حضرت ام عمارہ ؓ جانباز وجری صحابیہؓ،جنہوں نے چار غزوات میں عملی حصہ لیا

32

کلیم چغتائی

(گزشتہ سے پیوستہ)
’’جب مسلمان (کفار کے حملے کی وجہ سے) پیچھے ہٹے تو میں رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھ گئی۔ میں اپنی تلوار سے ہر اس شخص پر حملہ کرتی جو رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچانے کے لیے بڑھتا۔ کبھی اپنی کمان سے تیر چلاتی۔ یہاں تک کہ میں زخمی ہوگئی‘‘۔ حضرت ام سعد ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی خالہ کے کندھے پر زخم کا گہرا نشان دیکھا۔ حضرت ام عمارہؓ نے بتایا کہ یہ زخم ایک کافر ابن قمیئہ نے لگایا۔ وہ ہر ایک سے کہتا تھا مجھے بتائو محمدؐ کہاں ہیں۔ حضرت معصبؓ بن عمیر اور دیگر صحابہؓ نے حضور ﷺ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس وقت ابن قمیئہ نے مجھ پر وار کیا۔ میں نے بھی اس پر کئی وار کیے مگر اس نے دو دو زرہیں پہن رکھی تھیں۔
حضرت امِ عمارہؓ نے ایک اور مقام پر اس جنگ کا حال اس طرح بیان فرمایا:
’’میں نے دیکھا رسول ﷺ اللہ کے گرد دس بارہ افراد رہ گئے تھے۔ میں، میرے شوہر اور بیٹے حضور ﷺ پر ہونے والے حملوں کو روک رہے تھے۔ حضور ﷺ نے مجھے بغیر ڈھال کے دیکھا تو ایک اور صحابیؓ سے فرمایا: ’’تم اپنی ڈھال اسے دے دو جو ابھی جنگ کا ارادہ رکھتی ہے‘‘۔ میں نے وہ ڈھال لے لی۔ ایک کافر گھڑ سوار نے بڑھ کر مجھ پر تلوار سے وار کیا۔ میں نے ڈھال آگے کردی۔ پھر میں نے اس کے گھوڑے کے ٹخنے کے قریب چوٹ لگائی۔ وہ اپنی پیٹھ کے بل گرا۔ یہ دیکھ کر رسول ﷺ اللہ نے میرے بیٹے کو آواز دی کہ اپنی ماں کو دیکھو۔ وہ فوراً آیا۔ ہم دونوں ماں بیٹے نے مل کر اس گھڑ سوار کافر کو ہلاک کردیا‘‘۔
اسی جنگ میں حضرت امِ عمارہؓ کے ایک صاحب زادے عبداللہ کا بازو زخمی ہوگیا۔ حضرت امِ عمارہؓ نے پہلے سے تیار پٹیاں زخم پر باندھ دیں۔ پھر انہوں نے بیٹے سے کہا: ’’اٹھو میرے بیٹے، جنگ میں شریک ہوکر مشرکین پر وار کرو‘‘۔ نبی کریم ﷺ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’اے امِ عمارہؓ تم جیسی ہمت اور طاقت کون رکھتا ہے؟‘‘۔
حضرت امِ عمارہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو کس مشرک نے زخمی کیا تھا۔ میں نے بڑھ کر اس کی پنڈلی پر زور سے وار کیا وہ زمین پر گر پڑا۔ میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر اس مشرک کا خاتمہ کردیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: ’’اے نسیبہ ؓ، تم نے اپنے بیٹے کا بدلہ لے لیا‘‘۔
حضرت امِ عمارہؓ نے غزوۂ احد میں 12کفار کو زخمی کیا اور خود انہیں اس جنگ میں 13زخم آئے۔ کندھے کے زخم کا علاج سال بھر جاری رہا۔ اس کے بعد ایک اور جنگ غزوۂ حمرا الاسد کا موقع آگیا۔ حضرت امِ عمارہؓ اس جنگ میں شرکت کے لیے نکل آئیں لیکن کندھے کے زخم سے خون بہنے لگا اور آپ ؓ بے ہوش ہوگئیں۔ اس لیے میدان جنگ تک نہ پہنچ سکیں۔
حضرت امِ عمارہؓ نے غزوۂ خندق میں بھی شرکت فرمائی۔ آپؓاس جنگ میں دشمنوں پر کڑی نظر رکھتی تھیں اور مسلمانوں کوکھانے پینے کا سامان پہنچانے کا انتظام کرتی تھیں۔ حضرت امِ عمارہؓ صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی موجود تھیں۔ جب حضور ﷺ نے ایک درخت کے نیچے تمام صحابہؓ سے بیعت لی جو ’’بیعت رضوان‘‘ کہلاتی ہے تو ان صحابہ میں حضرت عمارہؓ بھی شامل تھیں۔ حضرت امِ عمارہ ؓ غزوۂ حنین اور غزوۂ خیبر میں بھی شریک ہوئیں۔ آپ نے دشمنوں کی سازشوں پر نگاہ رکھی۔ مجاہدین کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کیں اور زخمیوں کو طبی امداد دی۔ حضرت امِ عمارہؓ نے فتح مکہ کا یادگار دن بھی دیکھا۔
رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں ایک شخص نے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اس کا نام مسیلمہ تھا۔ اس کو مسیلمہ کذاب کہا جانے لگا یعنی مسیلمہ جھوٹا۔ اس نے ایک بڑی فوج بھی تیار کرلی۔ اس کو سمجھانے اور دین کی دعوت دینے کے لیے جن صحابی کا انتخاب کیاگیا وہ تھے حضرت امِ عمارہؓ کے صاحبزادے حضرت حبیب بن زیدؓ۔ وہ مسیلمہ کے پاس گئے۔ اس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس ظالم نے حضرت حبیبؓ پر تلوار سے وار کرنے شروع کردیے اور ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے انہیں شہید کردیا۔
حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے مسیلمہ کذاب اور اس کی فوج سے لڑنے کے لیے ایک لشکر روانہ کیا۔ اس لشکر کے سربراہ حضرت خالد بن ولیدؓ تھے۔ حضرت امِ عمارہؓ بھی اپنے دوسرے بیٹے حضرت عبداللہ بن زید ؓ کے ساتھ اس لشکر میں شامل تھیں۔
ہمامہ کے مقام پر زبردست جنگ ہوئی۔ مسیلمہ کی فوج نے سخت مقابلہ کیا لیکن آخر وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے مسیلمہ کے ایک باغ میں داخل ہوگئی۔ یہ باغ قلعے کی طرح تھا۔ مسیلمہ کے لوگوں نے قلعے کادروازہ بند کرلیا لیکن ایک صحابی نے دیوار پھاند کر قلعے کا دروازہ کھول دیا اور مسلمانوں کی فوج اندر داخل ہوگئی۔ حضرت امِ عمارہؓ فرماتی ہیں: ’’میرا ارادہ تھا کہ مسیلمہ کو قتل کروں گی۔ میں قلعے کے اندر چلی گئی۔ اچانک مسیلمہ کے ایک حمایتی نے مجھ پر وار کیا جس سے میرا ایک ہاتھ کٹ گیا۔ میں پھر بھی آگے بڑھتی گئی۔ جب میں مسیلمہ کے پاس پہنچی تو میرا بیٹا خون لگی ہوئی تلوار مسیلمہ کے کپڑوں سے صاف کررہا تھا۔ میں نے پوچھا کیا اس کو تم نے قتل کیا ہے؟ بیٹے نے کہا، ہاں۔ یہ سنتے ہی میں نے شکر کا سجدہ ادا کیا‘‘۔ دیگر روایات میں بتایاگیا ہے کہ حضرت وحشیؓ نے مسیلمہ پر اپنا خاص نیزہ پھینکا تھا اور حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے تلوار سے وار کیا تھا۔
اس جنگ کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے بڑی توجہ سے حضرت امِ عمارہؓ کا علاج کروایا۔ ان کے زخم تو اچھے ہوگئے لیکن ایک ہاتھ کلائی کے پاس سے کٹ چکا تھا۔
حضرت امِ عمارہؓ نے ۱۳ھ/۶۳۴ء میں وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ اس بہادر صحابیہؓ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ (ختم شد)

حصہ