مودی سے امید وابستہ کرنا سیاست میں ناپختگی کی علامت ہے‘ سفیان وحید

63

کراچی(پ ر) بھارت کے حالیہ انتخابات میں نریندر مودی کی کامیابی پاکستان سمیت اندرون بھارت بسنے والے مسلمانوں کے لیے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لئے خوش آئند نہیں ہے۔ یہ بات صحافی ر سفیان وحید صدیقی نے نریندر مودی کی الیکشن میں دوبارہ کامیابی پر اپنے تبصرے میںکہی۔ انہوں نے کہا کہ مودی سے امید وابستہ کرنا سیاست میں ناپختگی کی علامت ہے چاہے معاملہ بابری مسجد کا ہو، مقبوضہ کشمیر یا پھر بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کا ہو۔انہوںنے نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی پاکستان پر حملہ نہیں کر سکتا ہے کیونکہ ہماری دفاعی قوت مومن کی ہے دفاعی قوت ہے۔ البتہ یہ خدشہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی مخصوص حیثیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کو بے اثر کیا جائے اور انڈین صدارتی آرڈیننس کے غیر منصفانہ استعمال سے مقبوضہ کشمیر کو صوبے کی طرز پر ضم کرنے کی سازش کو تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ استصواب رائے ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی قرار دار کو انڈیا کسی بھی طرح بے اثر کرتا ہے تو پھر اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی قابض فورس کے انخلاء کو یقینی بنائیں ساتھ مقبوضہ کشمیرکے عوام کی آزادی کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے۔ سفیان وحید صدیقی نے کہا کہ دنیا اب مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز میں اپنی آواز ملا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے عوام برطانوی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ مقبوصہ کشمیر پر مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام روس سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی مظلوم کشمیر یوں پر انڈین فورسز کے مظالم کی مخالفت کرے اور اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھارت پر مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے دبائو ڈالے۔