ہال مسمار کیے جارہے ہیں یا ’’حال‘‘

346

حبیب الرحمن
ناجائز زمینوں پر تعمیر شدہ ہال توڑے جا رہے ہیں۔ معلوم نہیں ’’ہال‘‘ توڑے جا رہے ہیں یا ’’حال‘‘ توڑا جارہا ہے۔ یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ زمینیں ’’ناجائز‘‘ ہیں کہ تعمیر کیے گئے ہال۔ زمینیں جائز ہیں تو ہال ناجائز کس طرح ہوئے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تعمیرات چند دنوں قبل ہوئی تھیں؟ کیا یہ تعمیرات ’’جادو کی چھڑی‘‘ کا نتیجہ تھیں یا ’’جنوں‘‘ کی کارستانی؟ چھڑی ہلائی اور محل نما ہال تعمیر ہو گئے یا چراغ رگڑا تو اس میں سے ایک ’’دیو‘‘ یہ کہتا بر آمد ہوا کہ کیا حکم ہے میرے آقا اور آقا نے حکم دیا کہ فلاں جگہ زمین کا ایک قطعہ خالی پڑا ہے اس پر ایک ہال تعمیر کرنا ہے۔ جن نے چٹکی بجائی اور ایک محل نما ہال تعمیر ہو گیا۔
میں نے گھر کے آگے بنے فٹ پاتھ تک بچی جگہ جو بارہ فٹ چوڑی اور مکان کی چوڑائی کے برابر لمبی تھی اور جس کو اہل محلہ نے کوڑے دان بنا رکھا تھا اور میں جتنا منع کرتا کچرے کی مقدار اتنی ہی زیادہ بڑھادی جاتی۔ سوچا کہ لڑائی جھگڑا کرنے کے بجائے اس کی صفائی کرادوں، دیوار چڑھادوں اور اس میں پھلواری اگا دوں تاکہ ماحول بھی آلودگی سے بچ رہے اور گھر میں آنے جانے والوں کو ناک پر رومال رکھ کر آناجانا نہ پڑے۔ صفائی کرائی، مزدور لگوائے، ہاتھ سیدھے کرنے والے مزدور بلوائے اور چار پانچ فٹ اونچی دیوار چڑھائی۔ اگلے دن محکمے کے متعلقہ اہل کار آدھمکا کہ صاحب یہ تو ناجائز تعمیر ہے۔ پوچھا پھر؟ کہنے لگا چائے پانی ہوجائے تو معاملہ ’’سیٹ‘‘ کرادوں گا۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے میں اندر گیا، پانی کی بوتل مع گلاس اٹھالایا اور گلاس بھر کر اسے دیتے ہوئے کہا کہ چائے کا آرڈر گھر والی کو دے آیا ہوں۔ کہنے لگا اس کو چائے پانی نہیں کہتے۔ میں نے معصوم بنتے ہوئے کہا کہ پھر کس کو کہتے ہیں؟ انگشت شہادت اور انگوٹھے کو عجب انداز میں رگڑتے ہوئے کہا ’’یہ‘‘ چاہیے۔ میں نے بھی اسی انداز میں انگشت شہادت اور انگوٹھے کو رگڑتے ہوئے کہا ’’یہ‘‘ تو نہیں ہے۔ اگلی صبح وہ پھر آیا اور ساتھ میں ایک ’’وردی‘‘ والا بھی۔ کہا ایک تو ناجائز قبضہ کرتے ہو اوپر سے اکڑ بھی دکھاتے ہو۔ کچھ دیر میں بعد دیوار گرادی گئی، تھانے میں بند بھی کیا گیا اور وہ ’’چائے پانی‘‘ جس کو دینے سے انکار کیا گیا تھا، سود در سود کے حساب سے اداکرنا پڑگیا۔
خود ہی فیصلہ کریں کہ آبادی کے ایسے حصے میں جہاں چاروں جانب چھوٹے چھوٹے مکانات ہوں، تنگ گلیاں ہوں،وہاں اگر کوئی نہایت معمولی تعمیر کرلی جائے تو اس کی خبر ہر ایک متعلقہ محکمے کو ہوجاتی ہو تو یہ بڑے بڑے شادی ہال جو بر لب سڑک، اہم شاہراہوں اور ہزاروں کی تعداد میں گزرنے والی گاڑیوں اور لاکھوں لوگوں کی نظروں میں آجانے والی جگہوں پر برس ہا برس سے کاروبار کر رہے تھے ان پر کسی محکمے کی بھی نظر نہیں پڑی ہوگی؟۔
آج سے دو سال قبل بھی کراچی میں تعمیر کیے گئے ’’ناجائز‘‘ شادی ہال مسمار کیے گئے تھے۔ یہ سارے ہال بے شک ان زمینوں پر تعمیر کیے گئے تھے جو خالی پڑی ہوئی تھیں۔ سرکاری تھیں۔ لوگوں نے ایسی ساری خالی زمینوں کو ’’کوڑا گھر‘‘ بنادیا تھا۔ اہل محلہ اور زمینوں کی قسمت جاگی تو ان خالی زمینوں پر شادی ہال بنا دیے گئے۔ کوڑا گھروں سے نجات بھی مل گئی اور آس پاس کے لوگوں کو شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کے انعقاد کہ سہولت بھی میسر آنے لگی۔ وہ شادی حال جو ’’جائز‘‘ ہی نہیں تھے مسمار ہوئے عرصہ گزر چکا ہے۔ زمین تو سرکار کی تھی، واہ گزار ہوئی، اس پر اب کیا تعمیر ہونا ہے؟، اس کا اب تک کسی کو کوئی علم نہیں البتہ وہ اسی طرح کے ’’کوڑا گھروں‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہیں جس طرح اپنی تعمیر سے قبل یہ زمینیں ہوا کرتی تھیں۔
ایک بار پھر باقی بچ جانے ولاے شادی ہالوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ بھی عدالت عظمیٰ کے حکم کو ’’بہانہ‘‘ بنا کر کیا گیا ہے۔ ’’بہانہ‘‘ کا لفظ گو کہ ’’غیرعدالتی‘‘ ہے اور ڈر ہے کہ یہ ’’توہین‘‘ کے زمرے میں نہ آجائے۔بہانہ اس لیے کہ اب جو محکمہ ان کو مسمار کرنے میں مصروف ہے کیا اس محکمے کی آنکھیں پھوٹی ہوئی تھیں؟ کیا اس کے ہاتھ پاؤں ٹوٹے ہوئے تھے؟۔ اگر ایسا نہیں تو اتنے سال تک کیا یہ سارا معاملہ ’’چائے پانی‘‘ پر چل رہا تھا؟۔ جب تنگ و تاریک گلیوں میں چار فٹ بلند دیوار اتنے بڑے محکمے کی نگاہوں میں آجائے اور ’’چائے پانی‘‘ ادانہ کرنے پر توڑ دی جائے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اہم شاہراہوں پر تعمیر شادی ہال نگاہوں سے اوجھل ’’چائے پانی‘‘ سے بچ رہے ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ ناجائز شادی ہال گرانے کے حکم سے پہلے کیا محکموں کے ذمے داران کو طلب کرکے ان کی غفلت (چائے پانی) کے متعلق کوئی باز پرس ہوئی؟ کیا ان کو قرار واقعی سزائیں سنائی گئیں؟، کیا مالکان ہال کو بلاکر ان کی برسوں کمائی کو قرق کیا گیا؟۔ دنیا جانتی ہے کہ شادی ہالوں کی بکنگ مہینوں قبل کرانی پڑتی ہے تو کیا جن جن ہالوں کو گرادیا گیا ہے اور جو گرائے جائیں گے ان کے مالکوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ان افراد اور پارٹیوں کو ایڈوانس رقم واپس کریں جو بکنگ کی مد میں وصول کی جاچکی ہے؟۔ یہ اور اسی قسم کے دیگر اقدامات کا حکم صادر کرنا کیا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا؟، کیا اس قسم کا فیصلہ عین انصاف کہلانے کا مستحق ہے؟۔ یہاں غور طلب امر یہ بھی ہے کہ عدالت کے یہ احکامات ’’ازخود نوٹس‘‘ کے نتیجے میں جاری ہوئے ہیں۔ ججوں کی کو صرف تعمیرات ہی کیوں نظر آئیں وہ تمام متعلقہ محکمے اور افراد کیوں نظر نہ آئے جن کی چشم پوشی کے یہ ثمرات تھے؟۔
بے شک ایسی کسی بھی قسم کی تعمیر، خواہ وہ عبادت گاہوں کی ہو یا کسی رفاحی کاموں کے تصرف میں آئے، اس کو تہس نہس کر دینا چاہیے لیکن ان جگہوں کو دوبارہ کسی اور کے تصرف میں بھی نہیں آنا چاہیے۔ میں ابتدائی عمر سے یہی ٹوٹ پھوٹ دیکھتا چلا آرہا ہوں۔ کبھی فٹ پاتھ آباد کیے جاتے ہیں پھر اجاڑ دیے جاتے ہیں، پھر آباد کر دیے جاتے ہیں۔ آباد بستیاں ڈھادی جاتی ہیں مگر پھر سے آباد ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مذاق ہے جو کم از کم کراچی والوں کے ساتھ تو ایک کھیل کے طور پر جاری ہے اور کوئی سمجھتا ہے کہ یہ کھیل بند ہوجائے گا تو میرے نزدیک یہ سوچ ایک مجذوب کی بڑ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
توڑ پھوڑ جاری ہے لیکن یہ تعمیری نہیں تخریبی ہے۔ اس لیے کہ ان زمینوں پر پھر اسی قسم کی کوئی دوسری مافیا کا قبضہ ہوگا۔ دس بیس سال بعد پھر ان کو اجاڑ کر کسی اور بڑی مافیا کو یہ زمینیں دیدی جائیں گی۔ ’’دلی‘‘ کو کسی غیر نے نہیں اجاڑا تھا۔ اس کو اجاڑنے والے مسلمان راجا ہی تھے۔ کراچی بھی اب دلی کی طرح اجاڑا جارہا ہے اور اس پر ’’ غیر کراچی‘‘ آباد ہورہا ہے۔ زمینوں، جائدادوں، تعمیر شدہ مکانوں، دکانوں اور بازاروں پر قبضے ہو رہے ہیں حتیٰ کہ قبضہ چھڑا نے کے نام پر بھی قبضے ہی ہو رہے ہیں اور ایک طوفان ہے جو ہر آنے والے دنوں میں اپنی شدت میں اضافہ ہی کرتا چلا جارہا ہے۔ کچھ اپنی عزت بچانے کے لیے پاکستان کے دیگر شہروں میں پہلے ہی پناہ گزیں ہو چکے ہیں اور کچھ آنے والے دنوں میں ہو جائیں گے۔ بالفاظ دیگر اہل کراچی (مہاجر) پناہ گزیں بن جائیں گے یا ذمی اور اس طرح ’’ہال‘‘ ٹوٹ جائیں گے اور ’’حال‘‘ تسبیح کے دانے کی طرح بکھر جائے گا۔