اسرائیلی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا ، درجنوں فلسطینی گرفتار و زخمی

111
مقبوضہ بیت المقدس: نوجوان مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کا مقابلہ کررہے ہیں‘ قابض انتظامیہ نے حرم کے راستے بند کردیے ہیں‘ فلسطینی شہری کو گرفتار کیا جارہا ہے
مقبوضہ بیت المقدس: نوجوان مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کا مقابلہ کررہے ہیں‘ قابض انتظامیہ نے حرم کے راستے بند کردیے ہیں‘ فلسطینی شہری کو گرفتار کیا جارہا ہے

مقبوضہ بیت المقدس (رپورٹ: منیب حسین) قابض اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی اور گرفتار کرلیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف نے بتایا کہ صہیونی فوج نے جمعہ کے روز فلسطینی شہریوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر نئی پابندیاں عائد کردی تھی۔ اس دوران اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری مسجد اقصیٰ کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات کی گئی۔ اس کے علاوہ فلسطینی خواتین اور مرد نمازیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کے لیے شناختی کارڈ پاس رکھنا لازمی قرار دیا گیا۔ فلسطینی مسلمانوں نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ’انتفاضہ باب الاسباط‘ کی یاد میں ریلی نکالنے کی کوشش کی تو قابض فوج نے ان پر دھاوا بول دیا۔ قابض فوج گولیاں اور آنسوگیس برساتی ہوئی مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئی، اور قبہ الصخرہ کا محاصرہ کرکے نمازیوں کو باہر نکال دیا۔ اس کے بعد قابض فوج نے مصلیٰ قبلی پر دھاوا بولا اور اس میں موجود نمازیوں پر تشدد کرکے انہیں بھی مسجد سے نکال دیا۔ اس دوران درجنوں نمازی
زخمی ہوئے، جب کہ قابض فوج نے مسجد اقصیٰ کے پہرے داروں سمیت کئی نمازیوں کو حراست میں لے لیا۔ قابض فوج نے مسجد اقصیٰ کے راستے بھی بند کردیے۔ یادرہے کہ یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے نزدیک آدم نامی یہودی بستی میں جمعرات کے روز چاقو سے حملے میں ایک یہودی آباد کار کی ہلاکت اور 2 کے شدید زخمی ہونے کے بعد پیش آیا۔اس واقعے میں حملہ آور فلسطینی کو شہید کر دیا گیا۔ اسرائیلی میڈیکل ذرائع نے بتایا کہ دونوں اسرائیلی زخمیوں کو بیت المقدس میں ایک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد صہیونی حکومت نے انتقامی کارروائی کے تحت مغربی کنارے میں یہود کے لیے 400 گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ اسرائیل کے شدت پسند وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے ایک یہودی آباد کار کے قتل کے جواب میں فلسطینیوں کو 400 یہود کے مکانات کی تعمیر کی شکل میں قیمت چکانے پرمجبورکیا ہے۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پرپوسٹ کردہ ایک بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع لائبرمین نے کہا کہ فلسطینیوں کی ’دہشت گردی‘ کا بہتر جواب یہودی آباد کاری میں اضافہ ہے۔ میں غرب اردن کے علاقے رام اللہ میں ’آدم‘ یہودی کالونی میں مزید 400 مکانات کی تعمیر کا اعلان کرتا ہوں۔ دوسری جانب جمعہ کے روز غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کا ہفتہ واری احتجاج جاری رہا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا 43سالہ غازی محمد ابو مصطفی جام شہادت نوش کرگیا۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسوگیس سے درجنوں فلسطینی زخمی اور متاثر بھی ہوئے۔ غزہ کی سرحد پر 30مارچ سے جاری احتجاج میں اب تک 153 فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔
فلسطینی گرفتار و زخمی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ