وکیل نعمت علی رندھاوا قتل کیس ،مجسٹریٹ کا بیان قلمبند

32

کراچی(نمائندہ جسارت)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقتول صحافی ولی خان بابر کے وکیل نعمت علی رندھاوا کے قتل کا معاملہ،عدالت نے سماعت 15جون تک ملتوی کردی ،سماعت کے موقع پر جیل حکام نے یونٹ 178 ایم کیو ایم کے کارکن کاظم عباس رضوی اور نعمان کوعدالت میں پیش کیا ،سابق جوڈیشل مجسٹریٹ علی اکبر نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ 3 مئی کو میں جوڈیشل مجسٹریٹ سینٹرل تعینات تھا،تفتیشی افسر نعیم نے ملزم کاظم عباس کی شناخت پریڈ کی درخواست جمع کرائی،جس پر میں نے شناخت پریڈ کی درخواست منظور کرلی،میرے سامنے ملزم کاظم عباس کی شناخت پریڈ ہوئی،گواہ نے
ملزم کو شناخت کیا۔ آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلا بیان پر جرح کرینگے۔ عدالت نے مقدمے میں ایم کیو ایم کے 3 مفرور دہشت گردوں عزیز اللہ، عبداللہ عرف دانش، غفران عرف سندھی کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان نے ستمبر 2013 ء میں نارتھ ناظم آباد میں نعمت علی رندھاوا کو فائرنگ کرکے قتل کیا،فائرنگ سے مقتول کا بیٹا توقیر رندھاوا بھی زخمی ہوا۔
رندھاوا قتل کیس