عدالت عظمیٰ کا ڈیم فنڈ میں رقم سے سرمایہ کاری کا فیصلہ

126

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے ڈیمز فنڈ کی رقم سے سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے اسٹیٹ بینک کو فنڈ میں موجود 10 ارب 60 کروڑ روپے نیشنل بینک کو منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے مطابق 19 جون کو ٹی بلز کی نئی بولی کے بعد منافع کی شرح کا اعلان ہوگا، نیشنل بینک عدالت عظمیٰ کی جانب سے بولی میں حصہ لے گا جب کہ طے شدہ شرح منافع پر ڈیمز فنڈ کی ٹی بلز میں 3 ماہ کے لیے سرمایہ کاری ہوگی۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے حکم جاری ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے 2 ڈیمز دیامیربھاشا اورمہمند کی تعمیرکے لیے فنڈز قائم کیے تھے جس میں پاک فوج، سرکاری ملازمین، قومی کھلاڑیوں، اداکاروں اور سماجی شخصیات سمیت عام افراد نے پیسے جمع کرائے تھے۔یادرہے کہ 12جون کو عدالت عظمیٰکے 5رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے تھے کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے لیے جمع ہونے والے 10 ارب 60 کروڑ روپے کے فنڈز کی بروقت سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث عدالت عظمیٰ کو سود کی مد میں تقریبا ایک کروڑ روپے روزانہ کا نقصان ہورہا ہے اور اس کی تمام تر ذمے داری اسٹیٹ بینک پر عاید ہوتی ہے ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی ریمارکس دیے تھے کہ اندازہ لگائیں کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے عدالت کو درست مشورہ نہ ملنے کے باعث گزشتہ 3ماہ میں ہمیں کس قدر نقصان ہوا ہے۔