فہد احمد

13 بلاگ 0 تبصرے

اسید زاہد ایک دن حرم پاک میں اذان ضروردے گا

ابھی کچھ دن پہلے ایک نوجوان نے اپنے فیس بک پر قاری وحید ظفر قاسمی کی ایک حمد  پڑھنے کی ویڈیو پوسٹ کی جو...

پاکستان بنانے والوں کی روحیں آج سوال کرتی ہیں ؟

عالم ارواح میں موجود آج پاکستان بنانے والوں کی روحیں بھی تماشا دیکھ رہی ہوں گی کہ انہوں نے جس مقصد کے لیے یہ...

صرف جمعیت ہی کیوں ؟

فرد کی زندگی کی تعمیر سے شروع ہو کر، معاشرے کی ترقی پر ،تکمیل ہو نے کا نام، اسلامی جمعیت طلبہ ہے ، جس...

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ 

ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ شہر کی سب سے اچھی یونیورسٹی میں جاکر تعلیم حاصل کر ے اور...

روشن صبح کی ایک نوید ، بزم ساتھی 

چلڈرن ایکسپو کراچی ، روشن مستقبل کی ایک کرن  قابل تعریف و تحسین ہیں بزم ساتھی کراچی کے ذمہ داران ، جنہوں نے اسکولز کے...

اپنے بچوں کی زندگی محفوظ بنائیے 

اگر آپ والدین ہیں اور آپ کے بچے اسکول جاتے ہیں ، تو اپنے بچوں کی زندگی محفوظ بنانے کے لیے تھوڑے سے حفاظتی...

جمعیت  تکلیف دیتی ہے 

اسلامی جمعیت طلبہ نے ہر دور میں اس ملک کے لوگوں کو تکالیف پہنچائی ہے جس کا خمیازہ بہت سے لوگوں کو بھگتنا پڑا...

کراچی میں کھیل کے میدان کہاں چلے گئے ۔۔

یہ کو ئی زیادہ دور کی بات نہیں ہے ۔۔ میرے بچپن کے دن بہت حسین ہوا کرتے تھے ، جب ہمارے شہر کراچی...

ووٹ کا صحیح استعمال ۔۔بہتر مستقبل کی ضمانت ۔۔

پانی نہیں آرہا ، تنخواہ نہیں بڑھ رہی ، نوکری نہیں مل رہی ، بجلی نہیں ہے ، گھر سے باہر نکلتے ہیں تو...

نماز میں شرم کیسی ؟یہ تو نیت سے پڑھی جاتی ہے...

نماز میں شرم کیسی یہ تو وقت اور جگہ دیکھ کر نہیں بلکہ نیت سے پڑھی جاتی ہے،یہ بات میں نے ایک شاہ رخ...

اہم بلاگز

وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب

گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو لیکر مختلف قسم کی خبریں گردش کر تی رہی ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ ایسا ماحول بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ سعودی عرب پاکستان سے دیرنہ تعلقات ختم ہی نا کردے یا پھر قطر یا ایران کی جیسی نوبت نا آجائے۔ جہاں اسکی ایک وجہ مسلم دنیا پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے بڑھتا ہوا دبائو سمجھا جاسکتا تھاجیسا کہ دیگر کئی عرب ریاستوں نے ایسا کیا جبکہ پاکستان واضح طور پر بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور بار بار ''بین الاقوامی سطح پر متفق پیرامیٹرز'' پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کے ساتھ 1967 سے قبل کی سرحدوں کو اپنا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کرتا رہا ہے،یہ واحد قابل قبول حل ہے جو مغربی ایشیاء میں پائیدار امن کی ضمانت دے گا۔ سعودی عرب نے پاکستان کے معاشی حالات کی بہتری میں اپنا کردار ہمیشہ ادا کیا ہے اورپاکستان کی افواج نے سعودیہ کی پہلی دفاعی لکیر کیلئے ہمیشہ اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ حالیہ دورے سے قبل آرمی چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب سعودیہ کے دورے پر موجود تھے اور حالات کی سازگاری کی مرہون منت وزیر اعظم بھی وہا ں پہنچ گئے۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کے منصب سنبھالنے پر بھی بھرپور مالی تعاون کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ عملی تعاون بھی کیا ۔ لیکن اس دفعہ اس مالی تعاون کے بدلے پاکستان سے کچھ مختلف کرنے کی توقع کی جارہی تھی جس پر سے پردہ اسوقت اٹھا جب وزیراعظم صاحب نے سعودی عرب کے مالی تعاون کے لئے دی گئی رقم انہیں بہت ہی قلیل وقت میں تقریباً لوٹا دی تھی۔ امریکہ میں اقتدار کی منتقلی کا وقت تھا اور یہ تبدیلی امریکہ میں نئے دن کا آغاز سمجھی جا رہی تھی اور تقریباً ایسا ہواجس کی وجہ سے پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا وہ دبائو جس کی توقع کی جارہی تھی نہیں ڈالا گیا ۔ یہاں ایک سوا لاور بھی پیدا ہوتا ہے کے کیا عمران خان صاحب کی شخصیت کا سحر سر چڑھ کا بول رہا ہے جس کی وجہ سے دبائو کی نوعیت کوئی خاص دیکھائی نہیں دے رہی ہاں البتہ اندرونی سازشی ٹولے کا دبائو بیرونی دبائو سے کہیں زیادہ محسوس کیا جارہا ہے کیونکہ گھر کے لوگوں سے دشمنوں کی طرح برتائو نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر ہمیں یاد ہوکہ محمدبن سلمان اور عمران خان صاحبان کی آخری ملاقات میں ہونے والی گفتگو میں محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ میں سعودیہ میں پاکستان کا سفیر بن کر کردار نبہائونگاجو کہ سفارتی تعلقات کی پائداری اور استحکام کیلئے کافی سمجھا جارہا تھا لیکن درپردہ حقائق وقت کے گزرنے کے بعد سامنے آنا شروع ہوئے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی بصیرت کو ہمیشہ سے ہی تنقید کا سامنا رہا ہے ، جس کی بڑی وجہ انکا صاف گوئی رویہ سمجھا جاتا ہے وہ عمومی سیاست دانوں کی طرح لگی لپٹی کرنے کے عادی...

چاولوں کا استعمال اور چہرے پر فوائد

عید کے قریب آتے ہی خواتین کی جہاں کپڑے، جوتے اور میچنگ کی چوڑیوں کی فکر بڑھ جاتی ہے ایسے ہی میں سب سے زیادہ چہرے کی مرجھائی ہوئی بے جان جِلد اور پھیکی رنگت بھی پریشانی کا سبب بنتی ہے  جس کا علاج ہر گھر میں موجود چند مفید اجزا کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر یہ دوسرا سال ہے جہاں  لاک ڈاؤن کے دوران متعدد سیلون بھی سیل کیے جا چکے ہیں۔ اس صورتحال میں اپنی اور اپنے خاندان والوں کی زندگی سے کھیلنے سے بہتر ہے کہ گھر ہی میں اپنی خوبصورتی کو چار چاند لگانے کا اہتمام کر لیا جائے۔ بغیر پارلر گئے اس عید پر تروتازہ و شاداب دکھنے کے لیے ہر گھر میں با آسانی دستیاب چاولوں کا استعمال کرتے ہوئے فیشل کیا جا سکتا ہے جس کے حیرت انگیز نتائج آپ کودوبار ہ کبھی پارلر کا رُخ نہ کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ چاولوں کا استعمال صدیوں سے خوبصورتی بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے، اب تو بیوٹی کاسمیٹکس پراڈکٹس بنانے والی کمپنیز بھی چاولوں کی افادیت جان گئی ہیں، اسی لیے ان کی جانب سے شیمپو اور کریموں میں چاولوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ چاولوں کو وائٹننگ ایجنٹ قرا ر دیا جاتا ہے، چاولوں کی مدد سے خوبصورتی سے متعلق متعدد فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں جن میں گوری رنگت، صاف شفاف جِلد اور لمبے گھنے بال شامل ہیں۔ گھر ہی میں چند دنوں میں متاثرہ جِلد کی بحالی کے لیے رائس ٹونر بنا کر لگانا شروع کر دیں، عید تک یہ ٹونر کھلے مسام بند کر کے جِلد کو ترو تازہ و شاداب بنا دے گا۔ مزید یہ کہ خوبصورتی میں اضافے کے لیے چاولوں کے استعمال کے چند طریقے مندرجہ ذیل درج ہیں جن سے پارلر گئے اور وقت ضائع کیے بغیر  آج ہی سے گھر میں  محفوظ رہتے ہوئے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ رائس ٹونر: رائس ٹونر بنانے کے لیے ایک کپ چاولوں کو دھو لیں، اب اس میں ایک کپ پانی ڈال کر ایک گھنٹہ یا پوری رات کے لیے ڈھانپ کر رکھ دیں، پانی سے چاول چھاننے کے بعد اسے ایک ہفتے کے لیے فریج میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ روزانہ چہرہ دھونے کے بعد ان چاولوں کے پانی سے روئی کی مدد سے اپنا چہرہ صاف کریں یا اسپرے بوتل کی مدد سے چہرے پر اسپرے کر لیں۔ اس سے آپ کی اسکن چمکدار اور نکھر جائے گی،  کھلے مسام بند ہو جائیں گے اور جلد نرم و ملائم محسوس ہوگی۔ بہترین نتائج کے لیے رائس ٹونر سے اسکن صاف کرنے کے بعد تولیہ یا سوتی کپڑا نیم گرم پانی میں بھگو کر اپنے چہرے پر چند منٹوں کے لیے رکھ لیں۔ رائس اسکرب: چاولوں میں اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی ایجنگ، اینٹی انفلامینٹری، قدرتی سن اسکرین اور قدرتی وائٹننگ خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں اس کے استعمال سے کیل مہاسوں کی شکایت دور ہو جاتی ہے، داغ دھبے ختم ہو جاتے، بلیک ہیڈز کا خاتمہ اور ڈیڈ اسکن کا بھی صفایا ہو جاتا ہے۔ رائس اسکرب کے استعمال...

کڑوے گھونٹ، میٹھی زندگی

ایک صاحب کسی بستی سے گزر رہے تھے،  ایک کتے نے انہیں کاٹ لیا اور انہیں سخت مشقت میں مبتلا کر دیا،  ان کی تمام رات تکلیف میں گزری، وہ درد و الم  سے تڑپتے رہے۔ ان کی چھوٹی  سی بیٹی بھی  ان  کے ساتھ تھی، وہ اپنے  بابا کا   یوں درد سے   تڑپنا برداشت نہ کر سکی۔ اور کہنے لگی: اباجان!  کیا آپ کے دانت نہیں ہیں، معصوم پری کا یہ سوال سن کر  باپ نے دانتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے  فرمایا:  بٹیا ! یہ دیکھو، ہیں نا   اور کافی مضبوط بھی ہیں، تو اس بچی نے کہا  ابا جان کیا ہی اچھا ہوتا جو  آپ بھی اس کتے کو کاٹ لیتے،  جیسے اس نے آپ کو کاٹا ہے۔ ننھی بیٹی کی معصوم باتیں سن کر باپ مسکرا دیا اور کہنے لگا : بٹیا! ٹھیک کہا تم نے،   میرے دانت تو تھے،  میں کاٹ  بھی سکتا تھا۔ لیکن  ایک انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی کتے کو کاٹے،  اس لیے کہ اگر  وہ اسے کاٹتا ہے تو اس کی گندگی  اور نجاست کو اپنے ساتھ لگا لے گا  اور ساری زندگی پھر اس سے گھن کرتا رہے گا۔ یوں ہی  بعض دفعہ رویے ، رویوں سے ٹکرا جاتے ہیں۔ ان کا یک دوسرے سے ناگوار حالت میں آمنہ سامنہ ہو جاتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو کاٹ بھی سکتے ہیں اور بعض دفعہ کاٹ بھی لیتے۔ لیکن کتے کے کاٹنے میں اور رویوں کے کاٹنے میں فرق ہوتا ہے۔ کتا دانتوں سے کاٹتا ہے، جبکہ رویے زبان سے کاٹتے ہیں۔کتے کے کاٹنے کااثر جسم پر  ہوتا ہے، زبان کے کاٹنے کا اثر روح پر ہوتا ہے، کتے کے کاٹنے کا زخم بھر جاتا ہے،لیکن زبان کا زخم نہیں بھرتا۔ اسی بات کے پیش نظر حضرت علیؓ نے کیا خوب فرمایا : نیزے کا زخم تو بھر جاتا ہے، لیکن زبان کا لگا زخم نہیں بھرتا۔ زبان سے لگے  زخم  کا زہر بدن میں سرایت کرنے کے بجائے دماغ کے گوشوں  تک پہنچ جاتا ہے اور دل کی روح کو کشمکش میں مبتلا کرد یتا ہے اور  اگر ان ترش رویوں   کا بیچ ”انا“  کی سر زمین پر کاشت ہو جائے تو  وہاں  رفتہ رفتہ  لہلہاتی ہوئی زہریلی فصلیں اگ آتی ہیں۔ اس لئے اس بیچ کو جڑین مضبوط کرنے سے پہلے اکھاڑ ڈالنا ہی  دل کی کھیتی کی افزائش کا سبب بن سکتا ہے۔   ایک اچھے انسان کے ساتھ جب کوئی سخت رویے سے پیش آتا ہے تو  معاشرہ  اس کو جوابی کارروائی  کرتے ہوئےکاٹنے پر ابھارتا ہے، عار دلائی جاتی ہے۔ غیرت کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ انا کو ابھاراجاتا ہے۔ لیکن ایک اچھا انسان  تکلیف برداشت  کر لینے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن نامناسب حرکت سے اپنی شرافت  بھری زندگی کو  داؤ پر نہیں لگاتا۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ہر دفعہ رویوں کی ترش روئی کا سبب لاپر واہی نہیں ہوتا۔ ہر دفعہ ان  میں سستی اور بد اخلاقی کی بو نہیں ہوتی۔  بلکہ کبھی تھکن، کبھی الجھن اور کبھی کوئی پریشانی ہوتی ہے،  جس سے انسان ترش رو ہوجاتا ہے۔ اس کا لہجہ سخت...

برائیوں کا سدباب

احادیث کا مفہوم ہے کہ برائی کو اچھائی سے مٹاؤ ۔ ہمارے  معاشرے میں برائیاں اس طرح  پھیل چکی ہیں کہ برائی  کا تصور تک مٹ گیا ہےاور مزے کی بات یہ ہے کہ ہم بھی اس برائی کا حصہ ہوتے ہیں مگر تسلیم نہیں کرتے۔ برائی اچانک حملہ نہیں کرتی  بلکہ  بہت سکون کے ساتھ مسکراتی ہوئی آتی ہے تو ہر فرد اس کا استقبال بڑے جوش وخروش سے کرتا ہے  اور ایسی دوستی نبھاتا ہے کہ وہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ لیکن جب اس کے منفی  اثرات بیماری کی طرح زندگی کو دیمک کی طرح دھیرے دھیرے کھوکھلا کرنے لگتی ہے توپھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اب لوگ سو چیں گے کہ ہم تو ایسے نہیں ہیں ۔ یہی "میں نہ مانوں " کی فطرت درحقیقت برائیوں کو پروان چڑھانے اور لاعلاج مرض کی صورت میں معاشرے میں  برائیوں کوپھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ آپ خود سو چئے جب انٹرنیشنل چینل پاکستان میں متعارف کروائے گئے تو سب  ایسے خوش تھے جیسے کوئی قیمتی خزانہ مل گیا ہو اور پھر کسی کو خبر بھی نہیں ہوئی اور گھروں میں رہنے والی ہوں یا نوکری کرنے والی خواتین سب کے طورطریقہ ہی بدل گئے اور گھروں کا ماحول اس طرح تبدیل ہوا کہ اسلامی تہذیب واقدار چیخ چیخ کر روتی رہی مگر اس نئی تہذیب کی رونقوں میں کسی کو اس کی آواز سنائی نہ دی اور نہ ہی سسکیاں اور وہ اپنی موت آپ مرگئی۔ پھر موبائل کی دنیا آباد ہوئی اور دھیرے دھیرے اس کی بے شمار سہولتوں نے ہر شخص کو دیوانہ بنا رکھا تھا  اور وہی اندھا دھند تقلید نے آج ہماری نسل کو کسی کام کا نہیں رکھا۔   بے حیائی اور برائیوں کا ایک راستہ ہموار ہوگیا کہ گھر میں رہنے والوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے بچے کس راستے پرچل پڑے ہیں۔ نئی تہذیب کی چکاچوند نے سب کو ایسا مدہوش کررکھا تھا کہ وہی مثال ہوگئی کہ  "    خود اپنے گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ آج ہمارے معاشرے میں بے حیائی، عریانیت، بے حسی، لاتعلقی، خودغرضی اس طرح سرائیت کرگئی ہے کہ نہ رشتوں کا احترام باقی رہا نہ محبتیں۔  احساس نام کا جذبہ ایسی گہری نیند سوگیا ہے کہ باربا ر جگانے پر بھی نہیں جاگتا کیونکہ بے حسی اور خودغرضی کی چادر اتنی سکون بخش ہے کہ ارد گرد کی کوئی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔ اب سوائے صبر کے کوئی راستہ نہیں بچا۔ تو کیا ہم بے بسی سے معذوروں کی طرح اپنے گھر کو جلتا ہوا دیکھتے رہیں گے؟ ہرگز نہیں ، ہم کو اللہ نے جن صلاحیتوں کے ساتھ جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے  اس کی جدوجہد جاری رکھنا ہی اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کیونکہ ایمان والے نہ تو بزدل ہوتے ہیں اور نہ ہمت ہارنے والے ۔ بس راستہ کا تعین  درست ہونا چاہئے اور چلنے کا سلیقہ ہو تو منزل مقصود پر پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ کسی بیماری کا علاج ہو یا کسی برائی سے نجات حاصل کرنا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ...

طلباء اور سیاست

ترا شباب امانت ہے ساری دنیا میں تو خارزار جہاں میں گلاب پیدا کر   موجودہ دور میں کسی بھی ترقی یافتہ ملک اور قوم کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی کہ اس مقام عروج پر پہنچنے میں اس قوم وملک کے نوجوانوں اور طلباء کی قربانیوں کی ایک لازوال داستان شامل ہے۔ کسی بھی ملک و قوم کے لیے طلباء ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی نوجوان طلباء ہی کسی ملک و قوم کے تابناک مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو کوئی بھی آپ کی اس بات سے اختلاف کرنے سے قاصر ہے کہ جس ملک و قوم کے طلباء و نوجوان غیر ذمہ دار اور لاپرواہ ہوں ان کے اندر اخلاقی، سماجی، معاشی و معاشرتی اعتبار سے اور دیگر شعبہ ہاۓ زندگی کے متعلق شعور نہیں تو وہ قوم کے مستقبل کو تاریک کر دیتے ہیں یوں وہ ملک و قوم اپنا نام و نشان یعنی شناخت اور مقامی حیثیت کھو بیٹھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبالؔ نے کہا تھا ؎ اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں ہوتی ہو جس کے جوانوں کی خُودی صورتِ فولاد جوانی کی عمر ہی ایسا وقت ہوتا ہے کہ جس میں انسان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتا ہے چنانچہ روشن مستقبل اور انقلاب کی نوید سننے کے لیے لازم ہے کہ نوجوان اپنے اندر کم ہمتی کی بجاۓ ہمت پیدا کرے اور اپنے اندر غیرت و حمیت پیدا کرے یہی اصل دولت ہے۔ بقول اقبالؔ ؎ گَر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیّور قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں     اس سرزمین پر ایک خوشگوار انقلاب لانے کے لیے طلباء میں سیاست کو پروان چڑھانا ہو گا اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی انقلاب میں طلباء تحریکوں کا کردار مرکزی حیثیت سے بھی ہو سکتا ہے اور ابتدائیہ  کردار تو لازمی ہوتا ہے۔ برصغیر کی تاریخ ہی اٹھا کر دیکھیں تو سامراج کے خلاف بغاوت کا ایک بڑا حصہ یہی طلباء ہی تو تھے مثلاً "HSRA"(ہندوستان سوشلسٹ انقلابی فوج) نام سے ایک تنظیم کا نام ملے گا۔ یوں اس وقت سے لے کر آزادی کی طویل داستان میں جن  بھی انقلابات نے جنم لیا ان میں طلباء کا کردار لازوال اور بے مثال ہے۔ اسی طرح آزادی کے ایوبی آمریت کے خلاف 1964 میں ایک انقلابی تحریک نے جنم لیا جو طلباء مطالبات پہ مشتمل تھی۔ اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ طلباء میں معاشرے کے ہر قسم کے طبقے کی نمائندگی موجود ہوتی ہے خواہ محنت کش طبقہ ہے یا متوسط طبقہ۔ یہی وہ واحد پلیٹ فارم ہوتا ہے جس سے ہو کر طلباء سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام، آمریت اور ظلم و استحصال کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے میدان میں نکلتے ہیں۔ سارے نظام میں جدّت کے سبب ہمارے طلباء کو وسائل کی کمی کی وجہ سے بے شمار مسائل کا سامنا ہے اگرچہ دعوی کیا جاتا ہے کہ تعلیم برابر فراہم کی جاتی ہے لیکن درحقیقت اس طبقاتی نظام تعلیم نے نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

اچھا استاد شاگردوں کے لیے تحفہ (پہلا حصہ)

ایک زمانہ تھا کہ شاگرد استاد کو بڑی رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور دل میں خواہش رکھتے تھے کہ وہ بھی بڑے ہوکر اپنے استاد کی طرح قابل ہوکرباعزت زندگی گزاریں گےاور تاریخ اس بات کی گواہ ہے جس نے سچائی اور لگن کے ساتھ اپنے اس جذبہ کو قائم رکھا وقت نے انہیں ایسی ہی قابل احترام زندگی عطا کی ۔  لیکن جب اس معاشرے کے جاہل ٹھیکیداروں نے اپنی فرعونیت کی حکمرانی کو خطرے میں دیکھا کہ پڑھ لکھ کر ایک معمولی انسان بھی نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوجاتا ہے بلکہ ہر چھوٹا بڑا اس کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ نہ صرف اپنے بنیادی حقوق وفرائض کی ذمہ داریاں  بخوبی نبھاتا ہے بلکہ دوسروں کی بھی رہنمائی کرکے ایک بہتر زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھادیتا ہے  اوریہ وہ خطرے کی گھنٹی تھی جس کی گونج نے اس بات کو واضح طور پر  روز روشن کی طرح  عیاں کردیا کہ وہ دن دور نہیں جب فرعونوں کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے اور جہالت  کی بنیاد پر غلامی کرنے والے  علم کی روشنی  حاصل کرکے ان کا تختہ الٹ دیں۔ لہذا انہوں نے ایسی سازش کا جال بچھایا کہ کسی کو احساس بھی نہ ہوا کہ ایک معزز قوم کیسے آہستہ آہستہ جہالت کی کھائی میں گرتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ اپنی شناخت ہی کھو بیٹھی ۔ آج کا  وہ استاد جو انسانوں  کو جہالت کے اندھیرے سے نکال علم کی روشنی میں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا تھا اب اپنی زندگی کی ناؤ کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہے کیونکہ  آج  بھی چودہ سو سال پہلے والی قوم علم کے  مدمقابل وہ ہی ہٹ دہرم اور صدی  بنی اسرائیل کی قوم ہے جو علم رکھتے ہوئے بھی دنیا کو اپنا دین وایمان بنائے  ہوئے تھی اور اللہ اور اس کے رسول کی کھلی نافرمانی کرکے دعوہ کرتی تھی کہ وہ ہی جنت کے حق دار ہیں۔ آج کی قوم بھی جہالت کے اسی اندھیرے میں بھٹک رہی ہے اس دنیا کو زندگی کا حاصل سمجھ کر ایسے راستے پر گامزن ہے جس کی کوئی منزل نظر نہیں آ تی۔ پہلے ماں باپ  بچوں کو تعلیم دیتے تھے کہ بیٹا استاد کی عزت کرنا اللہ تمہیں عزت دے گا آج کے ماں باپ کو اپنے بچوں کوتو کیا عزت کرنا سکھائیں گے بلکہ ان کے سامنے استادوں سے اس انداز میں بات کرتے ہیں جیسے فیس دے کر انہوں نے ٹیچر کو خرید لیا ہے تو پھر بچے کیسے اس استاد کی عزت کریں گے۔  ایمانداری سے اللہ کو حاضر وناظر جان کر اپنا محاسبہ کیجئے کہ ایک باپ، بھائی کی حیثیت سے آپ کو یاد ہے کہ آپ نے  کبھی  اپنے بیٹے یا بیٹی کو، اپنی بہن یا بھائی کو ایک مرتبہ بھی یہ کہا ہو کہ استاد کی عزت واحترام آپ پر اسی طرح فرض ہے جیسا کہ ماں باپ کا؟ نہیں کہا کیونکہ ہم استاد کو وہ مقام واہمیت  ہی نہیں  دیتے جس کے وہ حق دار ہیں۔ ہم دولت مند کے قدموں میں بیٹھنا پسند کرلیں گے مگرایک...

رمضان المبارک اور بدنام شیطان

شیطان نے زنا تو نہیں کیا تھا،شراب تو نہیں پی تھی ڈاکہ تو نہیں ڈالا تھا چوری تو نہیں کی تھی ،ایک مسیحابن کر ڈاکٹر کے روپ میں انسانوں کے اعضاء تو فروخت تو نہیں کیے تھے ،سیاست دان بن کر عوام کی خدمت کا نعرہ لگا کر عوام کا خون تو نہیں پیا تھا ،ناپ تول میں کمی تو نہیں کی تھی ،اشیاء خودرنوش میں ملاوٹ تو نہیں کی تھی ،مولوی بن کر شریعت کا کاروبار تو نہیں کیا تھا ، خاوند کو باندھ کر اسکے سامنے اسکی بیوی کی ساتھ گینگ ریپ تو نہیں کیا تھا ،سگا باپ ،بھائی ہوکر اپنی ہی سگی بیٹی ،بہن کو جنسی حیوانیت کا نشانہ تو نہیں بنایا تھا ،ہم جنس پرستی تو نہیں کی تھی ،لوگوں کو کتے ،گدھوں ،چوہوں اور پتا نہیں کون کون سے حرام جانوروں کا گوشت تو نہیں کھلایا تھا ،قاضی بن کر پیسوں کی ہوس میں مجرموں کا ساتھ تو نہیں دیا تھا ،اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی گستاخی تو نہیں کی تھی ،بس صرف ایک کام کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انکار کرتے ہوئے حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہیں کیا تھااور اس کی پاداش میں ذلیل ورسوا ہوکر عرش بریں سے اسے نکلنا پڑا ۔ پہلی قوموں کی تباہی کسی ایک گناہ کی وجہ سے ہوئی اور اس ساری قوموں کے گناہ ہم میں پائے جاتے ہیں اس کے باوجود بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بے قصور اور بے گناہ لوگ ہیں ۔یقین کیجئے وہ تو رب تعالیٰ کا اپنے محبوب سے کیا ہوا وعدہ ہے کہ وہ حضرت محمدؐ کی امت پر مجموعی عذاب نازل نہیں کرے گا ورنہ آج ہماری داستان تک نہ ہوتی داستانوں میں ۔ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ گزر چکا ہے یقین کیجئے کہ ساٹھ روپے کلو بکنے والا خربوزہ سو روپے کلو ساٹھ روپے درجن والا کیلا ایک سو بیس درجن اور اسی روپے کلو والا سیب ایک سو پچاس روپے کلو آٹا ،چینی نایاب ۔یہودی،نصرانی ،ہندو ،سکھ اپنے مذہبی تہواروں پر اشیا سستی کردیتے ہیں اور ہم مسلمان بیس روپے کلو والا ٹماٹر ساٹھ روپے کلو کرکے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب پتا نہیں کیوں آتے ہیں؟ ایک حضرت نے ذخیرہ اندوزی کرکے لاکھوں روپے کمایا پھر انہی پیسوں سے عمرہ وحج کیا ،حاجی صاحب بنے ایک عالی شان گھر بنوایا اور گھر کے باہر موٹے حروف میں لکھوایا ’’ہذامن فضل ربی‘‘چند عالی شان افطار پارٹیاںدیں بلیک منی کو وائٹ کیا اور بن گئے ایک معزز بزنس مین ۔یقین کریں شیطان بھی کبھی کبھی یہ سوچتا ہوگا کہ اتنے گناہ تو اس نے بھی نہیں کیے ہیں جس قدر آج اس پر تھوپے جارہے ہیں ۔ سچ تو یہ ہیں کہ شیطان تو ویسے ہی بدنام ہو رہا ہے وہ کونسا گناہ ہے جو ہم نہیں کرتے ،شیطان نے تو صرف ایک کام سے انکار کیا تھا ہم تو آج اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہی منکر ہوچکے ہیں اس نے ایک سجدہ نہیں کیا تھا تو قیامت تک رسواء ہوگیا اور ہم سالوں سے سجدہ نہیں کررہے ہیں اور اکڑتے ہیں کہ رب ہمارا...

عہد حاضر کا نوجوان

    نوجوان طبقہ کسی بھی قوم کا ایک قیمتی سرمایہ ہوتا ہے جو خیر و بھلائی کے کاموں، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کی ترقی اور خوش حال معاشرے کا قیام تعلیم یافتہ نوجوانوں سے ہی ممکن ہے۔ اگر یہی نوجوان درست سمت پر نہ چلیں تو معاشرہ اور قوم شر و فساد کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔       نوجوان نسل امت کی امید، معاشرے کا سرمایہ، مستقبل کا سہارا اور قومی کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں، تاریخ کا مطالعہ کریں تو جہاں بھی انقلاب آیا وہاں اس قوم کے نوجوانوں کا اہم کردار رہا . مگر عہد حاضر کا نوجوان اپنے وجود سے اپنی ذمہ داری سے ناآشنا ہے۔    عہد حاضر کا نوجوان تعلیم کی بجائے منشیات کی لعنت کا شکار ہے ، عورتوں کا محافظ نوجوان جنسی تسکین کے لیے ان کی عزتیں دبوچ رہا ہے ، جائیدار کے لیے ماں باپ ، بہن بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتا ، مسکراہٹیں بکھیرنے کی بجائے موت کا سامان یعنی منشیات کو فروخت کر رہا ، بیوی کی رضامندی کے لیے ماں باپ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ، غریبوں و مسکینوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے فحش زدہ پروگرامات اور سیاسی لیڈروں پر خرچ کر رہا ، محکوم  کی آواز بننے کی بجائے ان کی آواز کو دبوچ رہا ، اپنی زبان و ثقافت کو ترجیح دینے کی بجائے مغربی فحش زدہ تہذیب و ثقافت ک فروغ دے رہا ۔    عہد حاضر کا نوجوان اپنے اندر تعصب اور فرقہ پرستی لیے گھوم رہا اس کے خون میں تعصب اور فرقہ پرستی تیزی سے بہہ رہی آہ ! یہ نوجوان نسل جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں آج وہ فحش و عریانی کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ نوجوان طبقہ تعلیم حاصل کر کے بھی اخلاقیات سے محروم ہیں . آخر یہ زوال پذیری کب تک رہے گی ؟      جب ہم اسلامی اقداروں کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب و ثقافت کو اپنائیں گے تو نتائج یہی ہوں گے۔  اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے مگر آج ہماری نوجوان نسل اس سے دور ہے وہ تعلیم کو روزگار کے لیے حاصل کر رہی ، کسی غریب کی مدد لوگوں کی نظر میں شان شوکت بنانے کے لیے کر رہا، نماز دھکاوے کے لیے پڑھ رہا ، پڑوسی کو ووٹ کے لیے استعمال کر رہا غرض یہ کہ ہر جانب اپنا مفاد دیکھ رہا ۔    نوجوان نسل سے گزارش کروں گا اپنے وجود کو سمجھیں اس دنیا میں آپ کو بےمقصد نہیں بھیجا گیا ایک خاص مقصد تھا جس سے ہم ناآشنا ہیں .امت مسلمہ کو دوبارہ عروج کی جانب نوجوان نسل ہی لے جا سکتے ہیں یہ سب تب ہی ہو گا جب ہم اپنے مفاد کو ترک کریں کسی دوسرے کے حققوق کو غضب نہ کریں سوشل میڈیا کا استعمال مثبت کریں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔  ورنہ یہ زوال ہمیں ختم کر دے گا۔  اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔

آئیں رشتوں کو محفوظ کریں

رشتوں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے۔ اس میں صرف عورت ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ مرد بھی برابر کا شریک ہے۔  کیونکہ جب اللہ نے مرد کوکفیل بنایا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ  کفالت کے ساتھ ساتھ اپنے ان حقوق وفرائض کا بھی خیال رکھے جو اس پر اسی اللہ نے عائد کئے ہیں  جس نے اسے عورت کا محافظ بنایا ہے۔ ہر مرد کو یہ بات تو اچھی طرح یاد رہتی ہے کہ وہ عورت کا قوام ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ اسے یہ برتری کس وجہ سے دی گئی ہے۔ اگر فیملی میں کسی سے کوئی اختلاف ہوجاتا ہے تو زیادہ تر باپ ،شوہر ، بھائی یا بیٹا گھر کی عورتوں پر پابندی  عائد کردیتا ہے کہ وہ بھی اس سے کوئی تعلق نہ رکھے ۔ جس کی وجہ سے وہ رشتہ اور کمزور ہوجاتا ہے اور غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں۔   اسی طرح اگر عورت کو کسی پر غصہ آجائے تو یہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر بھی اس سے نہ ملے  چاہے وہ اس کی ماں ہی کیوں نہ ہو  اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو میاں بیوی کے آپس کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ یہی وہ بنیادی خرابی ہے جو  نہ صرف ایک خاندان کا توازن بگاڑنے کا سبب بنا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بدنظمی پھیلانے اور برائیوں کو پھلنے پھولنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ۔ کیونکہ ہم برائی کرنے والے کو تو نشانہ بنالیتے ہیں مگر برائی کرنے کی وجہ جاننے یا اسے ختم کرنے کی نہ تو کوشش کرتے ہیں اور نہ اس کار خیر کو کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی وہ سچ ہے جس کو قبول کرنے سے ہم ڈرتے ہیں اوراس   حقیقت سے آنکھیں چرانا ایسا ہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر یہ سوچ کر اپنی آنکھیں بند کرلےکہ وہ بلی سے بچ جائے گا یا شطر مرغ کسی خطرے کو دیکھ کر ریت میں منہ چھپاکر یہ سمجھ لے کہ خطرہ ٹل جائے گا اور وہ بچ جائے گا تو یہ عقلمندی یا ہوشیاری نہیں ہے بلکہ بیوقوفی اور حماقت ہے۔ ہمارے معاشرے کے افراد بھی ایسے ہی طرز عمل کو اختیار کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں کے نہ تو ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ان کو ختم کرنا ہمارے اختیار میں ہے ۔ اگر دنیا کا نظام اسی تصور کے ساتھ چلتا تو آج نہ تو اسلام کی روشنی ہم تک پہنچتی اور نہ اللہ کی وحدانیت کا تصور ہمیں ایک اللہ کی عبادت کرنے والا بناتا۔رشتوں کو جوڑنا مرد اور عورت  دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔  رشتوں  اور محبتوں کو قائم رکھنے کےلئے ضروری ہےکہ چند باتوں لپیٹ کاخیال رکھیں۔ جب کوئی ایک شخص غصہ میں ہو تو دوسرے کو تحمل کے ساتھ معاملے کو سنبھالنا چائیے تاکہ رشتوں میں کوئی تلخی پیدا نہ ہو۔ کیونکہ بعض اوقات بہت چھوٹی سی غلط فہمی بہت بڑے فساد  کا سبب بن جاتی...

عنوان: 2021 نفاذ اردو کا سال

پاکستان کو اللہ نے جہاں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے وہیں ایک نعمت قومی زبان اردو بھی ہے. اردو میں فارسی عربی ترکی کے الفاظ موجود ہیں اور اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ دنیا پھر میں بولی جاتی ہے اور  1999ء  کی مردم شماری کے مطابق دس کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کہ نویں بڑی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے۔  اردو زبان میں فارسی کا کافی رنگ نظر آتا ہے جس کہ وجہ یہ ہے کہ محمود غزنوی کے دور سے لے کر مغل بادشاہوں کے دور تک اسے دفتری زبان کا درجہ حاصل رہا. برصغیر پر برطانوی تسلط کے بعد انگریزی کو دفتری زبان بنا دیا گیا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ابھی تک غلامی کا طوق گلے میں ڈالے انگریزی کو ہی پوجتے آ رہے ہیں جو کہ غلام زدہ قوم کی نشانی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے اور اسی زبان کو تعلیم و تعلم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ہم سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں قومی زبان کی بجائے فرنگی زبان کو تریح دیتے ہوئے اسے تعلیم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بیوی کے پاؤں تلے زمین نکل گئی. . ..  مزید پڑھیے : رانگ نمبر  اسی قومی زبان اردو کے بارے پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ " پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے اور یہ آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر ملک میں رائج ہو جانی چاہئیے". پاکستان کا آئین 1973 میں رائج ہوگیا لہذا اصولً 1988 تک اردو کو مکمل طور پر پاکستان میں ہر شعبہ میں رائج ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اتنے لمبے عرصے میں ہمارے حکمران اردو کو مکمل طور پر رائج کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں. ایک بڑی وجہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کی حکمرانی ہے جو اپنی اولادوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہیں اور وطن واپسی پر پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے. یوں یہ انگریزی زبان میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے بابو جن کو اردو ٹھیک طرح سے بولنا نہیں آتی اور الفاظ کا حلیہ بگاڑ کر بولتے ہیں وہ ان افراد پر حکمرانی کرتے ہیں جو ان سے ہزار گنا زیادہ قابلیت رکھتے ہیں۔  ہمارے ہاں انگریزی کو اعلی معیارِ زندگی کے نشان کے طور سمجھا جاتا یے. حالانکہ تمام ترقی یافتہ اقوام بشمول چائنہ کوریا وغیرہ نے اپنی زبان میں ترقی کی ہے.ہم کم انگریزی جاننے اور بولنے والے افراد کو جاہل قرار دیتے ہیں. لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ قاصد علی رحمن جو کہ صرف پانچ جماعتیں پڑھے ہیں اور ایک کتاب کہ مصنف ہیں وہ خود کو ان پڑھ کہتے ہیں. جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں انگریزی نہیں جانتا اسی لئے دوسروں کی نظر میں ان...

ہمارے بلاگرز