۔12 مئی کا قتل عام طے شدہ منصوبہ تھا ،سندھ ہائیکورٹ 

231

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عدالت عظمیٰ کے حکم پر سندھ ہائی کورٹ میں سانحہ 12 مئی کی ازسرنو تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی‘ عدالت نے وفاقی اور سندھ حکومت سے کمیشن کے ٹی او آرز طلب کرلیے ۔ عدالتی معاونین بیرسٹر فیصل صدیقی اور شہاب سرکی ایڈووکیٹ کو پیر کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی جبکہ عدالت میں پولیس کی جانب سے کیس کی تفصیلات پیش کی گئیں جس میں کہا گیا کہ کراچی کے مختلف تھانوں میں 12 مئی کیس کی 54 ایف آئی آر درج کی گئیں‘میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف بھی 12 مئی سانحہ کے مقدمات ہیں۔ عدالت میں ڈپٹی پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ وسیم اختر اس کیس میں ضمانت پر رہا ہیں‘ جسٹس کے کے آغا نے پولیس سے استفسار کیا کہ صرف ایک بڑی مچھلی پر ہاتھ ڈالا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ کچھ بڑے ملزمان مفرور ہیں‘ ان کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے لیے نادرا کو خط لکھ دیا ہے‘ اے آئی جی لیگل خط کی نقل عدالت میں پیش نہ کرسکے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا۔ وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت کو کمیشن تشکیل دینے کا اختیار ہے لیکن یہ مفید نہیں ہوگا‘ مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں‘ انہیں تیزی سے نمٹانے کی ہدایت کر دیں۔ جسٹس کے کے آغا کا کہنا تھا کہ لیکن ماسٹر مائنڈ تک کیسے پہنچا جائے؟سابق چیف جسٹس پاکستان کو عدالت تک نہیں آنے دیا گیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کنٹینر لگانے کے حکم کے ساتھ ساتھ حکم دینے والے کی نیت کا بھی جائزہ لینا ہوگا‘ ممکن ہے کنٹینر سڑک پر لگانے والے کو قتل و غارت کا اندازہ نہ ہو۔ جسٹس کے کے آغا کا کہنا تھا کہ یہ طے شدہ منصوبہ تھا، کوئی تنظیم اس کے پیچھے تھی‘ لوگ تعینات کیے گئے تھے۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے جنہیں فائرنگ کرتے دکھایا ان کے مقدمات بھی اے کلاس کردیے گئے۔ درخواست میں سابق صدر پرویز مشرف، بانی ایم کیو ایم، سابق مشیر داخلہ اور میئر کراچی وسیم اختر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے حکم پر ایم کیو ایم نے کراچی میں قتل عام کیا‘ 12 مئی 2007ء کو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کا راستہ روکنے کے لیے دہشت گردی کی گئی‘ دہشت گردی کے واقعات میں50 سے زاید افراد جاں بحق ہوگئے تھے ، سانحہ کی از سر نو تحقیقات کرائی جا ئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ