت کے تصور کے طور پر قائم ہوا اور اگرا س تصور کو ہم نکال دیں گے تو پھر کچھ باقی نہیں رہے گا ۔اصل حقیقت یہ ہے کہ بنگال مسلم سیاست کا مرکز اور محور بنا رہا ہے ۔تاریخی حقائق اور شواہد سے ثابت ہو تا ہے کہ مشرقی پاکستان کو توڑنے کا منصوبہ پہلے سے تیار کیا جا چکا تھا ۔ملک توڑنے کی سازش کر نے والوں میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو مشرقی پاکستان کی بالا دستی سے خود کو آزاد کرانا چاہتے تھے کیونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی اکثریت میں تھی ۔حسین شہید سہروردی نے ملک کو قائم رکھنے کے لیے 50فیصد کے منصوبے کو تسلیم کر لیا تھا جبکہ وہ 50فیصد سے زیادہ تھا حالانکہ اس کا کوئی سیاسی ،اخلاقی ،قانونی اور شرعی جواز تک نہ تھا اور پھر ان پر ون یونٹ کو مسلط کر دیا گیا ۔پھر فوج میں بھرتی کے لیے ایک قانون لایا گیا کہ صرف 6فٹ سے زیادہ قد والے ہی بھرتی کیے جائیں گے لیکن وہاں کے لوگوں نے اس کو برداشت اور قبول کیا ۔طرح طرح سے ان کی اکثریت اور بالا دستی کو ختم کر نے کی کوشش کی گئی اور پھر وہاں الگ ہونے کے نعرے لگنے لگے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ اکثریتی لوگ اقلیتی آبادی سے الگ ہو نے کی راہ پر چل پڑے ۔وہاں کے لوگوں کو بغاوت کر نے پر مجبور کیا گیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ سقوطِ ڈھاکہ ایک ایسا سانحہ ہے کہ دو قومی نظریے پر آسمان گرپڑا اور اقبال اور قائد اعظمؒ کے خواب بکھر گئے ۔ملک ٹوٹ گیا اور بدقسمتی سے اس کی تحقیقات کر نے کی کوشش نہیں کی گئی کیونکہ اس سازش کے پیچھے بیرونی ہاتھ کے ساتھ ساتھ اندرونی اور داخلی ہاتھ بھی کارِ فرماتھے ۔اس سانحے کے اثرات سے ہم آج تک نہیں نکلے ہیں اور جب بھی ملک میں کہیں حالات خراب ہو تے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں ۔

خورشید تنویر نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے حالات کا میں گواہ ہوں کیونکہ میں وہیں پیدا ہوا اور بڑا ہوا ہوں،ہم کسی قوم یا زبان بولنے والوں کو یکسر غلط اور خراب قرار نہیں دے سکتے جس معاشرے میں انصاف نہ ہو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتااور اس کی واضح مثال سانحہ مشرقی پاکستان ہے اور ریاست اس کی سب سے بڑی مجرم ہے اور 44سال ہو گئے اس ریاست نہیں اس سوال کا جواب نہیں دیااس کو کیوں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔پاکستان اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے لیکن افسوس کہ آج تک پتا نہیں چل سکا اس مملکت خداداد کو دولخت کرنے کا ذمہ دار کون ہے،سانحہ مشرقی پاکستان میں تین ملکوں کے سربراہوں اور ان کے خاندان کا جو انجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور یہ عبرت لینے کے لیے کافی ہے۔#

حافظ نعیم الرحمن نے سیمینار کے شرکاء اور مہمانانِ گرامی کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ