جماعت اسلامی نے کراچی کو د وحصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز مسترد کردی

189

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کو 2 صوں(ڈویژن) میں تقسیم کرنے اور اضلاع کی تعداد6سے بڑھا کر 9کر نے کے حوالے سے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ کراچی کی 2 حصوں میں تقسیم کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگی، تقسیم کی کوششیں کراچی کے عوام کے مفادات کے بھی خلاف ہیں ۔ جس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بڑھیں گے ۔ کراچی میں 30سال سے زائد عرصے تک ایم کیو ایم کسی نہ کسی طورپر کراچی میں حکمران رہی ۔ یہ ایم کیو ایم کی نا اہلی ہی ہے کہ جس کے باعث پیپلز پارٹی کو یہ ہمت ہوئی کہ وہ کراچی کو تقسیم کر نے کی بات کر رہی ہے اور یہ اطلاعات اس وقت آرہی ہیں جب بلدیاتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں اور کراچی کو2 میئرز کے تحت چلانے کی تیاریاں کر کے کراچی کی میٹرو پولیٹن پوزیشن کو بھی ختم کیے جانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی منی پاکستان اور ملک کا سب سے بڑا شہر ہے ، کراچی ملک کی اقتصادی شہ رگ ہے لیکن آج تک اس شہر کو میٹرو پولیٹن اختیارات نہیں دیے گئے ۔ ایم کیو ایم شہر سے بھاری مینڈیٹ لینے کے باوجود شہر کے لیے کچھ نہیں کر سکی ۔ موجودہ بلدیاتی نظام میں ایم کیو ایم نے میئر کے اختیارات اور وسائل نہ ہونے کا واویلا تو مچایالیکنآج تک وہ اختیارات لے سکی نہ موجود اختیارات اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی بہتر کارکردگی دکھا سکی ۔ کراچی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی اپنی ترجیحات اور ایجنڈا ہے ۔ وہ کراچی کو تقسیم کر کے کراچی یا کراچی کے عوام کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ اپنے مفادات پورے کر نا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں جماعت اسلامی خاموش نہیں بیٹھے گی ۔ کراچی کے عوام اور کراچی کا مقدمہ ہر فورم پر لڑے گی اور عوام کے حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل کی جدو جہد ہمیشہ کی طرح جاری رکھے گی ۔