زرداری کے ساتھی انور مجید کیخلاف دیگر الزامات کی تفتیش بھی شروع

115

کراچی (رپورٹ :خالد مخدومی ) اومنی گروپ کے خلاف منی لانڈرنگ کے علاوہ بدعنوانی کے دیگر الزا مات کی تفتیش شروع کردی گئی ،جن میں اپنی شوگر مل کے ملازمین کے نام پر سندھ بینک سے قرضے لینے اور 220ایکڑ سرکاری زمین پر قبضے کامعاملہ بھی شامل ہے۔آصف زرداری کے قریبی دوست اورکاروباری ساتھی اومنی گروپ کے مالک انورمجیدان کے بیٹے اور گروپ ایم ڈی سلطان آرائیں سمیت دیگر افراد بدعنوانی کے کئی معا ملات میں ملوث بتائے جاتے ہیں ، ایف آئی اے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اومنی گروپ نے نیو دادو شوگر ملز کے500سے زائد ملازمین کے نام پر سندھ بینک سے کڑورں روپے قرض لیے، صوبائی حکومت کی ایما پر سندھ بینک نے فی کس 5 سے 15 لاکھ روپے کے قرضے جاری کیے جو ان ملازمین کے بجائے مل مالکان نے وصول کیے ، قرض کے حصول کی قانو نی ضروریات پوری کرنے کے لیے ملز انتظامیہ اپنے پاس موجود ملازمیں کے شناختی کارڈ کے بجائے دوسری دستاویزات استعمال کیں ، اومنی گرو پ نے دادو شوگر ملزکے قریب120 ایکڑ سرکاری زمین سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کے ذریعے حاصل کی ،جس کے لیے 2008ء میں پیپلز پارٹی حکومت کی نجکاری پالیسی کااستعمال کیاگیا، جس کے تحت کروڑ ں روپے مالیت کی زمین کوڑیوں کے دام اپنے نام کرالی گئی جبکہ فلجی اسٹیشن پر مزید 100ایکڑ سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ بھی کرائی گئی ، ذرائع کے مطابق اومنی گروپ انتظامیہ نے پیارواسٹیشن شہر کے لیے منظور شدہ کروڑوں روپے کی واٹر سپلائی فلٹر پلانٹ غیر قانونی طور پر ملز کے اندر نصب کرایا ، یہ فلٹر پلانٹ شہر کے اندر لگاناتھا جس سے ہزاروں کے قریب شہریوں کوصاف پانی فراہم ہو تاجبکہ اومنی گروپ کی شوگر ملزمیں استعمال ہونے ہونے والے پاور پلانٹوں کو چوری کی گیس پر چلائے جانے کاانکشاف بھی ہو اہے ،اومنی گروپ نے اپنے پاور پلانٹ چلانے کے لیے چوری کی جو گیس استعمال کی اس کی مالیت اربوں روپے بتائی جاتی ہے ،ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سوئی گیس کا محکمہ ان ملزمیں گیس کے استعمال اور اداکیے گئے بلوں کاموازنہ کررہاہے ،گیس کی چوری 2008ء سے 2018ء کے درمیان کی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ