پاکستان اور جماعت اسلامی پاکستان (۱۹۴۷ء تا ۱۹۵۰ء) (باب ہفتم )

72

محمود عالم صدیقی
جماعت اسلامی پاکستان
۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو قیام پاکستان کے ساتھ ہی جماعت اسلامی کو جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان میں منقسم کردیا گیا۔ تقسیم کے وقت متحدہ ہندوستان میں جماعت اسلامی کے ارکان کی تعداد ۶۲۵ تھی۔ تقسیم جماعت کی صورت میں ۲۴۰ ارکان ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر میں رہ گئے‘ جبکہ ۳۸۵ ارکان جماعت اسلامی پاکستان کے حصے میں آئے۔ ان میں سے کچھ تو پہلے ہی سے پاکستانی علاقوں میں موجود تھے اور کچھ ہندوستان سے ترک وطن کرکے پاکستان آگئے۔ مولانا مودودیؒ نے ہجرت کرکے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا‘ اس طرح وہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر بن گئے۔ پاکستان میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں لاہور‘ کراچی‘ پشاور‘ سیالکوٹ‘ سرگودھا‘ لائل پور (فیصل آباد)‘ چنیوٹ اور ملتان میں جماعت کے تقریباً ۷۰۰ ارکان اور ہمدردوں نے پناہ گزینوں کی خدمات کا کام کیا۔
امیر جماعت اسلامی سید مودودیؒ اپنے رفقا کے ہمراہ دار الاسلام ( پٹھان کوٹ) سے ہجرت کرکے ۳۰؍اگست ۱۹۴۷ء کو لاہور پہنچے اور سوہن لال کالج کی عمارت (واقع لیک روڈ) میں مقیم ہوئے۔ امیر جماعت نے مہاجرین کی بکثرت آمد اور مسائل کے پیش نظر فوری طور پر شوریٰ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت محسوس کی۔ مخدوش حالات کے سبب صرف لاہور میں مقیم شوریٰ کے ارکان کو مدعو کیا گیا۔ یہ اجلاس ۸؍ستمبر کو منعقد ہوا جس میں امیر جماعت کے علاوہ مولانا مسعود عالم ندویؒ‘ محمد عبدالجبار غازی‘ ملک نصر اللہ خاں عزیز‘ چودھری علی احمد خاں اور میاںطفیل محمد شریک ہوئے۔ صورت حال بہت سنگین تھی روزانہ ہزاروں مسلمان مہاجرین لاہور آرہے تھے۔ شہر لاہور کی صفائی مہینوں سے معطل تھی۔ ہر جگہ غلاظت اور لاشیں پڑی تھیں‘ تعفن اور گندگی کی وجہ سے بازاروں اور سڑکوں سے گزرنا محال ہورہا تھا‘ ہیضے کے واقعات ہورہے تھے۔ چنانچہ مہاجرین کے کیمپوں اور شہر میں صفائی کے کام کا فوری طور فیصلہ کیا گیا اور ۱۰؍ستمبر ۱۹۴۷ء کو کارکنان کا اجتماع منعقد ہوا۔
مہاجرین کے لیے جماعت اسلامی کی خدمات
پاکستان میں جماعت اسلامی کا پہلا اجتماع کارکنان ۱۰؍ ستمبر ۱۹۴۷ء کو سوہن لال کالج لاہور (موجودہ مدرستہ البنات اور کالج کلیتہ البنات‘ چوبرجی لاہور) میں منعقد ہوا۔ حاضرین کی تعداد ایک سو پچاس کے قریب تھی۔ اس اجتماع میں تقسیم ملک کے وقت اکثر مسلم اور غیر مسلم رہنماؤں کے سفاکانہ طرز عمل اور انسانیت کی تذلیل وتحقیر کے شرمناک اور افسوسناک اقدامات پر شدید اضطراب کا اظہار کیا گیا۔ طے ہوا کہ یہ عظیم مصیبت جس میں ہم سب مبتلا ہیں‘ انسانی خدمت کو اوّلین اہمیت دی جائے۔ چنانچہ امیر جماعت مولانا مودودیؒ اور قیم جماعت میاں طفیل محمد نے اوّلین اہمیت کے کاموں میں مہاجر کیمپ میں کام‘ لاہور شہر کی صفائی اور اصلاحی وطبی خدمات کو شامل کیا۔ ان امور کی انجام دہی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔
لاہور شہر کی صفائی کی علاقائی تفصیل
لاہور شہر میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی‘ لیکن اس آبادی کا ۸۰ فی صد حصہ مزدور پیشہ تھا۔ تمام تجارتی مراکز ہندوؤں کے ہاتھ میں تھے۔ اکبری منڈی‘ چوک رنگ محل‘ سوہا بازار‘ صرافہ بازار اور اندرون شاہ عالمی دروازہ جلا دیے گئے تھے یا مسمار ہوگئے تھے۔ اس لیے ان مقامات پر بہت زیادہ کام کرنا پڑا۔ باقی شہر میں اہم مقامات پر خدمات سرانجام دی گئیں۔
جہاں تک مہاجر کیمپوں میں جماعت اسلامی کے ساتھ سرکاری حکام کے تعاون کا تعلق ہے‘ اس باب میں منفی اور مثبت دونوں مثالیں دیکھنے میں آئیں۔ براہ راست سب سے زیادہ تعاون کمشنر بحالیات عطا محمد لغاری کی طرف سے ملا۔ وہ انتہائی سلیم الطبع اور نیک فطرت مسلمان تھے۔ اور جب انہوں نے دیانت اور خلوص کے ساتھ کام کرنے والے کارکنوں کو دیکھا تو جتنا تعاون کرسکتے تھے کیا۔
مہاجر کیمپوں میں جماعت اسلامی کی طرف سے یہ کام کن جذبات کے ساتھ کیا جارہا تھا اور اپنی ساری تنظیمی طاقت کے ساتھ یہ کام کرتے ہوئے تحریک اسلامی کی قیادت اور اس کے کارکنوں کے پیش نظر کیا تھا‘ اسے سمجھنے کے لیے آج بھی اس اپیل کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے جو امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے اس موقع پر جاری کی:
(جاری ہے)