جہاں میں اہل ایمان۔۔۔!!

36

بدھ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات الحمدللہ اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہوگئے۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ پُرامن انتخابات ہوئے۔ پولنگ کے دوران گڑبڑ ضرور ہوئی لیکن بہت کم، البتہ پولنگ کے بعد گنتی کے عمل کے بارے میں شکایات ملنی شروع ہوگئیں۔ حسب سابق و روایت ہر طرف دھاندلی کا شور ہے، بہرحال اب جب کہ انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے اور اب تک موصول ہونے والے نامکمل اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے تو امید ہے کہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر عمران خان ملک کے آئندہ وزیراعظم ہوں گے۔ عمران خان کی کامیابی کے اندرونی و بیرونی عوامل کچھ بھی رہے ہوں لیکن انہوں نے اپنے پہلے پالیسی بیان میں جو کچھ کہا ہے اگر اس پر عمل درآمد میں وہ مخلص ہیں تو اُسے کھلے دل سے تسلیم کرکے کامیابی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ جماعت اسلامی کو ایک بار پھر انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس صورت حال سے جماعت کے کارکنان ایک بار پھر دلبرداشتہ ہیں۔ جماعت کے قائدین اور کارکنان نے جس طرح شب و روز محنت کی اور انتخابی مہم کو بامِ عروج پر پہنچایا تو اِن حالات میں دُکھ تو ہوتا ہے کیوں کہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ جدوجہد کرتا ہے تو کامیابی کی صورت میں اُس کے نتائج بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ خواہش غلط نہیں یہ سرتاپا ایک انسانی رویہ ہے لیکن اپنے کام کے اچھے نتائج دیکھنے کی خواہش کرنا اور نتائج کو پوجنا یہ دو مختلف باتیں ہیں۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اچھے نتیجے کی آرزو کرتے کرتے نتیجے کو پوجنے لگتا ہے، اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اصل چیز نتیجہ ہی ہے۔ اس رویے کی طرف انسان اس لیے جاتا ہے کہ دنیا میں کامیابی کا سکہ چلتا ہے یہاں تک کہ کامیابی ہی حق بن جاتی ہے۔ لیکن الحمدللہ جماعت کے کارکنان یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے الیکشن ووٹوں اور نوٹوں کی مہم کا نام ہے۔ ظلم و زیادتی سے کامیابی حاصل کرنے کی مہم ہے لیکن جماعت اسلامی کے لیے یہ محض ہار یا جیت کا کھیل نہیں بلکہ حق و باطل کا معرکہ ہوتا ہے۔ بدی کو مٹا کر نیکی کو قائم کرنے کی مہم ہوتی ہے۔ فتح و شکست اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے جس علم کو لے کر وہ کھڑی ہوئی ہے وہ گرا نہیں ہے، جس علم کا علمبردار حق تعالیٰ ہو وہ کبھی نہیں گرتا۔
جماعت اسلامی کی سب سے بڑی کامیابی تو یہ ہے کہ وہ 75 سال سے حق کی علمبردار اور دین کے غلبے کی سب سے بڑی ترجمان ہے۔ جماعت اسلامی کی کامیابی یہ ہے کہ اُس نے کبھی کسی فرقے اور مسلک کی دعوت نہیں دی۔ جماعت اسلامی کی کامیابی یہ ہے کہ اُس نے کبھی کسی کو نسل، زبان، ذات، برادری کے تعصب کی طرف نہیں بلایا۔ فرد اور جماعت اگر کامیاب ہوتے ہیں تو ان کے لیے اپنے تصورِ حق پر قائم رہنا آسان ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص کرم ہے کہ اس نے پے در پے ناکامیوں کے باوجود بھی اپنے تصورِ حق کو نہیں چھوڑا۔ جماعت اسلامی تو وہ لوگ ہیں جو بنگلادیش میں آج بھی اسلام اور پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسیاں چڑھ رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی شور نہیں مچایا کہ ’’ہمیں کیوں مارا‘‘۔ بلکہ انہوں نے پھانسی کا پھندا چوم کر اپنے ہاتھ سے اپنے گلے میں ڈالا اور سرخرو ہو کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوگئے۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں
مولانا مودودیؒ سے ایسے ہی کسی موقع پر کسی نے سوال کیا تھا جس کے جواب میں مولانا صاحب نے فرمایا ’’کہ ہم تو دیہاڑی کے مزدور ہیں جس طرح ایک مزدور کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ عمارت کب تیار ہوگی، تیار ہوگی بھی یا نہیں، بلکہ ان کو تو اپنے حصے کا کام کرکے مالک سے اُجرت لینی ہوتی ہے، اسی طرح ہم سب کو بھی اپنے اپنے حصے کا کام کرکے اپنے مالک و خالق سے اپنی مزدوری لینی ہے‘‘۔
عزم یہ نہیں ہے کہ منزل پر پہنچ کے دَم لیں گے
بلکہ عزم یہ ہے کہ رُکیں گے نہیں
منزل تو مالک کا عطیہ ہے چاہے یہاں ملے یا ’’وہاں‘‘۔
نسیم بیگم، عجب خان کالونی، نارتھ ناظم آباد

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.