ایران کی دھمکیوں پر خلیجی ممالک اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب

116

ریاض/واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک+آن لائن+ اے پی پی) سعودی عرب نے خلیجی ممالک اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس 30مئی کو مکہ میں طلب کرلیا ۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس میں ایران کی دھمکیوں،سعودی تیل بردار بحری جہازوں پر حملے اور خلیج عمان میں پیدا ہونے والے تناؤکا جائزہ لے کر مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔علاوہ ازیں سعودی اخبار الشرق الاوسط کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے امریکی افواج کی خلیج میں تعیناتی کی منظوری دے دی ہے تاہم اس سے قبل ہی امریکا قطر میں اپنے فوجی کیمپ میں 10 سے زائد جدید فائٹر طیارے اور ایک طیارے بردار بحری بیڑا بھیج چکا ہے۔ ادھر الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ’سعودی عرب خطے میں جنگ نہیں چاہتا،اس جنگ کو روکنے کے لیے جو کوششیں ممکن ہوئی کی جائیں گی لیکن اسی دوران اگر دوسری جانب سے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب بھر پور انداز میں اور بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں لیکن ہم ایرانی حملے کے جواب میں ہاتھ پر ہاتھ دہرے بیٹھے نہیں رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے اور یہ اب ایران پر منحصر ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرے۔علاوہ ازیں امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلیفون پر علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ایران پالیسی کے بارے میں اپنے مشیروں سے کوئی اختلاف نہیں۔انہوں نے خاص طور پر اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا حوالہ دیا ہے جو بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق انہیں ایران کے خلاف جنگ میں جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں۔