عمران خان کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا اجلاس،اسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنانے کی منظوری۔ملاوٹ کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت

108
لاہور:وزیر اعظم عمران خان پنجاب حکومت کی جانب سے کارکردگی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
لاہور:وزیر اعظم عمران خان پنجاب حکومت کی جانب سے کارکردگی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

لاہور،اسلام آ باد(نمائندہ جسارت+صباح نیوز+ آن لائن+مانیٹر نگ ڈ یسک) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا اجلاس ہوا،جس میں اسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنانے کی منظوری جب کہ ملاوٹ کر نے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی،پہلے مرحلے میں لاہور کے 5 بڑے اسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنائے جائیں گے، شیلٹر ہومز بنانے کے لیے اپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز کی سربراہی میں 5 ارکان پر مشتمل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مستحق افراد کا سہارا بننے کی مہم میں مخیر حضرات کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا حوصلہ افزا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کلین اینڈ گرین پاکستان مہم، خوراک میں ملاوٹ کے خلاف اقدامات اور سیاحت کے فروغ کے حوالے سے الگ الگ جائزہ اجلاس ہوئے۔پنجاب میں کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ابھی تک تقریباً111254 ایکڑ اراضی کو غیر قانونی قبضے سے واگزار کرا لیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایاگیا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز میں عملے کی کارکردگی کی مسلسل مانیٹرنگ اور پیشہ ورانہ لوگوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے پاس افرادی قوت کی کمی نہیں ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ محنت کرنے والے دیانت دار لوگوں کی حوصلہ افزا ئی کی جائے اور کام نہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے آگاہی اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے، دنیا بھر میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کا لیول بڑھتا ہے تو لوگوں کی زندگی کے سال کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں،ہمیں اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہے۔دریں اثنا وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب میں خوراک میں ملاوٹ کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ ،خصوصا دودھ میں ملاوٹ کی حوصلہ شکنی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا ۔ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نے وزیر اعظم کو بریفنگ دی ۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ملاوٹ شدہ اشیا کے استعمال کے خلاف بھر پور آگاہی کی مہم شرو ع کی جائے۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کے دودھ کی معیاری سپلائی کے لیے جا مع منصوبہ بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دودھ میں مضر صحت کیمیکل ملانے والو ں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔وزیراعظم عمران خان کو پناہ گاہوں کے قیام کے حوالے سے پیشرفت اور آئندہ مہینوں میں صوبے بھر میں مزید پناہ گاہوں کے قیام کے حوالے سے لائحہ عمل پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند اور بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں میں گنجائش میں اضافہ کیا جائے اور اس ضمن میں توسیع کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔وزیر اعظم عمران خان کو پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی اور بتایا گیا کہ پنجاب کی پہلی سیاحت پالیسی کا مسودہ کابینہ میں پیش کیے جانے کے لیے تیار ہے،صوبے بھر میں 8 نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے ،سرکاری گیسٹ ہاسز کو تبدیل کرنے اور ان کوسیاحوں کے لیے رہائشگاہ بنانے کے حوالے سے اقدامات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ محکمہ جنگلات اور آبپاشی کے70ریسٹ ہاوسز کو عوام کے لیے کھولاجا رہا ہے۔ ثقافتی، تاریخی ،مذہبی اور یوتھ ایڈونچر ٹورازم، آن لائن بکنگ اور سوشل میڈیا پورٹل کے حوالے سے نئے اقدامات جب کہ کوٹلی ستیاں، چکوال، کوہ سلیمان،اٹک، کالا باغ، خوشاب، بہاولپور اور جہلم میں نئے سیاحتی مقامات کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ۔وزیراعظم عمران خان نے مذہبی اور ثقافتی سیاحت ، خصوصاًکرتارپور راہداری کے تناظر میں ٹورازم کے پوٹینشل اور اہمیت کو اجاگر کیا اور اس ضمن میں خصوصی اقدامات کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اقدامات اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے اقدامات لینے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے نیشنل پارکس کے تحفظ، ایکو ٹورازم کی اہمیت، جنگلات اور نیشنل پارکس میں قبضہ مافیا کے خلاف ایکشن کے حوالے سے بھی ہدایات دیں۔عمران خان نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے،ہمیں نیشنل پارکس بنانے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ملک میں سیاحت فروغ پا رہی ہے،غیر ملکی سیاحوں کی پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے،سیاحت کے فروغ سے مقامی لوگوں کو روزگار میسر ہو گا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا،دور افتادہ علاقے ترقی کریں گے۔ وزیر اعظم نے تاریخی ورثے اور مقامات کی تزئین اور دیکھ بھال کے حوالے سے بھی خصوصی ہدایات دیں۔ وزیر اعظم کوپنجاب میں سیاحت کے حوالے سے نئے اقدامات اور روڈ میپ کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا ،جن میں ڈیزرٹ سفاری اور چکوال فور بائی فور ریلی شامل ہیں۔وزیراعظم نے تاریخی و ثقافتی مقامات کی تزئین و آرائش کے حوالے سے وسائل کی دستیابی کے حوالے سے اقدامات کے لیے بھی مختلف ہدایات جاری کیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہواہے۔ دونوں رہنماؤں نے پاک ایران باہمی تعلقات اور خطے کی صورتحال پر بات کی جب کہ وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر نے دوطرفہ باہمی تعلقات کی اہمیت کو دہرایا ۔ٹیلی فونک گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کے جلد دورہ ایران کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیز میں رابطے مربوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایرانی صدر کو بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے متعلق امور پر اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان موجودہ صورت حال مذاکرات کے ذریعے بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کررہا ہے اور موجودہ حالات میں برادر ملک ایران کا کردار بہت اہم ہے۔وزیراعظم نے ایرانی قیادت کا مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام سے اصولی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران 2 ہمسائے اور برادر ملک ہیں جن کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی قریبی تعلقات ہیں، ان تعلقات سے خطے میں استحکام اور معاشی ترقی مرکزی مقام رہے گا۔