دُعا

145

محمد امجد جدوار

انسان اور اللہ کے درمیان رشتہ خالق و مخلوق کا ہے، اور اللہ نے انسان کو یہ فضیلت بھی عطا فرمائی کہ اسے اپنی تمام تر مخلوقات میں سب سے اعلیٰ مرتبہ و مقام عطا فرماتے ہوئے اسے اشرف المخلوقات بنایا۔
اور انسان وجنات کی تخلیق کا مقصد بھی رب تعالیٰ نے خود بیان فرمادیا کہ ہم نے انسان و جنات کو اپنی بندگی کی خاطر ہی پیدا فرمایا۔ انسان پر دنیا میں مختلف نشیب و فراز آتے ہیں، کبھی اس پر خوشی کی باد صبا چلتی ہے تو کبھی دکھ کی آندھیاں… کبھی حالات کے تھپیڑے اسے پریشان کردیتے ہیں تو کبھی مایوسی کے گرد وغبار اس کے سامنے کا منظر دھندلا کردیتے ہیں، اسی کش مکش میں بسا اوقات انسان مایوسی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے، اور چاروں طرف کے راستے بند ہو جاتے ہیں تو اس وقت فقط ایک ہی سہارا رہ جاتا ہے، امید کی صرف ایک ہی کرن نظر آتی ہے وہ ہے دعا۔
بلاشبہ ایک دعا ہی تو ہے جو ٹوٹے ہوئے دلوں کا سہارا ہے۔ مایوس لوگوں کے لیے دعا مداوا ہے، جب زمانے کا ٹھکرایا ہوا انسان بارگاہ رب ذوالجلال میں پہنچتا ہے، اور ہاتھوں میں لرزا ہو، جسم کپکپا رہا ہو، زبان لڑکھڑا جائے، زمانے کا ستایا ہوا انسان جب بارگاہ خداوندی میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو آنکھوں سے اشکوں کی برسات ہوتی ہے تو اس کی دعائیں بارگاہ رب ذوالجلال کے باپ رحمت پر ضرور دستک دیتی ہیں تو اس کے مسائل رب تعالیٰ خود بخود حل فرما دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: تم مجھ سے دعا مانگو، میں تمہاری دعائوں کو قبول کروں گا۔
اسی طرح قرآن مجید میں ارشاد باری ہے کہ جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت قریب ہوں، ہر پکارنے والی کی پکار کو ، جب بھی وہ مجھے پکارے گا قبول کرتا ہوں ۔
ایک طویل حدیث قدسی جو صحیح مسلم میں منقول ہے۔ اس میں فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو! اگر تم سب اولین و آخرین اور جن و انس ایک صاف چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگنے لگو اور میں ہر انسان کو جو وہ مجھ سے مانگے گا عطا کردوں گا، اور میرے خزانے میں اس قدر بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے ۔
آپؐ فرماتے ہیں کہ روزانہ جب آدھی رات یا رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اسے عطا کیا جائے، کیا ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے، کیا ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ اسے بخش دیا جائے۔ یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔ (بخاری)
آپ کا ایک ارشاد یہ بھی منقول ہے کہ، اللہ کے ہاں دعا سے زیادہ کوئی عمل عزیز نہیں ہے۔
رب ذوالجلال کا دربار بھی سب سے اعلیٰ ہے اور اس کے اصول سب اعلیٰ و انمول ہیں کہ ، آپؐ نے فرمایا: جو بندہ اللہ سے نہ مانگے اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں۔ (ترمذی)
اس لیے آپؐ نے فرمایا کہ دعا مومن کا خاص ہتھیار ہے۔ (ابو یعلی)
یوں تو آپؐ سے ہر موقع، ہر لمحے کی دعائیں منقول ہیں۔ ان کا اہتمام یقینا موثر ہوا کرتا ہے۔
ان دعائوں کے بارے میں مولانا ابو الحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں: یہ دعائیں مستقل معجزات اور دلائل نبوت ہیں۔ ان کے الفاظ شہادت دیتے ہیں کہ یہ ایک پیغمبر ہی کی زباں سے نکلے ہیں، ان میں نبوت کا نور ہے، پیغمبر کا یقین ہے، عبد کامل کا نیاز ہے۔
بس اوقات زبان رسالت سے ایسی دعائیں بھی منقول ہیں جن کو پڑھ کر آج بھی جسمانی کیفیت عجیب ہو جاتی ہے کہ نجانے آقا نامدارؐ نے کس کیفیت میں یہ دعا مانگی ہوگی، جیسے سفر طائف میں جسم اطہر زخموں سے چور ہے پھر بھی زبان مبارک سے شکوے کے بجائے رب کی رضا طلب کی گئی۔
ایک ایسی ہی دعا جو فصاحت و بلاغت کا بے مثال نمونہ ہے۔ عربی میں منقول ہے، اس کا اردو ترجمہ بھی ایک مشہور ادیب نے کیا ہے۔ ذرا دیکھیے یہ الفاظ کس عالم میں کہے گئے ہوںگے۔
’’ میرے اللہ تو میری نوا سن اور میرا مقام دیکھ رہا ہے، میرا باطن و ظاہر جانتا ہے، میرا معاملہ تجھ سے پوشیدہ نہیں، میں مصیبت زدہ، محتاج، فریادی، پناہ گو، لرزاں و ترساں، اپنے گناہوں کا معترف و اقراری، مسکین کی طرح تجھ سے سوالی ہوں اور گناہگار عاجز کی مانند گڑگڑاتا ہوں، میں تجھ سے دعا مانگ رہا ہوں ، اس دکھی لرزیدہ شخص کی سی دعا جس کی گردن تیرے سامنے خم ہوئی، جس کے آنسو تیرے لیے بہے، جس کا جسم تیری بندگی کے لیے جھکا، جس کی ناک تیرے لیے خاک آلود ہوئی، میرے رب! میرے اللہ! مجھے اس دعا سے محروم نہ کرنا، اے ارحم الرحمین ! اے ارحم الرحمین۔
آج ہر طرف مایوسی کے ڈیرے ہیں، ناامید کی ہوائیں چل رہی ہیں، ہر فرد پریشانی میں ڈوبا ہوا ہے، بلاشبہ یہ پریشانیاں آزمائش ہیں لیکن ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اسباب دنیا کے ساتھ دعائوں کا اہتمام ضروری ہے، آج ہمارا تعلق رب سے کمزور ہے، بھری مسجدوں میں نمازوں کے بعد چند ہی نمازی ہوں گے جو ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے نظر آئیں گے۔ عموماً عبادات کے بعد مساجد سے جلد ہی نکل پڑتے ہیں۔ سالہال سال گزر جاتے ہیں رب کے حضور ہاتھ اٹھانے کی توفیق نہیں ہے۔
آئیے، عزم کیجیے، دعائوں کا اہتمام کریں۔ بلاشبہ دعائوں کے ذریعے ہی مشکلات دور ہوں گی کیوں کہ اللہ پاک کا واضح اعلان ہے کہ مجھ سے مانگو، تمہاری دعائوں کو قبول کروں گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ