آسانیاں بانٹنے کا شرف اتنی آسانی سے نہیں ملتا 

2064

اسلام آباد سے آنے والے اس فون نے مجھے اپنے لاہور آنے کا مقصد بتا کر اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا، یہ سہیل اقبال بھٹی تھے۔ روزنامہ ڈان میں ایک طویل عرصہ گزار کر اب ۹۲ نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں، اسلام آباد سے دن میں اپنے اخبار کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں اور شام میں ٹی وی کے لیے تجزیہ، سرکاری ادارے اور شخصیات ان کی خاص بیٹ ہے، ملتان شہر سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان صحافی پر ابھی وہ رنگ تو نہیں چڑھا جس کا حوالہ انہی کے شہر کے ایک اور معروف صحافی بن چکے ہیں وہ انہی کے چینل پر ایک لاکھ کے سرکاری منصوبے میں ایک گھنٹے سے بھی قبل ایک کروڑ کی بددیانتی اور کرپشن یوں ثابت کر دیتے ہیں کہ دیکھنے سننے والے کے کانوں سے بھی دھواں نکلنے لگتا ہے، وہ لائیو پروگرام میں سی پیک منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے لیہ کی ٹوٹی سڑکوں کا وہ نقشہ کھینچنے کی قابلیت رکھتے ہیں کہ سننے والے کا جی چاہتا ہے سی پیک جائے بھاڑ میں پہلی فرصت میں لیہ کی سڑکوں کی مرمت ہی ہو نی چاہیے۔ مودب اور متواضح سہیل سے محبت اور تعلق میں کئی مشترک باتیں ہیں، ہم دونوں اشفاق صاحب سے محبت کرتے ہیں اور حد یہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد بھی، یاد رکھنے کا یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہاں صرف فلمی ستاروں کو استثناء دے لیں وہ اس قوم کو نہیں بھولتے اور نہ ہم بھولنے دیتے ہیں، سہیل اشفاق بابا سے ملاقات کا خواہاں تھا اور قبرستان کا راستہ پوچھ رہا تھا، ای بلاک کے قبرستان کا راستہ بتا کر میں کتنی ہی دیر شرمندگی سے اس شام میں کھویا رہا جب ہم انہیں اس قبر میں اتارنے گئے تھے جو انہی کے لیے تیار کی گئی تھی، میں آخری لمحے تک ان کا چہرہ نہ دیکھنے کے فیصلے پر قائم رہا کہ میری یادوں میں ایک کمزور مرجھایا ہوا اور بیماری کا ستایا ہوا بابا آتا ہی نہیں تھا، امید سے بھرا مسکراتا صحت مند اور توانا کہ جس کے چہرے پر شکر گزاری کی ایک دنیا آباد تھی کہ سولہ سالہ تعلق میں اس کی زبان تک کسی شکوے اور کسی بدگمانی سے آلودہ ہوتے نہیں دیکھی تھی۔ چند روز قبل میں اپنے ادارے کے دو ساتھیوں نوید جان میو اور اسامہ فیاض کے ساتھ ان سے ملنے پہنچا تو ان کی خواہش کے مطابق قبر کے قریب ہی دو سیمنٹ کے صاف ستھرے بنچ پائے جنہوں نے بتایا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ان پر بیٹھنے اور بابا جی کو دیکھنے سننے اور محبت کرنے والے باقاعدگی سے دعاؤں کا تحفہ لے کرآتے ہیں، بابا جی کے قدموں میں بانو آپا محو خواب تھیں انہوں نے عمر بھر ایسے ہی جینا چاہا اور اسی میں ہی عزت اور اہمیت پائی، کون کہتا ہے رب دعاؤں اور آرزووں کو پورا نہیں کرتا۔
اشفاق احمد ایک ایسے انسان کا تذکرہ ہے جو بہت سوں کے لیے صرف داستان گو ہے، کچھ کو وہ صداکار اچھا لگے اور کچھ کو افسانہ نگار، مگر وہ ان سب تعارفوں اور تعریفوں سے یکسر مختلف تھے۔ ایک ایسا مٹھاس بھرا وجود کہ اپنی پہلی نگاہ اور پہلی ادا ہی سے آپ کے وجود میں اتر آئے کہ ریشے ریشے سے آسودگی دعا بن کر نکلے۔ دل یہ کہتا ہے کہ ایسے آدمی کو یاد کرنے کا سلیقہ اور طریقہ بالکل مختلف ہونا چاہیے جو دانش کی روئی جیسا ہو، جب ضروت ہو اوڑھ لیا، دل تنگ ہوا تو پڑھ لیا، دل سنگ ہوا تو سن لیا، ہر طرف ٹھنڈ ہو تو اس سے حرارت اور گرمی پا لی، دل و دماغ تھک گئے ہوں تو اس سے ٹیک لگالی۔ اتنے سال کا تعلق اور وہ بھی اس قدر بھرپور، سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کوئی اتنا دیالو بھی ہو سکتا ہے۔ نہ کوئی مطالبہ، نہ ہدایت کا کوڑا، نہ انجانی اور ان مانی تعبیرکا خوف، جب ملو، جب پڑھو بس پھول سے کھلنے لگیں۔ خیال انگلی پکڑ کے آگے آگے چلنے لگے اور تسلی دیتی، حوصلہ بڑھاتی باتیں مہکتی ہوائیں بن کردائیں بائیں سے سنبھالنے لگے، داستان سرائے کا ڈرائنگ روم جناب اشفاق احمد کے دل کی طر ح بڑا اور خیال و نظر کی طر ح وسیع تھا۔ وہ وہاں نہ ہوتے تو بھی کمرے میں ایک خوشبو بھرا احساس پھیلا رہتا، جو روشنی جیسا ہوتا، دکھائی دیتا مگر پکڑائی نہ دیتا، ان کا حلقہ احباب بڑا تھا یا حلقہ قارئین، سامعین زیادہ تھے یا تسکین پانے والے، محبت بھری نگاہوں سے انہیں دیکھنے والے زیادہ تھے یا ان کی باتوں کو سننے اور سمیٹنے والے، کچھ کہنا مشکل ہے، کسی فائیو اسٹار کے بوفے کی طرح، ہر ڈش میسر، ذائقوں کی چاہ میں آنے والے بھی حاضر۔ پائیلو کو ہیلو نے ’’الکیمسٹ‘‘ میں عجیب بات لکھی ’’بھیڑوں کو صرف ایک ہی ضروت کا احساس رہتا ہے، پانی اور خوراک اور جب تک ان کے گڈریے کو اندلس کی بہترین چراہ گاہوں کا علم رہے گا، وہ اس کی دوست رہیں گی، باوجود اس کے کہ ان کا ہر دن دوسرے دن کے طرح ہوتا ہے اور یہ دن سورج کے طلوع ہونے سے غروب ہونے تک زیادہ ہی لمبا لگتا ہے۔ کیا121 سی کے اس گڈریے کی بھیڑوں کی ضروت بھی کچھ ایسی نہ تھی۔ علم کی کون کون سی چراہ گاہیں تھیں، جن کا اسے علم نہ تھا، جن کی اسے خبر نہ تھی اور وہ ان بہترین چرا گاہوں کے منظر اور ذائقوں سے ساری عمر سب کی ضرورتیں، خواہشیں پوری کرتا رہا، خواب بوتا رہا، انہیں خوابوں کی سرزمین دکھاتا رہا۔ لاہور اہل علم و دانش کا شہر ہے مگر ایسا جذبہ جوان کے ہاں تھا، کسی بہت محبوب اور مطلوب شخص میں ہوتا ہے۔ وہ سب کو ان سے گھنٹوں پیوست کیے رکھتا۔ طالب علم ہوتے یا پیر و جواں، سارے دن کی دھوپ سہتے اور ہفتے کی کسی ایک شام ایک محفل کا ساتھ، ٹھنڈی ہوا کی طرح، ساری شدت اور حدت ہی کو اڑا کے لے جاتا، ان کی باتیں کانوں میں اور پھر د ل میں یوں اترتیں جیسے کوئی آنکھوں میں اتر آئے۔
اشفاق صاحب کبھی بھی ایک فرد نہ تھے، ان کے دل میں، زندگی میں، خیالوں میں جب تبدیلی آئی، تب بھی وہ ایک فرد سے کہیں زیادہ تھے۔ کسی تقریب میں، ریڈیو، ٹی وی کے کسی پروگرام میں یا اہل علم کی محفل میں، جب وہ بولتے توسب کچھ بدل جاتا، موضوع اس کے چھپے اور ڈھکے پہلو، جو کسی کے سان وگمان میں بھی نہ ہوتے، ایک مربوط، مسلسل اور خوشگوار گفتگو میں یوں چلے آتے کہ یوں لگتا گویا میرے ہی دل کی بات ہے۔ اسی کی آواز ہے۔ ان کی کہی باتیں بہت سوں کی پریشانیوں کو چن لیتیں، کچھ کو پریشان کر جاتیں۔ بھلا یہ کیابات ہے۔ ایسا بھی کوئی کہتا ہے۔ ایسے کہاں ہوتا ہے۔ بس خان صاحب تصواراتی باتیں کر تے ہیں، بہلاتے ہیں، پھسلاتے ہیں! کوئی اپنے سننے پڑھنے والوں کے لیے یوں بہار بھی ہو سکتا ہے، ڈگریوں، ناموں، جگہوں، عہدوں، کتابوں، موسموں اور مشہور لوگوں سے یہ ملک پہلے بھی بھرا ہوا تھا اور اب بھی کمی نہیں ہے مگر جو موسم ان کے ساتھ تھا وہ بھلا کب کسی پہ اترا ہوگا؟ کوئی اپنے سننے پڑھنے والوں کے لیے یوں بہار بھی ہو سکتا ہے۔ یوں صحرا میں گلستان بھی کھلا سکتا ہے۔ کوئی چاہے بھی تو شاید چاہ کر بھی ویسا نہ کر پائے گا۔ ایسا نہیں بن پائے گا۔ اشفاق صاحب کہ کسی کے لیے اشفاق احمد تھے، کسی کے لیے خان صاحب، بہت سوں کے باباجی اور ایک دنیا کے لیے تلقین شاہ، ایک لمحے ان کو نام، کام، شہرت اور مقام کی چادر کو ایک طرف کر کے دیکھا اور سوچا جائے تو جو بات خاص، ممتاز اور ممیز کرنے والی ہے وہ ان کی سوچ اور زندگی کی راہ ہے،
جو اپنے ربّ کی راہ سے انہوں نے ملا دی اور اسی پہ ڈیرہ ڈال کے بیٹھ گئے۔ یہ راہ لفظوں اور کتابوں میں گم نہیں ہو جاتی، اپنائیت، ایثار، راہنمائی کے سنگ میل پہ جا ملتی ہے۔ سخت دوپہر میں گل مہر کا سایہ لے کر وہ ہمیشہ ان کے لیے موجود ان کے پاس پہنچتے، کڑاکے کی سردی میں وہ سورج لے کر موجود ہوتے۔ ایسے فرد کو کوئی کیسے بھلا سکتا ہے۔ وہ تو سانسوں کی آمد کی طر ح ساتھ ساتھ جیتے ہیں۔ اب سمجھ آتا ہے کہ، محبت کے خواب کبھی بوڑھے نہیں ہوتے، سید مودودی ان سے بہت پہلے فوت ہوئے تھے اور خرم صاحب بعد میں، وہ بھی کب بھولے ہیں، سب کی یاد کا حوالہ الگ ہے، زاہد عرفان اردو ڈائجسٹ میں ہماری ٹیم کا حصہ تھے انہوں نے اشفاق صاحب کی زندگی کے ایک انوکھے پہلو سے متعارف کروایا جس سے میں بھی متعارف نہ تھا، ہوا یہ کہ میں نے ذکر کیا کہ خان صاحب کہا کرتے تھے کبھی کوئی دوست پولیس کے ہتھے چڑھ جائے اور تھانے سے مدد کے لیے فون کرے تو اسے عقل سکھانے نہ بیٹھ جایا کرو پہلے اس کی مدد کو پہنچو، اس پر زاہد عرفان نے کہا ایسے لوگ کم کم ہوتے ہیں جو اپنی کہی بات پر پورا بھی اتریں، میں اندر سے ڈرا کہ خدا جانے یہ میری تردید کر رہے ہیں یا تائید۔ زاہد نے کہا میرے انکل حاجی عبدالغفور صاحب بہت بھلے اور مدد گار قسم کے انسان ہیں، وہ منصورہ میں چین سے دینی تعلیم کے لیے آئے ہوئے بچوں سے بڑا رابطہ رکھتے ان کی خدمت کرتے، اسی کو اپنا اعزاز جانتے کہ اللہ کے مہمانوں کے اکرام کا ان کو موقع ملتا ہے، نائن الیون والا واقعہ ہوا تو دنیا ہی بدل گئی، ان بچوں کو واپس جانا پڑا، دو کو وہ خود لاہور ائر پورٹ چھوڑ کر آئے، ابھی گھر پہنچے تھے کہ کسی دوست نے خبر دی جن بچوں کو آپ رخصت کرنے آئے تھے وہ چین نہیں جا سکے، انہیں ائرپورٹ سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے ڈھونڈنا شروع کیا تو علم ہوا کہ فیصل ٹاؤن کسی سیف ہاؤس میں رکھے گئے ہیں، ڈائریکٹر صاحب نے سمجھایا اور دھمکایا کہ آپ شریف آدمی ہیں اس معاملہ سے دور رہیں، انہوں نے منصورہ پراچہ صاحب اور لیاقت صاحبان سے رابطہ کیا مگر کوئی امید بر نہ آئی۔ حاجی صاحب نے ہمت نہ ہاری اور اس ڈائریکٹر سے ملتے رہے، ایک روز گئے تو دیکھا کہ زاویہ پڑھ رہا ہے حاجی صاحب نے پوچھا جواب ملا میرے تو پیر و مرشد ہیں، حاجی صاحب کو تاریکی میں سے ایک روشنی کی کرن نظر آئی، ایل ڈی اے کے ایک ڈائریکٹر جو ریٹائرڈ آرمی افیسر تھے اور خان صاحب کے عزیز تھے ان کو ساتھ لے کر خان صاحب کے گھر پہنچ گئے، ضرورت مند واقعی دیوانہ ہوتا ہے، خان صاحب صاحبِ فراش تھے چند روز قبل ہی ہسپتال سے گھر آئے تھے، ان کا کینسر اپنا کام دکھانا شروع کر چکا تھا اور وہ خاصے کمزور نظر آرہے تھے، پوری بات سن کر انہوں نے کہا کوئی ظالم نمبر بنانے کے لیے ان بچوں کو امریکا کے حوالے ہی نہ کر دے، جنرل مشرف کا زمانہ تھا اور روز نئی نئی کہانیاں سننے کو ملتی تھیں۔ حاجی صاحب تو فون کروانے گئے تھے خان صاحب بولے یہ مسئلہ فون والا نہیں ہے، مجھے ان کے گھر لے چلو کچھ چاہنے والوں نے دبے لفظوں منع بھی کیا مگر حاجی صاحب ساتھ لے آئے، گھنٹی سن کر جب وہ ڈائریکٹر صاحب باہر آئے تو خان صاحب کو دیکھ کر حیران رہ گئے، اندر لے گئے خوب آؤ بھگت کی اور کہا آپ آئے میرے بخت جاگے۔ صرف فون بھی کر دیتے تو حکم کے درجے میں تھا، انہوں نے مہربانی کی چائنا ایمبیسی سے رابطہ کیا حاجی صاحب سے ضمانت کے طور پر اسکیم موڑ پر واقع ایک گھر کی رجسٹری سال بھر کے لیے رکھ لی کہ یہ بچے دوبارہ پاکستان نہ آئیں۔
سچ یہ ہے باتیں کرنا آسان ہے اور باتوں سے آسانیاں بانٹنا بھی مگر اپنی کہی بات کو عملاً کرنا ہی بڑے لوگوں کی پہچان بنتا ہے، خان صاحب عمر بھر آسانیاں ہی نہیں ان کا شرف بھی بانٹتے رہے۔

حصہ