غیر پارلیمانی و غیر مہذبانہ طرزِ تکلم

350

ہمارے معاشرے میں مذہبی انتہا پسندی اور غیر مہذبانہ طرز تکلم عروج پر ہے، سیاستدان اور علمائے اکرام اسٹیج پر کھڑے ہو کر جو انداز اپناتے ہیں اس سے سامعین پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، فیض آباد کے دھرنے میں جو زبان استعمال کی گئی وہ کسی طور عالم دین کے شایان شان نہ تھی۔ 2014ء کے دھرنے میں اور ماڈل ٹاؤن کے حالیہ جلسے میں شیخ رشید کا نہ صرف جارحانہ انداز بلکہ پارلیمنٹ کی تذلیل کی گئی جب کہ ہر سیاستدان کروڑوں روپے خرچ کرکے انتخاب میں کامیاب ہو کر ہی پارلیمنٹ میں قدم رکھتا ہے اور وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھتا ہے۔ ماضی میں 120 دن دھرنے میں کیا کچھ نہیں کہا گیا مگر ناکام و نامراد ہو کر بے شرمی سے پارلیمنٹ میں واپس آگئے، وہ تو دعائیں دیں اسپیکر قومی اسمبلی اور امیر جماعت اسلامی کو پی ٹی آئی والوں کی طرف سے دیے گئے استعفے منظور نہ ہوئے اور اس دوران غیر حاضری کی تنخواہ وصول کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کی۔ یہ کس قسم کی سیاست ہے کہ پارلیمنٹ پر لعنت بھی بھیجتے ہیں اور اسی پارلیمنٹ کے اراکین بن کر مالی فائدے اور پُرکشش مراعات بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہ کمال کے سیاستدان ہیں کہ غیر سیاسی قوت کو دعوت دیں۔ پارلیمنٹ کو بُرا بھلا کہیں بلکہ تمام اراکین کے خلاف گندی زبان استعمال کریں اور وزیراعظم بننے کے خواب بھی دیکھیں۔ حیرت یہ ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لیے پنکی پیرنی سے دعائیں لینے جاتے رہے ہیں جن کی روحانیت کا یہ حال ہے کہ 30 سالہ رفیق سے فرماتی ہیں کہ انہیں نبی اکرمؐ نے زیارت کرائی ہے اور کہا ہے کہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر عمران خان سے شادی کرلو وہ وزیراعظم بن جائے گا۔ اُس کی تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔ جس پر شوہر نامدار اسی خوش فہمی میں کہ بہرحال سابقہ بیگم خاتون اول تو ہوگی فوراً برسہا برس کی رفاقت ختم کردیتے ہیں۔
حبیب الرحمن، اقرا کمپلیکس گلستان جوہر، کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ