بجلی کا پیداواری منصوبہ, چینی فرم پیچھے ہٹ گئی

39

چین کی بڑی توانائی فَرم نے پنجاب میں کوئلے سے 330 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے منصوبے سے ہاتھ کھینچ لیا۔منصوبے سے2017 کے آخر تک بجلی کی پیداوار کا آغاز ہونا تھا۔

انسٹھ کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ پاک۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا اہم حصہ تھا، جس کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نواز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ سال رکھا تھا۔

پنجاب کے پنڈ دادن خان میں مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے اس منصوبے کی تعمیر کی ذمہ داری چینی فرم کو سونپی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (سی ایم ای سی) کی منصوبے میں دلچسپی 330 میگاواٹ بجلی کا منصوبہ چلانے کے لیے توانائی کی ناکافی ضروریات کے باعث کم ہوئی، جبکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے مقرر کیا جانے والا ٹیرف بھی فرم کی توقعات سے کم تھا۔

نیپرا نے 330 میگاواٹ بجلی کے اس منصوبے کے لیے 30 سال کے لیے 8.55 سینٹس فی یونٹ مقرر کرنے کی اجازت دی تھی۔پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے ترجمان سمیع رفیع صدیقی نے بھی پراجیکٹ کے آگے نہ بڑھنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پی پی آئی بی، شرائط کے مطابق کام نہ کرنے پر پراجیکٹ اسپانسر سے پہلے ہی پرفارمنس گارنٹی کی مد میں 3 لاکھ ڈالر وصول کرچکی تھی، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔

حصہ