دنیا

تحفظِ آب اور سیلاب سے بچاؤ

گزشتہ دس برسوں میں چین میں آبی وسائل کی بقا اور تحفظ کے سلسلے میں تاریخی کامیابیوں کے نمایاں ثمرات برآمد ہوئے ہیں۔چین نے...

ریگستان میں شفاف توانائی

یہ حقیقت ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ دنیا میں شفاف توانائی کی اہمیت کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔دنیا متفق ہے کہ...

منشیات کی لعنت سے پاک سماج

ابھی حال ہی میں دنیا بھر میں منشیات کے خاتمے کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہی ہوتا ہے...

دنیا میں بڑھتے تنازعات، جنگیں اورمہاجرین کا المیہ

اقوام متحدہ کے مطابق روس یوکرین تنازعے سے دنیا میں گھروں سے بے دخل کیے جانے والے افراد کی تعداد پہلی بار 10 کروڑ...

ہائے ! غریب الوطنی

علی الصبح بیدار ہونا ، گھر والوں کے ساتھ ناشتہ اور پھر اپنے کام پر روانہ ہونا۔ گھر کے بچوں کا اسکول کالج یونیورسٹی...

عالمی یوم ماحولیات

تحفظ ماحول کا عالمی دن پانچ جون کو منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم ماحولیات اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی قیادت میں 1973 سے...

مہنگائی کا عالمی چیلنج

پاکستان سمیت اس وقت دنیا بھر میں ''افراط زر'' کی گونج سنائی دے رہی ہے جس سے نہ صرف عام عوام بلکہ کاروباری اور...

گلوبل سیکورٹی ! ضرورت و اہمیت

ابھی چند روز قبل ہی چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے گلوبل سیکورٹی انیشیٹو پیش کیا گیا تھا۔ اس دوران انہوں نے...

تیز رفتاری کے دور میں سست ٹرین کا دلکش سفر

اس عنوان بلکہ یوں کہوں کہ اس خیال پر بہت سے دوستوں کو اعتراض ہوا ہوگا۔ یہ کیسی بات ہے کہ ہائی اسپیڈ ٹرین...

موسمیاتی تبدیلی کے دنیا پر تباہ کن اثرات

اس وقت ملک کے بیشتر شہر اور دیہات ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔سندھ کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ...

اہم بلاگز

محمدﷺسا نہیں کوئی

ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ پورے عالم کے محسن ہیں کہ جن کے ذریعے سے دین ہم تک پہنچا اور ہم نے ربّ کو پہچانا۔ آپﷺکے ذریعے سے ہمیں نیکی و بدی، اچھائی اور برائی ، گناہ اور ثواب کا فرق معلوم ہوا۔ آپؐ کے ذریعے سے ہی ہمیں جینے کا سلیقہ اور شعور اور آخروی زندگی کی وعید ملی۔ آپﷺ سردار الانبیاء، امام الانبیاء اور خاتم المرسلین ہیں۔ آپ ﷺ کے مقام کی عظمت و رفعت کا کیا ٹھکانہ، جہاں باری تعالیٰ کا نام آتاہے، وہیں آپ ﷺ کا نام مبارک آتاہے۔ کلمہ طیبہ آپﷺ کے شرف کی دلیل، کلمہ شہادت آپﷺ کی صداقت کاثبوت ہے۔ اللہ ربّ العزت نے آپﷺ کو ایسا بنایا کہ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی بنایا ہے نہ بعد میں کوئی بنائے گا۔ سب سے اعلیٰ، سب سے اجمل، سب سے افضل، سب سے اکمل، سب سے ارفع، سب سے انور، سب سے آعلم، سب سے احسب، سب سے انسب، تمام کلمات مل کر بھی آپ ﷺ کی شان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں،اگر سارے جہاں کے جن و انس ملکر بھی حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس اور سیرت طیبہ کے بارے میں لکھنا شروع کریں تو زندگیاں ختم ہو جائیں مگر رسالت مآب ﷺ کی شان کا کوئی ایک باب بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ اللہ ربّ العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے  اے محبوب ﷺ ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔ جس ہستی کا ذکر مولائے کائنات بلند کرے، جس ہستی پر اللہ تعالیٰ کی ذات درودوسلام بھیجے، جس ہستی کا ذکر اللہ رحمٰن و رحیم ساری آسمانی کتابوں میں کرے، جس ہستی کا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا، کروٹ بدلنا، کھانا، پینا مومنین کیلئے باعث نجات، باعث شفاء، باعث رحمت، باعث ثواب، باعث حکمت، باعث دانائی ہو اور اللہ ربّ العزت کی ذات نے آپ ﷺ کی ذات کبریا کو مومنین کیلئے باعث شفاعت بنا دیا ہو، اس ہستی کا مقام اللہ اور اللہ کا نبی ﷺ ہی جانتے ہیں۔ پھر اس ہستی کے متعلق سب کچھ لکھنا انسانوں اور جنوں کے بس کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم محمد ﷺ کو بے شمار خصوصیات عطافرمائی ہیں جن کو لکھنا تو در کنارسارے جہاں کے آدمی اور جن مل کر گن بھی نہیں سکتے۔ آپ ﷺ کی ذات اقدس الفاظ اور ان کی تعبیرات سے بہت بلند وبالا تر ہے۔ آپ کا ئنات کا مجموعہ حسن ہیں، آپ کا قد نہ زیادہ لمبا تھا نہ پست، ماتھا کشادہ تھا، سر بہت خوبصورتی کے ساتھ بڑا تھا، آپ کے بال نیم گھنگریالے تھے، آپ کی بھوئیں گول خوبصورت تھیں جہاں وہ ملتی ہیں وہاں بال نہ تھے وہاں ایک رگ تھی جو کہ غصے میں پھڑکتی تھی، آنکھ مبارک کے بارے میں ہے کہ آپ کی آنکھیں لمبی، خوبصورت، سرخ ڈوروں سے مزین تھیں، موٹی اور سیاہ، سفیدی انتہائی سفید، آپ کی پلکیں بڑی دراز، آپ کی ناک مبارک آگے سے تھوڑا اٹھا ہوااور نتھنوں سے باریک، ایک نور کا ہالہ تھا جو ناک پر چھایا رہتا تھا،...

رب نہیں روٹھتا!

راستے پر بیٹھے ایک بزرگ نے سامنے سے گزرنے والی عورت کی خوبصورتی کی تعریف کر دی جو اس عورت کے ساتھ چلنے والے شخص کو ناگوار گزری اور اس نے بزرگ پر ہاتھ اٹھا دیا اور آگے بڑھ گئے ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا ہوگا کہ اس جوڑے کو حادثہ پیش آگیا، آس پاس موجود لوگ اس سارے ماجرے کا مشاہدہ کر رہے تھے ان میں سے کسی نے بزرگ سے جا کر واقع سے آگاہ کیا اور اس اس جوڑے کے ساتھ پیش آنے والاحادثہ بیان کرنے کے بعد استفسار کیا کہ آپ نے انہیں بد دعا دی تھی جس کی وجہ سے انہیں حادثے نے آلیا، بزرگ بولے، نہیں ایسا نہیں ہم دعا دینے والے لوگ ہیں ،شائد ماجرا کچھ یوں ہوا ہو کہ ہم نے اسکے محبوب کی تعریف کی تو اسے برا لگاجسکا اسنے ردعمل ظاہر کیا اب شائد ہ میں بھی کوئی محبوب رکھتا ہو اور ہمارے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اسے ناگوار گزرا ہواور اس نے اسکا بدلہ لیا ہو ۔ یوں تو دنیا میں ایسی مثالیں عام ملتی ہیں اور معلوم نہیں ایسے معاملات پر کتنے فساد ہوتے اور کس حد تک ہوتے ہیں ۔ دوستی یاریاں ایسے ہی نبھائی جاتی ہیں بلکہ اگر کوئی دوست کسی جھگڑے سے لاتعلق ہوجائے تو اسکا سماجی نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ جن کا خمیر محبت کے عرق سے گوندا گیا ہو بھلا وہ لاکھ چاہتے ہوئے بھی کہاں نفرت کرسکتے ہیں ، جب نفرت نہیں ہوگی تو نفی نہیں ہوگی اور بھلا کوئی کس طرح سے محبت کی خوشبو سے دور رہ سکے گا ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مقرب ہوتے ہیں جو جڑے ہوئے ہوتے ہیں مگر دیکھائی نہیں دیتے مگر جب دیکھائی دیتے ہیں تو دیکھنے کے قابل نہیں سمجھے جاتے ۔ تخلیق کار سے روٹھ جاءو یا پھر تخلیق سے بات تو ایک ہی ہوتی ہے ، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور جو اس تعلق کو توڑ لیتے ہیں وہ گھور اندھیرے میں پیش قدمی شروع کردیتے ہیں اور ان کا کوئی بھی قدم انہیں اندھیرے میں موجود اندھے کنویں میں ہمیشہ کیلئے لے جاتا ہے ۔ آج ہم ایک اصطلاح بہت سنتے ہیں جسے انگریزی زبان میںStandard Operating Procedure (SOP) کہا جاتا ہے یعنی کسی بھی کام کرنے کا ایک میعاری طریقہ کار بلکل اسی طرح سے ایک ایسا ہی واضح اور مدلل زندگی گزارنے کا طریقہ کار ہمارے لئے ترتیب دے کر اپنے پیارے محبوب ﷺ پر نازل فرمایا ۔ ہدایت کی روشنی حالے کی مانند ہے جس کے قطر کا اندازہ لگانا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اور نا ہی ہم یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ یہ دائرہ گول ہے یا چکور یا پھر کسی اور زاوئیے کا ہے ، یہ سب جاننے والا ہی جانتا ہے ۔ اس قطر میں داخل ہونے کا ایک انتہائی وضاحت کے ساتھ طریقہ کاررہتی دنیا تک کیلئے دنیا میں موجود ہے اوراسکی تعلیمات کو سمجھانے کیلئے ایک معلم حضرت محمد مصطفے ﷺکے ذریعہ سے انسانیت تک پہنچایا اور آپ ﷺ کا ہر...

سیلاب اور عساکرِ پاکستان

کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا وطن عزیز میں حالیہ سیلاب سے تباہی وبربادی کی وہ الم ناک وکرب سے بھری داستانیں بکھری پڑی ہیں جن کا دردیوں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سیلاب درجنوں دیہاتوں، سیکڑوں انسانوں اور لاکھوں کی تعداد میں مال مویشوں کو اپنے اندر لپیٹ کر موت کی نیند کی سلا چکا ہے۔ اس تباہی وبربادی کا سب سے زیادہ شکار پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہوا ہے۔ بلوچستان کو قدرتی آفات نے اجاڑا اور اب 2022 ء کا سیلاب سارے صوبے کو ہی ہڑپ کر گیا ہے۔ پراونشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک 304 سے زائدافراد سیلاب سے جان بحق ہوچکے ہیں۔ سیلابی ریلوں اور بارشوں میں مجموعی طور 72ہزار235مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ 3لاکھ 5ہزار155سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوچکے ہیں،اب تک مجموعی طور پر 2لاکھ ایکٹر زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور سیلابی ریلوں میں 24 پُل گرگئے ہیں،2200کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئیں ہیں زمینی راستے منقطع ہوچکے ہیں۔ بلوچستان میں اس وقت صوبائی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ افواج پاک، ایف سی سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے سرگرم عمل ہیں ۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں بشمول کوئٹہ، پشین، چمن، نوشکی، موسی خیل، ژوب، مستونگ، بولان، سبی، قلات، خضدار، لسبیلہ، جھل کے نشیبی علاقوں میں پھنسے ہوئے متاثرین کو بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیوکیا جارہا ہے اور جہاں زمینی رابطہ منقطع ہوچکے ہیں وہاں پر بذریعہ ہیلی کاپٹرز راشن کے پیکٹس پہنچائے جارہے ہیں۔ دوردراز کے علاقوں میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بیمار افراد کے لیے پاک فوج کی طرف سے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ان میڈیکل کیمپس میں متاثرہ افراد کے لیے علاج ومعالجہ اور مفت ادویات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ متاثرین کو صحت سے متعلق سہولیات بہم مل سکیں۔ عوام کی مشکلات کے ازالے کے لیے پاک فوج اور ایف سی بلوچستان، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی بھر پور معاونت کررہی ہے۔ پاک آرمی، ایف سی اور کوسٹ گارڈ کی سول کی کاوشوں سے صوبے کی تمام شاہراہیں آمدورفت کے لیے بحال کردی گئی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بلوچستان میں حالیہ سیلاب میں عساکر پاکستان کی امدادی کاروائیاں اور قربانیوں کی طویل فہرست موجود ہے۔ کیونکہ پاک فوج نصب العین ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے عزم صمیم کی روشن مثال ہے۔ افواج پاکستان نے ملک میں آنے والی ہر قدرتی آفات خواہ وہ سیلاب ہوں یا پھر زلزلہ، طوفان ہوں یا پھر کروناء وبا ہمیشہ انسانیت کی خدمت کے لیے خود کو سب سے پہلے میدان عمل میں اتارا ہے اور اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ پاک فوج پاکستان کی صرف جغرافیائی ہی نہیں بلکہ نظریاتی سرحدوں کی بھی محافظ ہے۔ مادروطن کے تحفظ، سلامتی اور دفاع کے لیے افواج پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور قوم کو ان پر فخر ہے...

عہد نکاح کے تقاضے‎‎

فیس بک پر کئی پوسٹیں تا دیر اپنا اثر چھوڑتی پیں۔ وہ ایسی ہی ایک پوسٹ تھی جس میں دو بچیوں کا تذکرہ تھا۔ ایک بچی کی گڑیا اور تمام سامان اور دوسری کا گھر اور گڈا تھا۔ بحر حال بچیوں کی کھیل میں ٹھن گئی۔ نتیجتا گڈے کی مالک بچی نے گڑیا اور سہیلی کے تمام کھلونے اس دلیل سے ضبط کر لیے کہ چونکہ شادی ہو چکی ہے اس لئے سامان کی واپسی نہیں ہو سکتی۔ تھا تو یہ کھیل مگر کھیل کہہ کر اور بزدل اور تیز بچی کا تبصرہ کرکے گزر جانا انصاف کا خون ہے۔ اس نفسیات کی حوصلہ افزائی ہے جو عہد کو کھیل سمجھتی ہے۔ یوں تو عہد تین قسم کے ہیں ایک اللہ اور بندے کے درمیان دوسرا انسان کا خود اپنے ساتھ جسے عہد الست سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور تیسرا وہ جو انسان کو دوسرے انسان سے جوڑتا ہے۔ ایسے انسان جو خوف خدا رکھتے ہیں انہی کے بارے میں کہا گیا، اور وہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں، اسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑتے نہیں۔ اور ان کی یہ روش ہوتی ہے کہ اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے انھیں جوڑتے ہیں۔(القرآن) لیکن ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو عہد کی اہمیت سمجھتے ہی نہیں۔ وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد بھی توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں ایسے ہی لوگ بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔( القرآن) بے شک رشتوں کو کاٹنا زمین میں فساد برپا کرتا ہے۔ نکاح بھی ایک ایسا عہد ہے جس کی پاسداری میں دیانت کا لحاظ شاذ ہی نظر آتاہے۔ نکاح دو افراد کو ہی عہد کی لڑی میں نہیں پروتا بلکہ دو خاندانوں کی عزت وناموس کا عہد نامہ ہوتا ہے اور زوال پذیر معاشرے میں سب سے زیادہ یہی عہد نامہ متاثر ہوتا ہے۔ رشتہ قرابت کے تعلقات کے بگاڑ کی بات ہو تو سر فہرست یہی رشتہ اور یہی تعلق ہے۔ شیطان کا دلپسند مشغلہ بھی اسی رشتے میں بگاڑ پیدا کرنا ہے اس کے چیلے یہی کارنامہ سنا کر شیطان اعظم سے داد پاتے ہیں۔انہی کو شیطان خوش ہو کر سند پسندیدگی جاری کرتا ہے۔ بنی اسرائیل میں جب اخلاقی بگاڑ عروج پر پہنچ گیا تو جادو کے ذریعے اس تعلق میں دراڑیں پیدا کی جانے لگیں اور یہ عمل آج تک جاری ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ شیطانی عمل ہے اور زوجین کے مابین فاصلے پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ ہماری یہ دوریاں پیدا کرنے والی ذہنی کیفیت کبھی تو احساس محرومی کا نتیجہ ہوتی ہے اور کبھی محض شرارت ،کبھی اندیشے اور واہمے ہمیں ایسا کرنے پر اکساتے ہیں اور کبھی حاکمیت جتانے کا جذبہ ہمیں گنہگار کرنے کا باعث بنتا ہے۔ سر دست، جب نکاح کا عہد ہو چکا ہے تو اس کی پاسداری بھی آپ پر واجب ہے۔یقینا مودت و رحمت بھی تبھی پیدا ہو گی جب حقوق کی ادائیگی میں خوف خدا...

مثالی شوہر‎‎

  عموماً دیکھا گیا ہے کہ گھر سے باہر آدمی اپنی وضع قطع، مصنوعی اخلاق اور ملمع کاری کی بدولت اپنی پہچان ایک بہترین انسان کے طور پر کروا لیتا ہے مگر گھر میں داخل ہوتے ہی بناوٹی تہیں کھلنے لگتی ہیں اور اصل چہرہ نمایاں ہونے لگتا ہے۔ آدمی کی اچھائی کا فیصلہ اس کی گھریلو زندگی کی جھلک ہی کر سکتی ہے اور یہ جھلک ہی سند کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ باہر تو منافقت کے چہرے کی بدولت (شرافت) کی سند لی جا سکتی ہے مگر گھر میں منافقت کی قلعی کو تادیر قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے اچھا ہو اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں کے لئے زیادہ اچھا ہوں۔ (ابن حبان) یاد رہے گھر والوں سے مراد بیوی اور بچے ہوتے ہیں۔ اگر انسان باہر خوش اخلاقی کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو مہذب انسان کی حیثیت سے پیش کرتا ہے مگر بیوی اس کے بد اخلاق رویے ہی کی شاہد ہوتی ہے اور بچے اس سے سہم کر اپنی سرگرمیاں موقوف کر دیتے ہیں تو معذرت کے ساتھ، ایسا انسان وضع دار کہلانے کا ہر گز مستحق نہیں تآنکہ اس کی بیوی اور بچے اس کے اخلاق وکردار کے معترف نہ ہو جائیں۔ حضرت احوص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا غور سے سنو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو اس لئے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ تم ان سے اپنی عصمت اور تمہارے مال کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں اگر وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں تو پھر ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو یعنی ان کے ساتھ سونا چھوڑدو لیکن گھر ہی میں رہو اور ہلکی مار مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری فرمانبرداری اختیار کرلیں تو ان پر (زیادتی کرنے کے لئے) بہانہ مت ڈھونڈو۔ غور سے سنو! تمہارا حق تمہاری بیویوں پر ہے (اسی طرح) تمہاری بیویوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تم کو ناگوار گزرے اور نہ وہ تمہارے گھروں میں تمہاری اجازت کے بغیر کسی کو آنے دیں۔ غور سے سنو! ان عورتوں کا تم پر حق یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ ان کے لباس اور ان کی خوراک میں اچھا سلوک کرو (یعنی اپنی حیثیت کے مطابق ان کے لئے ان چیزوں کا انتظام کیا کرو)۔ (ترمذی) خود آپ صلی خدیجہ رض کے انتہائی قدردان تھے۔ آپ ﷺ امی خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بھی ان کی بزرگ سہیلیوں سے حسن سلوک فرماتے اور ان کو تحائف بھجواتے۔ (ترمذی) مثالی شوہر کاروباری مسائل اور گونا گوں ذمہ داریاں کے با وصف گھر داخل ہوتے وقت بھی نبوی مزاج پر عمل پیرا ہوتا ہے بالکل اسی طرح جیسے کہ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ جب...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز