روپے کی قدر میں کھٹنے سے ملکی مجموعی پیداوار میں 13 فیصد کمی

20

کراچی(اسٹاف رپورٹر)گزشتہ روز جاری ہونے والے اقتصادی سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں روپے کی قدر میں بتدریج کمی کے ساتھ پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے ملکی مجموعی پیداوار میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی جس کی وجہ سے مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) انڈیکس 19-2018، گذشتہ 10 سال کی سب سے کم سطح پر پہنچ گیا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومت نے اقتصادی سروے کی دستاویزات جاری کیے جس میں ذراعت کے شعبے کی ناقص کارکردگی، بجلی کی کمی، عالمی منڈیوں میں مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور گھریلو صارفین کی سامان طلبی میں کمی بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی ترقی میں کمی کا سب سے بڑی وجہ بنی۔اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی اخراجات میں کمی اور لوگوں کی پائیدار اشیا کے استعمال میں کمی کا اثر بھی اس شعبے کی کارکردگی پر دکھائی دیتا ہے۔مذکورہ شعبے کا حصہ ملکی مجموعی پیداوار میں 13.5 فیصد سے 13.8 فیصد تک ہوتا ہے اور وہ مجموعی طور پر ملک کے معاشی اہداف میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔تاہم گذشتہ برس جولائی سے لے کر رواں برس مارچ تک ایل ایس ایم میں تقریباً 2 فیصد تک منفی رجحان دیکھا گیا جبکہ گذشتہ مالی سال کے دوران اسی دورانیے میں یہ شعبہ 6.33 فیصد ترقی کرتا دکھائی دیا۔اسی طرح اس میں کمی کی ایک وجہ آٹو موبائل شعبہ بھی ہے جس کی ترقی منفی اشاریے بتارہی ہے۔گذشتہ سال کے دوران کمپنیوں کی جانب سے اپنی گاڑیوں کی قیمت میں وقفے وقفے سے اضافہ کیا گیا جس کی وجہ روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکس نادہندہ گان پر گاڑی خریدنے پر پابندی ہے۔بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں ٹیکسٹائل کی پرفارمنس دباؤ کا شکار رہی جس کی ترقی کی شرح 0.3 فیصد رہی جبکہ گذشتہ مالی سال اسی دورانیے میں 0.5 فیصد تھی جس کی بڑی وجہ سے کپاس سوت اور کپڑوں کے ذیلی شعبوں کی مایوس کن کارکردگی ہے۔کھانے، مشروبات اور تمباکو کے شعبے کی ترقی میں 4.7 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جس کی بڑی وجہ چینی کی پیداوار میں نمایاں کمی تھی جبکہ گذشتہ چند برسوں کے دوران گنے کی پیداوار میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔رواں برس چینی کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی جس کی وجہ سے اس صنعت کی ترقی مسائل کا شکار رہی۔ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر درآمد کی جانے والی اور بنائی جانے والی سگریٹ پر پابندی کی وجہ سے اس شعبے میں اشاریے مثبت رہے۔پیڑولیم اور کوک مصنوعات کی پیداوار میں 6 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی جس کی بڑی وجہ سے ملک میں بجلی بنانے کے لیے فرنس آئل کا استعمال میں کمی ہے۔فرنس آئل کی پیداوار میں تو 11.1 فیصد کی کمی ہوئی تاہم دیگر ایدھن، جیسے ایل پی جی کی پیداوار میں 27.7 فیصد اضافہ، ڈیزل کی پیداوار میں 32.7 فیصد اضافہ اور پیٹرول کی پیداوار میں 7.7 فیصد دیکھنے میں آیا۔غیر دھاتی معدنیات کی ترقی میں 4.7 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی جس کی بڑی وجہ سے سیمنٹ کی پیداوار میں 5.5 فیصد کمی ہے۔