جشنِ آزادی یا دکھاوا

158

ہم سب جانتے ہیں 14 اگست جشنِ آزادی کا دن ہے جس دن پاکستان وجود میں آیا۔۔ ہم سب بڑے اہتمام سے اس دن کی تیاری کیا کرتے ہیں ہر گلی ہر محلے ہر گھر کو اپنے اپبے انداز سے سجانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچے ہوں بوڑھے ہوں یا خواتین۔ سب میں انتہائی جوش و خروش پایا جاتا ہے اور کیوں نہ ہو یہ جوش و خروش ہر مُحبِ وطن کا حق بھی ہے اور پاک وطن سے محبت کا اظہار بھی۔۔
لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ آزادی کا جشن جس انداز سے ہم منارہے ہیں اس وطن کو ہمارے آباء و اجداد نے اپنا خون دے کر حاصل کیا اپنے بھرے گھروں کو لُٹا کر حاصل کیا ہے۔۔
کیا کبھی ہم نے ان شہداء کے خاندانوں کے درد کے بارے میں سوچا ہے کے ان خاندانوں پہ کیا گزرتی ہوگی؟
اس جشن کو اس طرح منا کے ہم سب کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کتنے مُحبِ وطن ہیں؟
اگر مُحبِ وطن ہوتے تو اپنے وطن میں آج سرِعام لوٹ مار نہ کر رہے ہوتے ایک دوسرے کا قتل نہ کر رہے ہوتے۔
اگر وطن کی محبت ہوتی تو وطن کے ہر ایک انسان سے محبت کرتے۔۔۔ آج کسی انسان کا ایکسیڈینٹ ہوجاتا ہے تو لوگ اس کے قریب تک نہیں جاتے ہسپتال لے جانا تو دور لوگ اس مرتے سِسکتے انسان کی ویڈیو بنارہے ہوتے ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے یہ ہے ہماری پہچان!!
یہاں جشنِ آزادی کے نام پر صرف شور شرابا ایک ایونٹ گھر سے باہر نکلنے کا۔ سڑکوں پہ رش لگانے کا ٹریفک جام کرنیکا نام ہے۔۔ اس بات سے بے خبر کے جانے کتنی زندگیاں اس ٹریفک جام میں پھنس کر ہسپتال تک نہیں پہنچ پاتیں اور دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔لیکن ہم جشن میں مصروف رہتے ہیں کیونکہ ہم مُحبِ وطن جو ہیں (خود ساختہ)۔۔۔۔
افسوس صد افسوس!!!
چلیں اب دوسری طرف آجائیں 14 اگست سے ایک دن پہلے ملک کے بچے بڑے اپنی اپنی موٹر سائیکل کے سائیلینسر نکال کر ایک ایک بائیک پر چار چار لڑکے بیٹھ کر ٹولیوں کی صورت میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔۔ نہ ہی یہ احساس ہوتا ہے کے ان کی بائیک کے پھٹے سائیلینسر کی آواز سے محلے پڑوس میں کوئی بیمار ہے بلڈ پریشر کا مریض ہے دل کا مریض ہے۔ یا کوئی سر درد میں مبتلا ہے ان گاڑیوں کے سائیلینسر اور ہارن کے شور سے اس پر کیا گزرتی ہے؟
ہے کسی کو یہ فکر؟۔۔۔ نہیں ۔
پھر بھی ہم کہتے ہیں اسلامی ملک ہے ہم مسلمان ہیں ارے مسلمان کا کام ہی نہیں ہے کے ایک مسلم دوسرے مسلم کو اپنی فضولیات سے پریشان کرے۔
یہ سلسلہ 13 اگست سے شروع ہوکر 14 اگست کی رات کہیں جا کر ختم ہوتا ہے۔
اور اس جشن آزادی کے نام پر عوام جتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں، ہم سوچ بھی نہیں سکتے پاکستان زندہ باد کے چھوٹے بڑے جھنڈے بنا کر بیچے جاتے ہیں اور بیچنے والا ہزاروں روپے کماتا ہے۔۔۔ لڑکیوں کے نئے کپڑے سلتے ہیں ہاتھوں میں بینڈز ہری چوڑیاں۔۔ لڑکوں کی ٹی شرٹس بچوں کے شرٹس کیپ اور جانے کیا کیا بیچنے والے بیچتے ہیں اور خریدنے والے خریدتے ہیں۔
میں سوچتی ہوں کیا ہم یہ آزادی کا دن پُرسکون طریقے سے فالتو پیسہ خرچ کئے بغیر نہیں منا سکتے؟؟؟
ضرور مناسکتے ہیں اور ثواب بھی کماسکتے ہیں ان شہداء کی یاد میں جشنِ آزادی کی تقریبات اس طرح منعقد کریں کے ”میلادالنبی ﷺ” جیسی تقریبات منعقد کریں کسی بڑی شاہراہ پہ جہاں سب پاکستانی ماں بہنیں بوڑھے جوان بچے جمع ہوکر اپنی ملک سے عقیدت کا اظہار بھی کریں اور شہداء کو ثواب بھی پہنچائیں انھیں دعائوں میں یاد بھی رکھیں اور سب سے زیادہ ” مقصدِ قیامِ پاکستان” پر روشنی ڈالی جائے تقاریر کے ذریعے ڈراموں کے ذریعے اور ہم عزم و عہدِ نَو کریں کہ مقصد کے حصول کے لئے اپنا تن من دھن لگا دیں گے جب تک کہ علامہ اقبال کے خوابوں کا پاکستان وجود میں نہ آ جائے۔۔۔
آئوایک نیا ہم عزم کریں
آزاد وطن تعمیر کریں
لیکن نہیں ہمارے شہری سڑکوں پہ نکل کھڑے ہوتے ہیں نتیجہ یہ کے روڈ بلاک ٹریفک جام۔۔ اپنی ماں بہنوں کو اگر کوئی غلطی سے لے کر باہر نکل آیا ہے تو ان کے ساتھ بد سلوکی،ہوٹنگ ، ہنسی مذاق، کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔۔۔ یہ سب جشنِ آزادی کا مقصد تو بالکل بھی نہیں. عقل حیران ہے ایسی قوم پر ان اطوار پر، ان کی سوچ پر ۔
مگر افسوس کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ بیٹا اگر اتنی محبت ہے وطن سے تو کچھ کر کے دکھا? وطن عزیز کے لئے ملی نغمے چلا کہ اس پہ ناچنے سے یا پرچم لے کر تماشہ لگانے سے مُحبِ وطن نہیں بن جاتا انسان۔۔۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں اور اپنے طریقہ کار کو بدلیں اس ملک کی قوم کی حفاظت خود کریں سارا کام حکومت کا نہیں ہے ہم عوام بھی اپنے ملک و قوم کے لئے اسی پیسے سے بہت سے گھر آباد کرسکتے ہیں۔۔
بہتے لہو میں سب تیرا مفہوم بہہ گیا
چودہ اگست صرف تیرا نام رہ گیا
(حبیب جالب)
جب 14 اگست کا دن ختم ہوتا ہے تو ہمارے ملک کا قومی پرچم لوگوں کے پیروں تلے روندا جارہا ہوتا ہے وہ اس صورت میں کے جو قومی پرچم بچے بڑے لے کر گھوم رہے ہوتے ہیں دو دن تک وہ جھنڈیاں، وہ پرچم زمیں پہ بکھرے اپنی بے حرمتی پر نوحہ کناں ہوتے ہیں۔ جشن ختم ہوچکا ہے۔۔۔
” جو قوم اپنے پرچم کی حفاظت نہیں کر سکتی وہ کبھی آزاد نہیں کہلاتی وہ اپنی سوچ کی غلام ہے وہ آزادی کے نشے میں مست ہے۔ اس آزادی کے نشے میں جو اس کو کبھی ملی ہی نہیں۔’’
ہمارے وطن کا ہماری قوم کا زوال وہیں سے شروع ہوتا ہے جب سبز ہلالی پرچم ہم اپنے ہاتھوں سے زمیں بوس کردیتے ہیں۔۔۔ آہ!!!
افسوس یہ تھا ہمارا جشنِ آزادی۔۔۔۔