!مسئلہ بی ٹیک آنرز اور ڈپلومہ ہولڈرز کا

391

 وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بیچلرز انجینئر (بی ای) ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ انجینئرز کے درمیان تفریق کرنے پر یقین رکھتے تھے اور ہیں۔ یہ بات اس لیے یقین کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ انہوں نے سندھ اسمبلی میں ارکان کو واضح کیا کہ ڈپلومہ ہولڈرز اور بی ٹیک انجینئرز کو عدالت عظمیٰ کے حکم پر تمام محکموں سے ہٹایا جارہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا ڈپلومہ ہولڈرز اور بی ٹیک انجینئرز کے حوالے سے حکم میں ابہام کی بازگشت عام ہے۔ اس حکم سے متاثر ہونے والوں کا کہنا ہے کہ عدالت نے کسی انجینئر کو موجودہ پوزیشن سے ہٹانے کا حکم نہیں دیا۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ سندھ میں اس حکم کا بہانہ بنا کر صوبہ بھر کے تمام بلدیاتی، انجینئرنگ سمیت سب ہی سرکاری اداروں سے بی ٹیک آنرز اور ڈپلومہ ہولڈرز انجینئر جو اب 17، 18، 19 اور 20 گریڈز میں پہنچ چکے ہیں انہیں موجودہ اسامیوں سے ہٹایا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے مذکورہ محکموں میں انجینئرز کی قلت پیدا ہوچکی ہے جبکہ ایسے تمام متاثرہ انجینئروں میں تشویش پائی جاتی ہے انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔
ملک بھر میں بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز ایسوسی ایٹ اور دیگر انجینئرز کی تعداد کم و بیش پانچ لاکھ بتائی جاتی ہے جن میں 23 ہزار سے زائد سرکاری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے پاکستان انجینئرنگ کونسل سے پروفیشنل انجینئرز کی تعریف پوچھنے کے بعد یہ حکم دیا تھا کہ پروفیشنل انجینئرز کی گریڈ 17 تا 20 کی اسامی پر کسی ایسے شخص کو تعینات نہ کیا جائے جو پاکستان انجینئرنگ کونسل سے منظور شدہ یا اس کا لائسنس نہیں رکھتا۔ لیکن سندھ حکومت نے تمام محکموں میں خدمات انجام دینے والے بی ٹیک آنرز اور ڈپلومہ ہولڈرز کو موجودہ اسامیوں سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔ کے ایم سی سمیت بلدیاتی اداروں میں ایسے تمام انجینئرز کو محکمہ ایڈمنسٹریشن میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ڈپلومہ اور بی ٹیک کی تعلیم حکومت کے منظور شدہ قوانین کے تحت مختلف ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ سے طلبہ و طالبات حاصل کرتے ہیں اس مقصد کے لیے گورنمنٹ اور نجی اداروں میں فیس بھی مقرر ہے۔ ڈپلومہ میٹرک کے بعد تین سالہ کورس ہوتا جس کے تحت ڈپلومہ ہولڈر کی سند ملتی ہے جبکہ ڈپلومہ کے بعد بی ٹیک آنرز کیا جاتا یا کرایا جاتا ہے۔ سندھ گورنمنٹ کے اپنے ٹیکنالوجی کالج بھی قائم ہیں جبکہ ٹیکنکل تعلیم کے لیے مذکورہ تمام انسٹی ٹیوٹ کا کنٹرول سندھ گورنمنٹ کے ادارے سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے ہاتھ میں ہے۔ سندھ میں عدالت عظمیٰ کے حکم کی آڑ میں بی ٹیک آنرز اور ڈپلومہ ہولڈرز کو ان کے اپنے پیشوں میں محدود کرنے کے مترادف ہے۔ جبکہ ساتھ ہی ان فنی تعلیم و تربیت کو ایک دوسرے انجینئرنگ کے اداروں اور یونیورسٹیوں سے کمتر ظاہر کرنے کے مساوی بھی ہے۔ یہ عمل لاکھوں ڈپلومہ ہولڈرز اور بی ٹیک انرز کرکے اسناد رکھنے والے انجینئرز اور اس کے طالب علموں کی دل آزاری کے مترادف بھی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے اگر اسے فوری روکا نہ گیا تو اس کے اثرات لاکھوں افراد کی بیروزگاری کے ساتھ فنی تربیت فراہم کرنے اور ان کی نگرانی کرنے والی ارتھارٹیز کی موجودگی اور ان کے قیام پر بھی سوال کا باعث ہوگا۔
خیال رہے کہ بی ٹیک پروگرام کا باقاعدہ آغاز 1973 میں کیا گیا تھا اور اس وقت کی وزارت تعلیم کے خط نمبر 15-29 / 73- کے مطابق بی ایس سی انجینئرنگ / بی ای کی ڈگری کے برابر بی ٹیک (آنرز) کی ڈگری دینے کی ہدایت کی تھی۔ بعد ازاں لیٹر نمبر پی ای سی /–پی / کیو ای سی کے مطابق ، پی ای سی نے کہا ہے کہ بی ٹیک کی ڈگری کو بی ایس سی / بی ای کے برابر سمجھا جائے گا اور یہی فیصلہ کوئٹہ میں 1986 میں 39 ویں ایچ ای سی میں نویں بین الصوبائی وزرا کانفرنس میں کیا گیا تھا۔ 12 فروری 1998 کو ایف پی ایس سی نے اپنے خط نمبر F4-89 / 2002-R کے تحت اب پی ای سی ان کی حیثیت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
بی ٹیک آنرز کو لے کر چلنے والے شیخ جاوید نے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) بھی براہ راست بی ٹیک ڈگری ہولڈرز کا تقرر نہیں کررہا۔ بی ٹیک کی قابلیت رکھنے والے تکنیکی ماہرین نے عدالتوں میں متعدد مقدمات دائر کیے ہیں اور ان کے حق میں 17 فیصلے لیے ہیں، انہوں نے ڈگری کو بی ایس سی / بی ای کے برابر قرار دیا ہے لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نافذ نہیں ہوسکا۔ 1993 کے سو موٹو ریویو پٹیشن نمبر 52 میں عدالت عظمیٰ کے فل بینچ نے 05 جون 1995 کو بی ٹیک (آنرز) (پی ایل ڈی 1995 ایس سی 701) کے حق میں اپنا فیصلہ دیا، جس میں پی ای سی کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا۔ لیکن، پی ای سی نے 2004-05 میں پیشہ ورانہ انجینئرنگ کے کام کی نئی شقوں اور تعریف اور سیکشن 27 کے سیکشن 5 اے کو شامل کرکے ان ترامیم کا انتظام کیا، تاکہ خدمت کے معاملات میں مداخلت کرنے اور پروموشن چینلز کو روکنے کے لیے عدالت عظمیٰ کے فل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے ایک خط کے ذریعہ بی ایس سی / بی ای کے برابر بی ٹیک (آنرز) کا درجہ قبول کرلیا اور فارغ التحصیل افراد کو مساویانہ سرٹیفکیٹ جاری کرنا شروع کیا لیکن سرکاری محکموں نے ان کو ملازمت دینے سے انکار کردیا۔ عام خیال یہ ہے کہ ہمارا ملک مزید بیروزگاری اور افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے ہر معاملے میں حکومت اور حکمرانوں کو سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا چاہیے۔ عدالتیں قوانین کے مطابق فیصلے دیا کرتی ہیں اگر قوانین نہیں ہے یا ان میں ابہام ہے تو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو چاہیے کہ وہ ایوانوں میں نئی قانون سازی کرے اور قوانین میں ترمیم کرائے یا نئے قانون بنائے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ جماعت اسلامی سینیٹر محمد مشتاق اور متحدہ کے بیرسٹر سیف نے بی ٹیک انرز اور ڈپلومہ ہولڈرز کا مسئلہ سینیٹ میں اٹھایا ہے جسے مزید کارروائی کے لیے چیئرمین سینیٹ نے اسٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کردیا ہے۔