میڈیا سے تعلق قانون سازی سی پی این ای کی مشاورت سے ہوگی،فواد چودھری

56
اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری سی پی این ای کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری سی پی این ای کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ میڈیا سے متعلق قانون سازی صحافتی تنظیموں کی مشاورت سے ہوگی،ریگولیٹری ادارہ بنانے کا مقصد سنسر شپ ہر گز نہیں ہے ،میڈیا کی آزادی ریاست کے لیے اہم ہے ، سرکاری اشتہارات کی تقسیم کا فارمولا وضع کیا جائے گا، اس وقت توانائی شعبہ کا 1100ارب روپے کا سرکلرڈیٹ ہے جبکہ غیر ملکی قرض
28ہزار کروڑ روپے ہے ، سول ادارے بیٹھ گئے ہیں، ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا پی ٹی آئی کا منشور ہے ، ن لیگ اور پیپلزپارٹی ہمارے نظام کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں، ہم پارٹیوں کو ان کے جائز حق دیں گے ،لوکل باڈیز کے قانون میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں سے مشاورت کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پی این ای کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کاکہنا تھا کہ ہم نے سرکاری ٹی وی سے سینسرشپ ختم کی ہے۔پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنا پی ٹی آئی کا منشور ہے، اس پر عمل کریں گے اور میڈیا کو اس حوالے سے حکومت کا ساتھ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک امیر ہوگا تو میڈیا کو بھی فنڈز دیے جاسکیں گے، ٹیکنالوجی میں ترقی کی وجہ سے میڈیا میں بھی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوں گی، نئے سیٹلائٹ نظام سے میڈیا میں انقلاب آرہا ہے اور مستقبل میں جدت کی طرف جانا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا سے متعلق کوئی قانون سازی صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوگی، میڈیا اور اپوزیشن کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ الیکٹرونک، پرنٹ، سوشل میڈیا کا ایک دوسرے پر انحصار ہے اور مستقبل کے جدید دور میں سنسرشپ حکومت کے ہاتھ میں نہیں رہے گی۔فواد چودھری نے واضح کیا کہ ریگولیٹری ادارے بنانے کا مقصد سنسرشپ ہرگز نہیں ہے، میڈیا کی آزادی ریاست کے لیے انتہائی اہم ہے اس لیے سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے لیے فارمولا وضع کیا جائے گااور تقسیم کا یہ فارمولا بھی صحافتی تنظیموں نے بنا کر دینا ہے لیکن ماضی میں زیادہ اشتہارات دیے گئے، اب درمیانی راستہ نکالا جائے گا۔ پی آئی ڈی کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے تجاویز دی جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ