شامی تنازع کے حل کیلیے جنیوا مذاکرات ناکام

48

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) جنیوا میں شام کے لیے آئینی کمیٹی تشکیل دینے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح کی ملاقاتوں کا سلسلہ کسی بھی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کی جانب سے اس اجلاس کا انعقاد “مِنی ورکنگ گروپ” کے ممالک کے ساتھ مل کر کیا گیا تھا۔ ورکنگ گروپ میں شامل ممالک امریکا، فرانس، برطانیہ، جرمنی، سعودی عرب، مصر اور اردن ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایلچی نے اجلاس میں سامنے آنے والے امور پر روشنی ڈالنے سے انکار کر دیا اور ان کی ٹیم نے سرکاری طور پر اجلاس کے ختم ہو جانے کے اعلان پر اکتفا کیا۔ اجلاس میں شام کے لیے آئینی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔ اس دوران شامی اپوزیشن کے وفد نے نصر حریری کی سربراہی میں مِنی ورکنگ گروپ کے ممالک کے وفود کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کی۔ حریری کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ گفتگو میں توجہ ادلب پر اور اُسے شامی حکومت کے ممکنہ فوجی حملے سے بچانے کے طریقہ کار پر مرکوز رہی۔ جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے متعلق ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی روس اختلافات اور ماسکو کی جانب سے آئینی کمیٹی کے ضمن میں آزاد اور خود مختار شخصیات کی فہرست کو مسترد کیا جانا، ان دونوں امور نے ڈی میستورا کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق جو کچھ جنیوا میں ہوا یہ اس بات کا اضافی ثبوت ہے کہ ماسکو اِدلب میں فیصلہ کن عسکری کارروائی کے لیے کوشاں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.