ن لیگ کے قبل از انتخابات دھاندلی کے الزامات الیکشن کمیشن کو تحفظات سے آگاہ کردیا

42

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) ن لیگ نے قبل ازضمنی انتخابات دھاندلی کے الزامات عاید کر دیے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات میں پری پول رگنگ پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ضمنی انتخابات کے موقع پر دھاندلی کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ۔ جمعے کو مسلم لیگ ن کے وفد نے سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب سے ان کے دفتر میں ملاقات کی‘ وفد میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، سینیٹر چودھری تنویر اور سینیٹر سردار یعقوب ناصر شامل تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہاکہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے اپنے تحفظات سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا ہے‘ وفد نے الیکشن کمیشن حکام سے سوال کیا کہ ضمنی انتخابات میں آر ٹی ایس کو کیسے بہتر بنایا گیا ہے‘ بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹرز کی فہرست اور ضمنی الیکشن میں فارم 45 کو کیسے دیکھا جا رہا ہے اور شہباز شریف کی گرفتاری کے ضمنی انتخابات پر اثر انداز ہونے سے متعلق بھی تحفظات سے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات پر جو چیز اثر انداز ہو اس پر الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کا استعمال کرے‘ شہباز شریف کی گرفتاری سے متعلق درخواست پر الیکشن کمیشن نوٹس لے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) نے آئندہ ماہ کی سیاسی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کی احتجاجی سیاست میں بیگم کلثوم نواز کے چہلم کے بعد مزید تیزی آئے گی۔ پیپلز پارٹی، اے این پی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا۔ جمعیت علما اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کو پیپلز پارٹی سے رابطے کی ذمے داری سونپی گئی ہے کیونکہ ان کا نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں سے رابطہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) احتجاجی سیاست میں بتدریج تیزی لانا چاہتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن، حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے موقف کے ساتھ ہیں تاہم پیپلز پارٹی متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے ہر قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پابند نہیں ہونا چاہتی کیونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے اپنے بھی بعض مسائل ہیں جن کی بنیاد پر متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم کا مکمل حصہ بننا فی الحال پیپلز پارٹی کے لیے سود مند نہیں ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ