محنت کش کو توقعات

67

ملک کے نئے وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں بے شمار مسائل اور اصلاحات کے حوالے سے بات کی مگر ملک کے محنت کشوں کا ذکر تک نہیں کیا۔ اس وقت ہمارے ملک کے ملازم پیشہ افراد اور کارخانوں کے مزدور انسانی اور بنیادی حقوق سے محروم نیم فاقہ کشی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ آج مہنگائی کا تناسب جس تیزی سے بڑھا ہے مزدور کی اجرت آج بھی اسی مقام پر کھڑی ہے، سرمایہ دار مزدوروں کا خون چوس رہا ہے، چھٹی کے دن بھی کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، بیمار ہوجائے تو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے مزدور کو خوشحال زندگی کا تحفہ دیا جائے۔ عمران خان صاحب آپ ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگا کر آئے ہیں آپ نے پوری دنیا گھومی ہے ترقی یافتہ ممالک کے مزدوروں کی زندگی بھی آپ کے سامنے ہے، اُن ممالک کا ہر فرد انشورڈ ہوتا ہے، بیمار ہوجائے تو خرچ ریاست ادا کرتی ہے، اگر فوت ہوجائے تو اُس کے گھر والوں کو ایک بڑی رقم ادا کی جاتی ہے، ہمارے ملک میں اگر کارخانے کا کوئی مزدور فوت ہوجائے تو کارخانے کا مالک اس کی میت تک میں شرکت نہیں کرتا، بیوہ لوگوں کے گھروں میں کام کرکے اپنے مرحوم شوہر کے بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ ابن آدم کہتا ہے کہ ہر مزدور کی کم از کم 25 لاکھ روپے کی انشورنس کی جائے تا کہ مزدور کے انتقال کے بعد اُس کی بیوہ بے آسرا نہ ہو۔ کم از کم اُس پیسے سے وہ باآسانی اپنے بچوں کا گزارہ تو کرسکیں۔ ہر مزدور کی اجرت کم از کم 30 ہزار ماہانہ مقرر کی جائے، میری درخواست پر توجہ دی جائے۔
ڈاکٹر شجاع صغیر خان

Print Friendly, PDF & Email
حصہ