کابل:اسپورٹس کمپیکس میں 2 بم دھماکے ،20 افراد ہلاک،70 زخمی

83
کابل: دھماکوں میں زخمی شہریوں کو اسپتال منتقل اور طبی امداد فراہم کی جارہی ہے
کابل: دھماکوں میں زخمی شہریوں کو اسپتال منتقل اور طبی امداد فراہم کی جارہی ہے

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے دارالحکومت کابل کے اسپورٹس کمپلیکس کے اندر دو خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 20افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے۔پولیس کے ترجمان حشمت استنکزئی نے بتایا کہ خود کش بمبار کی جانب سے خود کو اسپورٹس کمپلیکس کے اندر دھماکے سے اڑانے کے ایک گھنٹے بعد بارود سے بھری گاڑی کا بھی اسی مقام پر دھماکا ہوا جہاں اس وقت کیورٹی ہلکاروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ دوسرے دھماکے کے نتیجے میں 4 صحافی زخمی ہوئے جبکہ افغانستان کی تولو یوز نے اپنے دو صحافیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔وزارت صحت کے ترجمان واحد مجروح نے بتایا کہ دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 16افراد ہلاک اور 60زخمی ہوئے جبکہ وزارت داخلہ کے ترجمان نے 20افراد کی ہلاکت اور 70 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔پہلے دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد سیکیورٹی اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ساتھ جائے وقوعہ پر صحافیوں کی بڑی تعداد رپورٹنگ کر رہی تھی۔اسی دوران ایک اور خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔میوند ریسلنگ کلب کے ڈائریکٹر پہلوان شیر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے پہلے دھماکے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔انہوں نے بتایا کہ جب پہلا دھماکا ہوا تو وہ کمپلیکس کے ہال کے باہر موجود تھے جس کے نتیجے میں کم از کم 30افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکثریت ریسلرز کی تھی۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے کوچ کو ڈھونڈ رہا تھا اور بالآخر وہ ہسپتال میں ملے لیکن ان کی حالت بہت تشویشناک ہے۔واقعے کے عینی شاہد ایک سوشل میڈیا صارف نے تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خود کش بمبار نے کلب میں موجود محافظ کو قتل کرنے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔محمد حنیف نامی فیس بک صارف نے لکھا کہ خود کش بمبار نے خود کو ایسے مقام پر دھماکے سے اڑایا جہاں بڑی تعداد میں ایتھلیٹس موجود تھے جس سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے۔تاحال کسی گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم ماضی میں عوامی مقامات پر داعش سمیت دیگر گروپس کی جانب سے حملے کیے جاتے رہے ہیں۔خیال رہے کہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے افغانستان مستقل بے امنی کا شکار ہے اور آئے روز افغان دارالحکومت سمیت مختلف صوبوں میں بم دھماکے اور حملے کیے جاتے ہیں جن میں غیر ملکی افواج سمیت مقامی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ