جماعت اسلامی رواں ماہ 50 لاکھ افراد تک اپنا پیغام پہنچائے گی،سراج الحق

94
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی زیرصدارت مرکزی نظم کا اجلاس ہورہا ہے
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی زیرصدارت مرکزی نظم کا اجلاس ہورہا ہے

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کو اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے کی جدوجہد کررہی ہے، عوام اس جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں،عوام نے نام نہاد سیاسی و جمہوری جماعتوں اور فوجی آمریت سب کو بار بار آزمایا ہے مگر کوئی بھی عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اتر سکا،جماعت اسلامی 31مارچ تک ملک بھر میں 50 لاکھ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاکر انہیں دفاع پاکستان اور خوشحال پاکستان کے لیے اپنے ووٹر اور سپورٹر بنائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی قیادت کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ،نائب امرا اور ڈپٹی سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔سراج الحق نے کہا کہ جس طرح سابق حکمران پارٹیاں جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کے ہاتھوں کھلونا بنی رہیں اسی طرح موجودہ حکومت بھی اس ٹولے کے ہاتھوں یرغما ل ہے۔موجودہ نظام فرعونی سوچ کا قائم کردہ ہے جو کسی غریب کو آگے آنے کا موقع نہیں دیتا۔جب تک اس استحصالی نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا ملک و قوم کو مسائل کی دلدل سے نہیں نکالا جاسکتا۔موجودہ حکومت نے عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے مخصوص کلاس کے مفاد کی تکمیل کو ترجیح بنالیا ہے۔قومی دفاع کو مضبو ط بنانے کے لیے ذاتی مفاد کے اس کھیل کا خاتمہ ضروری ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 70سال سے ملکی اقتدار پر قابض ٹولے نے قیام پاکستان کی منزل کو کھوٹا کرنے اور نظریہ پاکستان سے بے وفائی کی جو روش اپنا رکھی ہے اس کی وجہ سے آج ملک و قوم کو معیشت سمیت مختلف بحرانوں کا سامنا ہے۔آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ تعلیم ،صحت اور معیشت کے شعبے ناکامی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجود بے روزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں۔عدالتوں سے غریب کو انصاف نہیں مل رہا۔لاکھوں مقدمات التوا کا شکار ہیں۔کیس لڑتے لڑتے لوگوں کی زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں مگر پیشیاں ختم نہیں ہوتیں۔ہر حکومت غربت ختم کرنے اور قرضے نہ لینے کے نعرے لگا کر اقتدار میں آتی ہے مگر جب جاتی ہے تو قرضوں کے انبار لگاکر اور غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری میں کئی گنا اضافہ کرکے جاتی ہیں۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہا کہ پاکستان کی بقا اور سا لمیت کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی پاکستان کو از سر نو اپنی منزل قرار دیکر ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایاجائے۔قرضوں او ر سود کی معیشت سے تائب ہوکر اسلام کے زکوٰۃ و عشر کے نظام معیشت کو اختیار کیا جائے اور خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا کل قابل کاشت رقبہ39.3 فیصد ہے جبکہ 70.7فیصد رقبہ کاشت ہی نہیں کیاجارہا ۔ نوجوانوں کی فوج ظفر موج ہے مگر ان کو کوئی روزگار نہیں دیاجارہا۔حکومت نے ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اس پر عمل درآمد کے لیے ابھی تک کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خوشحالی اور ترقی محض وعدوں سے نہیں کام کرنے سے آتی ہے۔