(دائرے میں سب کچھ (افسانہ

26

اسما صدیقہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہاں میں نے دراصل ماہا کو اشارے دیے تھے کہ گھر آکر سرپرائز دوںگی بھائی کو ایک کیوٹ سی چارم فل لڑکی تلاش تھی کمپنی ایڈ کے لیے وہ ماہا کی صورت میں انہیں مل گئی یقین کریں بہت لڑکیوں کو ریجیکٹ کرچکے ہیں۔
یہ تو اس کی لک ہے ورنہ ایسے چانس کسی کسی کو ہی ملتے ہیں اسکوپ بہت ہے اس میں‘‘ اس نے اصل بات کھول کر رکھ دی اور سب جیسے اس بالکل غیر متوقع بات پہ حیران بھی تھے اور امی اور پھوپھو کا تو غصے سے بہت بُرا حال تھا۔
ماہا بے چاری کا تو وہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، امی کھا جانے والی نظروں سے ماہا کے ساتھ رامین کو بھی دیکھ رہی تھیں وہ تو پھوپھو نے اشارے سے انہیں چپ رہنے کو کہا ورنہ اُن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس بے شرم لڑکی کو مار مار کر گھر سے نکال دیں۔
چھن۔ چھن۔ ماہا کے اندر چھن سے ایک خوابوں کا تاج محل ٹوٹ کر دھڑم سے گرا تھا وہ جیسے زمین پہ آگئی تھی ہوا میں اڑنے کے بعد۔ ادھر رامین یہی سمجھی کہ ماہا نے یہ بات بتائی نہیں یا پھر گدھی نے اشارے نہیں سمجھے اپنی عزت کا پاس کرتے ہوئے اور کچھ پھوپھو کے اشارے پہ عمل کرتے ہوئے ماہا اور اس ماں نے خاموش احتجاج کیا ادھر رامین بھائی کی مس کال ٹون پہ جلدی سے جانے کو اُٹھی کہ اب یہاں بیٹھنا ہی بے کار تھا ماہا نے اندر کمرے میں دوڑ لگائی اور بے دم سی بیڈ پر گر کر بُری طرح رونے لگی۔
’’تو کرلی اپنی مرضی اس سارے ڈرامے کے لیے سارا اہتمام ہورہا تھا ہماری تو کوئی حیثیت ہی نہیں، کتنے مزے سے کہہ رہی تھی بے شرم لڑکی کہ اوکے کردوں تو بھائی کو بلالیں گے ارے اس ماہا جیسی بے وقوف لڑکیوں کی وجہ سے تو ایسے بزنس چل رہے ہیں‘‘ امی غصے سے پھٹ پڑیں۔
’’بھابی چھوڑیں بس اللہ نے بچالیا گڑھے میں گرنے سے‘‘ پھوپھو امی کو ٹھنڈا کررہی تھیں جو مسلسل شعلہ بار نگاہوں سے ماہا کو دیکھ رہی تھیں۔
’’اچھا کوئلے کی دلالی میں منہ کالا کروانے بیٹھی تھی‘‘ وہ مزید بولیں۔
’’امی اللہ کی قسم جو رامین نے مجھ کو یہ سب بتایا وہ تو بس پسند آنے کی بات کررہی تھی مجھ کو کیا پتہ تھا کہ وہ ایسے پسند آنے کی بات کررہی ہے۔ بتائیے پھوپھو اس طرح کے میسج کا کیا مطلب ہوسکتا ہے اس نے مجھ کو دھوکے میں رکھا اور سرپرائز کا نام دے رہی تھی‘‘ ماہا نے ساری بات سچ کے ساتھ کہی تھی۔
’’ارے شکر کرو تمہارے باپ گھر پہ نہیں تھے ورنہ تمہارے ساتھ میرا بھی حشر کردیتے کہ جائو نکلو گلی میں ایسے تماشے کرنے کے لیے‘‘ جاہ و جلال اب بھی باقی تھا۔
’’بس بھابی بات کو یہیں ختم کردیں اس لیے کہ جب دائرے کا علم نہ ہو اور دائرے بتانے والے اس کو قید اور بے رنگی کی شکل میں پیش کریں اور تذلیل آمیز رویوں کے ساتھ لڑکیوں کو گھٹن میں رکھ کر اُسے مذہب کا نام دیں تو لڑکیاں رنگارنگ گمراہی میں تو جائیں گی ہی، سارا حسن شر میں دکھایا جاتا ہے خیر کو خوبصورتی کے ساتھ کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟‘‘ پھوپھو نے وضاحت سے جواب اور سوال دونوں سامنے رکھ دیے جس کی امی بھی تائید کررہی تھیں۔
’’بس اب میں خود کو مارلوں گی سمجھوتا ہی کرلوں گی آپ لوگ جہاں مرضی ہاں کردیں‘‘ ماہا ہار کے جیسے پسپا ہوگئی تھی اور اپنی دانست میں زہر کا پیالہ پینے بیٹھی تھی۔
’’کیوں مارلو گی چندا، حقیقت پسند بنو حقیقت پسند بنو ابھی آنے والوں کو آنے دو ہاں نہ کا سوال تو بعد کا ہے ہماری رضا کے بغیر اب بھی کچھ نہیں ہوگا ساری چھان بین اور تسلی کے بعد قدم اُٹھائیں گے مگر یہ بھی یاد رکھنا گھر آئی نعمت کی ناقدری کرو گی تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا‘‘ پھوپھو ماہا کا ذہن بنانے کے لیے اسے اعتماد میں لے رہی تھیں۔
ادھر ماں نے بھی رو رو کر معافی مانگتی بیٹی کو لپٹا ہی لیا ’’بس اللہ سے توبہ کرو اور اچھے نصیبوں کی دُعا کرو وہ ضرور قبول کرے گا میں نے کہا تھا نا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اس پر ذرا جو دھیان دیا مگر اب تو قلعی کھل گئی نا‘‘۔
دوسرے روز ہی ربیعہ خالہ کا فون آگیا کہ ماہا کی تصویر ان کو پسند آئی وہ لوگ آپ سے ملنے آنا چاہ رہے ہیں۔ بتائیے کب آئیں اور بھی کچھ باتیں امی سے ہوتی رہیں۔
’’مگر زینب انہوں نے ہلکی سی شرط رکھی ہے وہ نہ تو جہیز کی ہے نہ کوئی اور ڈیمانڈ‘‘ امی نے پھوپھو کو فون پہ بتایا مگر بڑے اطمینان کے ساتھ۔
’’بس اللہ خیر کرے مگر ابھی کیسی شرط بھابی ابھی تو وہ لوگ آئے بھی نہیں‘‘ پھوپھو نے فکر مندی سے جواب دیا۔
’’بس تم کو کل پھر آنے کی زحمت کرنی پڑے گی دراصل ربیعہ آپا کہہ رہی تھیں کہ لڑکے کی اچھی جاب تو دو سال سے ہے ماں نے بیوہ ہونے کے بعد سلائیاں کرکے بچوں کو پالا، تعلیم دلائی دو بیٹیوں کی شادی کی۔ ماشاء اللہ اللہ نے کام میں برکت دی، ایک دکان لے کر بوتیک کھولا وہ ایسا چلا کہ اپنی دکان خرید لی، وہ اونر کی حیثیت سے دو گھنٹہ وہاں گزارتی ہیں۔ اُن کی خواہش ہے کہ اگر ہو سکے تو شادی کے بعد کبھی کبھار بہو وہاں چلی جایا کرے تا کہ وہ حفظ قرآن شروع کرلیں‘‘ امی نے پھوپھو کو شرط بتائی جو ایسی خاص بھی نہیں تھی۔
’’اچھی بات ہے بھابی ایک تو مجھ کو آنے میں کوئی زحمت نہیں خوشی ہوگی، ماہا میری اپنی ہے دوسرے یہ تو بعد کا معاملہ ہے ممکن ہو تو ماہا کی اونر بننے کی دعا یوں قبول ہوئی سمجھیں دیکھیں اللہ کس طرح راستے بناتا ہے بس آگے نصیب اچھا کرے آمین‘‘۔ پھوپھو کو بھی جیسے اطمینان تھا۔
ماہا کو اُس روز رامین کے آنے پہ جو شاک لگا تھا اور جو اس کی تذلیل ہوئی تھی اس کا اثر یکا یککہیں محو ہوگیا، سر سے منوں وزنی بوجھ اُتر گیا تھا جواد حسن کی تصویر گلیمر کی قلعی کھلنے کے بعد اچھی نہیں بہت اچھی لگنے لگی تھی۔
اونر، آنر اگلا گھر سب ہی کچھ تو ملنے لگا تھا، او میرے خدا آپ کو میرے جیسے غافل لوگوں سے ابھی اتنا پیار ہے۔ روایتی قیدی اور قدرت کے کھینچے ہوئے دائرے میں رہنے کا فرق صاف واضح ہوگیا تھا، سچائی حسن کے ساتھ ظاہر ہورہی تھی۔ اُس نے خدا سے رو رو کر ایک ہی دن تو معافی مانگی تھی خیر کی دعا کی تھی مگر اس نے اتنی غافل اور گناہگار لڑکی کی معصوم دعا کو اتنی جلدی شرف باریابی عطا کردیا۔
’’میں کیسے شکر ادا کروں اللہ کا کہ وہ شہ رگ سے واقعی قریب ہے اتنا مہربانی اور میں اسے اتنی بھولی ہوئی تھی‘‘ وہ شرمندہ تھی۔ آنسو اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے جس میں ندامت بھی تھی اور شکر بھی اور یہ واضح احساس بھی کہ قدرت کے بنائے ہوئے دائرے میں ہی تو سب کچھ ہے اور اس کے باہر بلیک ہول کے سوا کچھ نہیں۔
(ختم شد)

حصہ