سیگریٹ کے تین سطحی ٹیکس نظام کی تحقیقات، منافع میں 218فیصد اضافہ

44

اسلام آباد(آ ن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ غیرملکی کمپنیوں کے ٹیکسز میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ان کے مجموعی کاروبار میں 62 فیصد اور منافع میں 218 فیصد اضافہ ہوا ہے۔مذکورہ اعداد و شمار نیب کی جانب سے سیگریٹ کے3 سطحی ٹیکس کے نظام میں تحقیقات کے بعد سامنے آئے۔ پاکستان میں بنائی جانے والی سیگریٹ کے لیے ماضی میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا 2 سطحی نظام ہوا کرتا تھا جبکہ 18۔2017 سے قبل فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سیگریٹ کے پیکٹ کی رٹیل
پرائس کی بنیاد پر طے کی جاتی تھی۔رواں مالی سال کے بجٹ کے اعلان کے وقت ایف بی آر نے سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو پہلی سطح سے دوسری سطح پر لانے سے روک دیا تھا تاہم دوسری سطح سے تیسری سطح پر لانے کی اجازت تھی۔نیب کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس نظام نے غیرملکی کمپنیوں کو اپنی ایک پروڈکٹ کے علاوہ باقی تمام مصنوعات کو پہلی سطح سے دوسری یا تیسری سطح تک لانے کی اجازت دے دی تھی جس کے نتیجے میں 86 فیصد غیر ملکی برانڈز نے کم سے کم فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ادا کی۔ماضی میں سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو 87 فیصد سیل کے بعد اپنے فی پیک پر بھی 32.98 روپے ادا کرنے ہوتے تھے، تاہم 3 سطحی نظام کے متعارف ہونے کے بعد انہیں 86 فیصد سیل پر صرف 16 روپے فی پیکٹ ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔نیب حکام نے بتایا کہ اس نظام کے بعد کمپنیوں نے سیگریٹ کے پیکٹس پر کمی اور انہیں کم سے کم ٹیکس ادا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ان کے سیلز میں اضافہ ہواان کا مزید کہنا تھا کہ نئے ٹیکس نظام کی وجہ سے صرف 2 غیرملکی کمپنیوں کو 33 ارب روپے ٹیکس سے چھٹکارا ملا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ