مسجد اقصیٰ میں اذان اور نماز پر پابندی صورتحال کشیدہ

92
مقبوضہ بیت المقدس: مسلمانوں پر مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کرکے اسرائیلی پولیس افسران خود قبلہ اول کے احاطے میں گھوم رہے ہیں‘ صہیونی اہل کار احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو تشدد کرتے ہوئے گرفتار کررہے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس: مسلمانوں پر مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کرکے اسرائیلی پولیس افسران خود قبلہ اول کے احاطے میں گھوم رہے ہیں‘ صہیونی اہل کار احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو تشدد کرتے ہوئے گرفتار کررہے ہیں

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض صہیونی حکومت نے ایک بار پھر جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو بند کرکے وہاں اذان اور نماز پر پابندی لگادی۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کے روز مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ایک اسرائیلی چوکی میں آتش زدگی کو جواز بناکر صہیونی پولیس اور فوج نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ قابض اہل کاروں نے قبلہ اول میں موجود نمازیوں کو باہر نکال دیا اور مسجد کے دروازے بند کرکے کئی دفاتر کی تلاشی لی۔ اس دوران مشکوک گاڑیاں مسجد اقصیٰ میں آتے جاتے دیکھی گئیں۔ اسرائیلی پابندی کے باعث مسجد اقصیٰ میں عصر، مغرب اور عشا کی نمازیں ادا نہیں کی جاسکیں۔ جب کہ مسجد اقصیٰ سے صہیونی قبضہ ختم کرانے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس کے شہری جوق در جوق قبلہ اول اور شہر قدم کی جانب دوڑ پڑے۔ اسرائیلی جارحیت کے بعد شہر قدیم میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہوگئی۔ خاص طور پر باب الاسباط پر فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس میں شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں کئی فلسطینی زخمی ہوگئے، جب کہ درجنوں کو اسرائیلی فوج نے حراست میں لے لیا۔ فلسطینی مسلمانوں نے قبلہ اول میں اذان اور نماز کی بحالی کے لیے ہر رکاوٹ توڑ کر وہاں پہنچنے کی کوشش کی، تاہم اسرائیلی فوج نے انہیں روک دیا۔ مسلمانوں نے باب الاسباط اور دیگر مقامات پر نماز باجماعت ادا کی۔ دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے مزید 2فلسطینی نوجوان کو شہید کردیا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق فائرنگ کا پہلا واقعہ مغربی کنارے میں الخلیل کی وادی الحصین میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی فوج نے 27 سالہ فلسطینی نوجوان یاسر فوزی الشویکی کو فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ دوسرا نوجوان 23سالہ محمد شاہین جمیل سلفیت میں مظاہروں کے دوران اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بنا۔