بھارت کے جارحانہ رویے سے خطے کے امن کو خطرہ ہے،سراج الحق

64
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق بہاولپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق بہاولپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیرجماعت اسلامی پاکستان سینٹرسراج الحق نے کہاہے کہ وزیر خارجہ کوئی بھی ہو، اسے وہی موقف اختیار کرنا پڑیگا جو پوری قوم کا ہے۔ وزیر خارجہ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اردو میں خطاب اور قومی موقف کو بھرپور انداز میں اقوام عالم کے سامنے پیش کرنا جرأتمندانہ اقدام ہے۔ بھارت کے جارحانہ رویے سے پورے خطے کے امن کو خطرہ ہے، بھارت کو اپنا نقطہ نظر بدلنا ہوگا،اقوام متحدہ کو بھارت کے ایسے متکبرانہ رویے کا احتساب
کرنا چاہیے، بھارت کا موقف کسی دلیل پر مبنی نہیں، بھارت کو ہر حال میں کشمیر سے نکلنا پڑے گا ، پاکستانی قوم کشمیر پر قبضے کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بہاولپورمیں اجتماع ارکان سے خطاب اور بعدازاں میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب شیخ عثمان فاروق ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان اظہر اقبال حسن ،سابق امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر اور چودھری عزیر لطیف بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ معیشت کے بائی پاس کا سن کر قوم سکتے میں آگئی ہے ۔عوام پریشان ہیں کہ دم توڑتی معیشت کہیں بائی پاس کی نذر نہ ہوجائے۔ حکومت نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا اعلان کیا تھا مگر گیس بجلی اور تیل سمیت روزمرہ چیزوں کی قیمتوں میں اضافے سے لگتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کی تیاری کررہی ہے اور عوام کو مزید قرضوں کے کوہ ہمالیہ کے نیچے دینا چاہتی ہے ۔ آئی ایم ایف ابھی بھی بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے اور اداروں کی نجکاری کا مطالبہ کرر ہی ہے۔ مہنگائی سے سب سے زیادہ غریب متاثرہوتاہے، ایلیٹ کلاس اور وی آئی پی طبقہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔حکومت کے لیے بہتر تھا کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترتی اورمنشور پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو غربت ،مہنگائی اور قرضوں سے نجات دلاتی ۔ مگر حکومت نے اپنے 100 روزہ ایجنڈے کا آغاز ہی عام آدمی کے استعمال کی چیزوں کو مہنگا کرکے کیا ہے ۔ حکومت کے 100 دن میں سے قریباً آدھے دن گزر گئے ہیں۔اگر حکومت کی یہی رفتاررہی تو وہ اپنے ایجنڈے کو پورا نہیں کرپائے گی۔ سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ حکومت نے اپناآغاز عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی میں اضافہ کرکے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ ہر دور میں خوشحال رہتا ہے جبکہ یہاں کا محکوم طبقہ آج بھی پریشان ہے، وزیر خزانہ نے بائی پاس کا کہہ کر اس پریشانی کو مزید بڑھا دیا ہے ،لوگ پریشان ہیں کہ کہیں بائی پاس میں مریض جان سے ہی نہ چلا جائے،انہوں نے کہا کہ سودی نظام اسلامی نظام کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھاولپور ماضی کا خوشحال علاقہ اور صوبہ تھا اس کی بحالی کا وعدہ پورا کیا جائے ،ریاست بہاولپور کے پاکستان پر بڑے احسانات ہیں صوبہ بہاولپور کی بات کو پس پشت ڈالا جارہا ہے صوبہ بہاولپور بنانا نہیں ہے بلکہ بحال کرنا ہے ۔ قبل ازیں سینیٹر سراج الحق نے اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مغربی کلچر کو فروغ دیا جا رہا جس کی وجہ سے نوجوان نسل اپنے بزرگوں سے دور ہو رہی ہے اور ملک میں کتے اور بلیاں پالنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تمام مذاہب کی مقدس ہستیوں کے توہین آمیز خاکوں کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کر رہی ہے اس سلسلے میں چند روز قبل اسلام آباد میں جیورسٹ کانفرنس منعقد کرائی گئی جس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی نگرانی میں4 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مقدس ہستیوں کے توہین آمیزخاکوں کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل طے کرے گی اور جنوری 2019 ء کے پہلے ہفتے میں جنیوا اور لندن میں عالمی کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی جن میں تمام ممالک کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا اور توہین آمیز خاکوں کے خاتمے اور مقدس ہستیوں کے احترام کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کرکے اس کو یواین او کے چارٹر میں شامل کرایا جا ئے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ