بھارت کی سمندر کے راستے گھسنے کی کوشش پاک بحریہ نے ناکام بنادی

84
اسلا م آباد:دراندازی کی کوشش کرنے والی بھارتی آبدوز کی تصویر 
اسلا م آباد:دراندازی کی کوشش کرنے والی بھارتی آبدوز کی تصویر 

اسلام آباد(اے پی پی+صباح نیوز) بھارت کی سمندر کے راستے پاکستان میں گھسنے کی کوشش پاک بحریہ نے ناکام بنادی ۔یوں بھارت کو سمندری محاذپر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔منگل کو پاک بحریہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بتایاکہ پاک بحریہ نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ہر دم چوکنا رہتے ہوئے کامیابی سے بھارتی آبدوزکا سراغ لگا کر اْسے پاکستان کے پانیوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ترجمان کے مطابق پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کی اپنی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا۔ یاد رہے کہ نومبر 2016ء کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب پاک بحریہ نے بھارتی آبدوزکا سْراغ لگایا۔ ترجمان نے بتایاکہ پا ک بحریہ کا جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھارتی آبدوزکا سراغ لگا لینا بھارتی بحریہ کی ناکامی اورہماری کامیابی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امن قائم رکھنے کی حکومتی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارتی آبدوز کو نشانہ نہیں بنایا گیا جو پاکستان کی امن پسندی کا غماز ہے،اس واقعہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے بھارت کو بھی امن کی طرف راغب ہونا چاہیے۔ ترجمان پاک بحریہ نے کہاکہ یہ اہم کارنامہ پاکستان نیوی کی اعلیٰ صلاحیتوں کامنہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان کی بحری سرحدوں کے دفاع کے لیے پاک بحریہ ہر لمحہ مستعد و تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔دوسری جانب بھارتی آبدوز کے واقعے پرحکومت کی طرف سے سینیٹ میں واضح موقف نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور موجودہ ملکی صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ کا مطالبہ کردیا ۔سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ بھارتی آبدوز پاکستانی حدود میں داخل ہوئی ہے مگر حکومت نے اس پر چوں بھی نہیں کی ،مودی دھمکیاں دے رہا ہے کہ ہم گھروں میں گھس کر ماریں گے ،ہم نے ان کا پائلٹ رہا کیا تو اس طرف سے مسخ شدہ لاش دی گئی۔ وزارت خارجہ اس حوالے سے جواب دے ، وزارت خارجہ سوئی ہوئی ہے جو بات نہیں کررہی ہے ۔ سینیٹر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہاکہ اگر آبدوز داخل ہوئی تو اس کو نہ پکڑ نے اور تباہ نہ کرنے کا فیصلہ کس نے کیا ؟یہ پاکستان پر دوسراحملہ تھا ، کہا جارہا ہے کہ پاکستان پر حملے میں اسرائیل اور ایک دوسرا ملک ملوث ہے جس کا نام نہیں بتایا جارہا ہے ،اس ایوان کو اس سے آگاہ کیا جائے کہ دوسرا ملک کون سا ہے ۔ سینیٹررحمن ملک نے کہاکہ سیکورٹی کے حوالے سے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں اگر آبدوز پکڑلی ہوتی تو پاکستان بہتر پوزیشن میں ہوتا ،کس نے آبدوز نہ پکڑنے کا حکم دیا ہے اس کے بارے میں ایوان کو بتایا جائے ۔ سینیٹر ستارہ ایاز نے کہاکہ پاکستان پر حملے میں اسرائیل اور ایک دوسرے ملک کا نام بھی سامنے آرہا ہے ایوان کو ان کیمرہ اجلاس میں اس حوالے سے آگاہ کیا جائے ۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ احمد آباد میں مودی نے تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاف کرنا فطرت میں شامل نہیں ہے ،گھر میں گھس کر ماروں گا ۔ وزیر منصوبہ بندی خسروبختیار نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ بھارتی نیوی پاکستان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے ،اس حوالے سے آئی ایس پی آر اور وزارت خارجہ جواب دے گا ۔ وزیر کے جواب کے بعد شیری رحمان دوبارہ کھڑی ہوگئیں اورکہا کہ ابھی جواب دیا جائے جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک منٹ میں سوال کریں اور فوراً اس کا جواب دیا جائے اور شیری رحمن کو بولنے سے روکنے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا؂۔ چیئرمین سینیٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس آج شام 3 بجے تک ملتوی کردیا ۔