’’ناکامی سے کامیابی تک۔۔‘‘ 

48

گلشن ناز
’’ہر انسان اتنا کامیاب نہیں ہوتا جتنا لوگ اسے سمجھتے ہیں۔ وہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ضرور ناکام ہوتا ہے، ٹوٹتا ہے، بکھرتا ہے، روتا ہے، سسکتا ہے۔ اس پر ایک وقت ضرور ایسا گزرتا ہے جب اس کی نظریں نئے منظر کی منتظر ہوتی ہیں۔ اس کے کان کسی نویدِ نَو کے لیے ہمہ تن گوش ہوتے ہیں۔ اس کے لب کسی فخریہ بیان کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔ اس کے دستِ بازو کارہائے نمایاں کی انجام دہی کے لیے پُر زور رہتے ہیں۔ اس کے قدم نئی منزلوں کی سمت پر چلنے کے لیے رواں دواں ہونے کے لیے بیتاب ہوتے ہیں۔ ہاں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شکستوں کے اندھے کنویں میں گِر جاتا ہے۔ وہ تنہائیوں کے اندھیرے میں بھٹکنے لگتا ہے۔ مایوسی کا پُرخار احساس اس کے وجود کو زخمی زخمی کرتا ہے۔ ایک شکست و ریخت اس کے جذبات میں چل رہی ہوتی ہے۔ پراگندہ خیالات اس کی ظاہری حالت بھی پژمردہ کر دیتے ہیں۔ کامیابیوں کا جوش اور ناکامیوں کے خوف کی جنگ و جدل اس کے دل دماغ پر اضطرابی کیفیت طاری کیے رہتی ہے۔ بلاشبہ ناکامی کے خوف کا اثر کامیابی کی خوشی سے زیادہ پُراثر اور دیرپا ہوتا ہے لیکن زندگی اسی جلتے چراغ کا نام ہے جسے موت کی ہوا ہی بجھا ئیگی۔ اور وہی دیا دیرپا رہتا ہے جو ہواؤوں کے رخ پر بھی جلنے کا ہنر سیکھ لے۔
نئی جہات کی جستجو انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے۔ مردہ صرف وہ نہیں جس کی روح نکل جائے، بلکہ مردہ وہ ہے جس میں جینے کی اُمنگ، کچھ کر دکھانے کا جذبہ ختم ہوجائے اور ایسا شخص لحیم شحیم خوبرو زندہ ہونے کے باوجود چلتا پھرتا مردہ ہے۔ کامیابی کی آرزو اور کار ہائے نمایاں کی جستجو جس میں ہے وہ لازمی منزل کو پالیگا۔ ابھی نہیں … لیکن پھر کبھی … لیکن ضرور بضرور۔ ناکام مگر سرگرم شخص کی مثال ایک ایسے لنگڑے کی طرح ہے جو دوڑ نہیں سکتا لیکن منزل پر پہنچنے کا خواہش مند ہے اور پھر ایک دن وہ منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے۔
ہم سب زندگی کے ہر معاملے میں ہر بار ہی کامیابی چاہتے ہیں ہم بھول جاتے ہیں کہ یہی ناکامیاں انسان کو سکھاتی ہیں۔ اسے سمجھاتی ہیں کہ اس کی منزل اس سے آگے ہے۔ اگر کوئی انسان بلند حوصلہ، جواں پیکر، پرعزم و سرگرم ہے تو ایسا اسے کامیابیوں نے نہیں ناکامیوں نے بنایا ہے۔ کامیاب شخص جب تک کامیابی کی خوشی نہیں محسوس کرسکتا جب تک وہ ناکامی کا مزہ نہ چکھ لے۔ کبھی کبھی ناکامی کی کچھ وجوہ ہوتی ہیں۔ ہر شخص اگر ان وجوہ پر قابو پالے تو منزل اس کے قدم چومتی ہے۔ اور وہ حتمی طور پر اپنے اہداف ومقاصد کو پالیتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم خاص میدان میں سرگرم عمل رہتے ہیں جس میں کامیابی قدرت کو منظور نہیں ہوتی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی رک جائے۔ کوشش ختم ہوجائے۔۔!! بلکہ سورج بھی ہر روز نکلنے کے لیے ایک ہی سمت کی مختلف جہات و مقامات کا انتخاب کرتا ہے۔ پھر انسان ایک ہی ٹریک، ایک ہی راستہ یا ایک ہی میدان کا انتخاب کیوں کرے؟ گرچہ ایک میدان میں کسی مقام پر ناکامی ہو بھی جائے تو کیا ہوا؟ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ ایک کے بعد ایک سنہری موقع اگر گنوا بھی دیا جائے تب بھی سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ کیوں کہ جسے اپنی ناکامیوں پر فخر نہ ہو تو اسے کامیاب ہونے اور کامیابی کی خوشیاں منانے کا بھی کوئی حق نہیں۔ دراصل ناکامی ان جذبات اور حوصلوں کا ختم ہوجانا ہے جو انسان کو سرگرم و متحرک رکھتے ہوں۔ کوششِ پیہم اور جہد مسلسل کا ہی نام کامیابی اور زندگی کا تمام تر حسن اسی میں پوشیدہ ہے۔ ’’جمود کائنات اکبر سے لیکر کائنات اصغر تک کے لیے موت ہے۔‘‘ سچ جانئے تو زندگی کا مزہ وہی لوگ پاتے ہیں جن کے حوصلے نئی آنے والی ناکامیوں کے مقابلے کے تیار رہتے ہیں اور ان ناکامیوں اور شکستوں کے خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی جیت کا حصہ نکال لیتے ہیں یہی لوگ زندہ دل بھی ہیں۔ بس کامیابی کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنی ہر ناکامی پر سوچے کہ: ’’میں کامیاب تھا۔ کامیاب ہوں۔ اور کامیاب رہوں گا۔۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.