سندھ اسمبلی ،مشرف دور کا پولیس آرڈر کرنے کابل منظور ،اپوزیشن کا احتجاج

84

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں پرویز مشرف دور کا پولیس آرڈر 2002ء بحال کرنے کا بل منظور،اپوزیشن کا نئے پولیس قانون کے خلاف سخت احتجاج ، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں،ایوان سے واک آؤٹ۔سندھ اسمبلی نے پولیس آرڈر 2002ء بحال کرنے کا بل منظور کرلیا ،متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے)اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)نے بل کی حمایت کی جبکہ ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے ارکان نے سلیکٹ کمیٹی کے مسودے پر دستخط نہیں کیے۔ اپوزیشن احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرگئی۔اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چائولہ کی جانب سے پیش کردہ بل کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو اپوزیشن اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کرگئی۔اپوزیشن ارکان نے پولیس آرڈر 2002 ء بحالی بل کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں نعرے لگائے اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نے دھرنا دیا جس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے۔حزب اختلاف کی غیر موجودگی میں سندھ حکومت نے بل کو منظور کرالیا۔ پولیس آرڈر 2002 ء بحالی بل اب توثیق کے لیے گورنر سندھ کوبھیجا جائے گا۔ مکیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد بل پیش کیا اس کے باوجود وہ بائیکاٹ کرگئی یہ لوگ اصل میں بھاگنا چاہتے ہیں۔شہریار مہر نے کہا کہ پولیس ایکٹ غیرقانونی اور غیرآئینی ہے، میں حکومت کو مبارک دیتا ہوں آج ایک آمر کا قانون بحال کیا ہے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں ڈکٹیٹرشپ ہے، نیب زدہ اسپیکر کو شرم نہیں آتی، اسمبلی قواعد وضوابط کے خلاف چلائی جارہی ہے، اگر غیرت ہوتی تو اسپیکر کا عہدہ چھوڑ کر جاتے۔42 صفحات پرمشتمل پولیس آرڈر2002ء بحالی بل میں 190 شقیں شامل ہیں جن کے تحت پولیس کو مصدقہ اطلاع پر بغیر وارنٹ چھاپہ مارنے کا اختیار حاصل ہوگا، سندھ پولیس میں بھرتی کا طریقہ کار بھی صوبائی حکومت طے کرے گی اور ایڈیشنل آئی جیز و ڈی آئی جیز کی تعیناتی کی مجاز ہوگی،ڈی آئی جی و ایس ایس پی سطح کے افسران کے تقررکاا ختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا۔نئے قانون کے تحت صوبائی حکومت آئی جی پولیس کی مشاورت سے ایڈیشنل آئی جیز ڈی آئی جیز کا تقرر کرے گی، ضلعی پولیس افسر بلدیاتی کونسل کے چیئرمین اور ڈپٹی کمشنر سے مشاورت کاپابندہوگا،صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن تحریری وجوہات پر آئی جی کی خدمات وفاق کو واپس کرنے کے لیے سندھ حکومت کوسفارشات دے سکے گا جب کہ اے ایس آئی سے لے کر ڈی ایس پی تک کی اسامیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پْر کی جائیں گی۔علاوہ ازیں جیل اصلاحات سے متعلق سندھ اسمبلی کا منظور شدہ بل محکمہ قانون کے حوالے کر دیا گیا، محکمہ قانون بل کی منظوری کے لیے اسے گورنر سندھ کو ارسال کرے گا۔