لاہور ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی کی تشکیل غیر قانونی قرار دیدی

263

لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تشکیل غیر قانونی قرار دے دی۔ عدالت نے نجی میڈیکل کالجز کو براہ راست داخلہ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے 2016 ء کی سینٹرل ایڈمیشن پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا، ینگ ڈاکٹرز ایسویسی ایشن کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا، انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے مافیا کو کھلی چھٹی مل گئی، جس کے نتیجے میں ذہین، غریب اور محنتی طلبہ کے لیے میڈیکل کی تعلیم کے دروازے بند ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے نجی میڈیکل کالجز کو سال 2013ء کی پالیسی کی روشنی میں داخلے کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے موجودہ پی ایم ڈی سی کی تشکیل غیر قانونی قرار دیتے ہوئے موجودہ کونسل کو نئے انتخابات ہونے تک صرف انتظامی امور جاری رکھنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے وفاقی حکومت کو پی ایم ڈی سی کے 90 یوم میں انتخابات کرانے کاحکم دے دیا۔ عدالت نے اے لیول،، او لیول اور بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے طالبعلموں کو سیٹ ٹو اینٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر داخلے کا اہل قرار دے دیا اور پی ایم ڈی کے تمام آرڈیننس کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے مشترکہ کونسل کو پی ایم ڈی سی کے موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر 6 ماہ میں نئے قوانین تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ