خطبات۔۔۔ ایک مطالعہ

87

خرم مرادؒ

مولانا (سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ) کے موضوعات کی گراں قدری، قوت اور وسعت یقینی طور پر بہت وقیع اور عمیق ہے۔ لیکن ہم بآسانی ایسی سات کڑیوں کا تذکرہ کرسکتے ہیں، جن کے درمیان انھوں نے دوبارہ ربط قائم کیا ہے:
*پہلی کڑی یہ ہے کہ وہ پوری کی پوری زندگی کا رشتہ ایمان کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔ ایمان زندگی کا ایسا مرکز بن جاتا ہے، جو خدا کی مکمل فرماں برداری سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ اس قسم کے ایمان کو ہم نے ایک عرصے سے واقعی زندگی سے غیرمتعلق بنا رکھا ہے۔
*دوسرے یہ کہ مولانا ہمارے ایمان اور عمل کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں اور اس طرح عمل کا ربط بھی زندگی سے قائم کر کے اس کا ایک اہم جْز بنا دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک بغیر اعمالِ صالح کے حقیقی ایمان ممکن ہی نہیں۔
*تیسرے یہ کہ وہ مراسم، یعنی ارکانِ خمسہ کا رشتہ بھی ایمان سے اس طرح قائم کرتے ہیں کہ جیسے ایمان بیج ہے، اور یہ پانچ ارکان لازماً اسی میں سے تنے کی صورت میں پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ اعمالِ صالحہ ایمان کے اسی بیج کی وہ شاخیں (شعب) ہیں جو عبادات کے تنے سے پھوٹ کر نکلتی ہیں اور زندگی کو حیاتِ طیبہ بنا دیتی ہیں۔
*چوتھے یہ کہ وہ ظاہر اور باطن کو جوڑ کر ایک کْل کی حیثیت دے دیتے ہیں، گویا جسم اور روح میں اتصال پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر اعمال کی شکلوں سے صحیح نتائج پیدا نہیں ہورہے تو ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ روح سے عاری ہیں۔ ظاہری دین داری کا لبادہ جو رْوح سے خالی دلوں کو اوڑھا دیا گیا ہو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں رکھتا۔
*پانچویں یہ کہ وہ جہاد کو حیاتِ صالحہ کے ساتھ مربوط کرتے ہیں، اور اس کا زندگی میں صحیح مقام اْجاگر کرتے ہیں۔ خدا کو جو اعمالِ صالحہ ہم سے مطلوب ہیں، ان میں جہاد اس کا پسندیدہ عمل اور سارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ جہاد، زندگی میں بلند ترین نیکی کا درجہ حاصل کرتے ہی ایمان کا تقاضا بن جاتا ہے۔ گویا صحیح مسلمان بننے کے لیے ہمیں مجاہد بننا ہوگا۔
*چھٹے یہ کہ وہ تاریخ کو بھی ایمان کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔ ایمان محض ایک مابعد الطبیعی یا روحانی قوت نہیں، وہ تاریخ اور تقدیر ساز ہے۔ اس طرح تاریخ، زندگی اور ایمان، دونوں کے لیے نہایت اہم ہوجاتی ہے۔ ہم خاموشی سے معطل ہوکر نہیں بیٹھ سکتے، بلکہ ہمیں آگے بڑھ کر تاریخ کا رْخ موڑنے کی عملی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سعی و عمل کا نام جہاد ہے۔
*ساتویں یہ کہ مولانا اس دنیا کو آخرت سے ہم رشتہ کرتے ہیں، اور اس طرح دونوں میں تسلسل قائم کرتے ہیں۔ اس دْنیا میں خدا کی رضا کی کوشش کے بغیر ہم آخرت میں کوئی فصل نہیں کاٹ سکتے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ