نقطہ نظر

72

 

محترم ثاقب نثار صاحب!
کاش آپ قوم کے جذبات سمجھ سکیں
احوال پوچھنے کی زحمت اس لیے نہیں کروں گی کہ آقائے دوجہاں سرکار دو عالمؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی کے حق میں فیصلہ دے کر آپ کس طرح خیریت سے رہ سکتے ہیں ربّ کائنات نے آپ کو وہ منصب اور وہ عہدہ دیا، وہ موقع دیا کہ آپ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو راحت وسکون پہنچا سکتے تھے اپنے ربّ کے حضور سرخرو ہو سکتے تھے ملک کو بدامنی اور انتشار سے بچا سکتے تھے لیکن اس قوم کی قسمت پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے جہاں منصف انصاف نہ کریں برسوں کیس کو لٹکائے رکھیں اور پھر کوئی عاشق رسول اپنے نبی کی شان میں گستاخی کا بدلہ خود لینے کے لیے اٹھے تو آپ اُسے پھانسی پر چڑھا دیں اور عوام کو یہ پیغام دیں کہ عاشق رسول کی سزا پھانسی اور شاتم رسول کے لیے رہائی۔
میں آپ کو غازی علم دین شہید کے وہ تاریخی الفاظ یاد دلا دوں کہ ’’جب آپ توہین عدالت برداشت نہیں کر سکتے تو ہم توہین رسالت کیسے برداشت کرلیں‘‘۔ جس ملک کے منصف اقلیت کو آزادی اظہار کی اجازت دے دیں انہیں اکثریت کے آزادی اظہار سے ڈرنا چاہیے۔ وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جو اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی اپنے نبی کی عزت و ناموس کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ چیف جسٹس صاحب آپ کے نزدیک شاید دنیا کے پانی کی اہمیت ہو جس کے لیے آپ آج کل تگ و دو کر رہے ہیں لیکن آپ جس ملک کے منصف ہیں ان کے نزدیک حوض کوثر کی اہمیت زیادہ ہے کاش کہ آپ قوم کے جذبات سمجھ سکتے۔
صائمہ عبدالواحد، کراچی

عدالت فیصلے پر نظر ثانی کرے
فرمان رسول ؐ ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اُسے اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘۔ حب رسول ہمارے ایمان کی شرط ہے اور اس کے بغیر ہمارا ایمان نامکمل ہے۔ نبی کریمؐ کی ناموس بچانے کی خاطر مسلمان کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک اسلامی فلاحی ریاست ہونے کے ناتے یہ ہمارے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہماری حکومت اور ہماری عدلیہ بلا خوف و خطر ایک گستاخ رسول کو با عزت بری کر رہی ہے۔ اور ایسے میں جو عاشقان رسول غیرت کے مارے سڑکوں پہ نکل آئے ہیں ان پر شیلنگ کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں اپنے آپ کو ایک اسلامی ریاست کا باشندہ کہلوانے پر شرم محسوس ہوتی ہے کہ ہم اپنے پیارے نبی ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی کو رہا کر رہے ہیں۔ میری اور تمام ’’مسلم‘‘ پاکستانیوں کی گزارش ہے کہ عدلیہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور آسیہ بی بی کو اس کے بھیانک گناہ کی پوری پوری سزا دی جائے۔
عائشہ مریم، لاہور

بے حیائی کی انتہا ہوگئی
ٹی وی پر اشتہارات میں بہت بے حیائی نظر آتی ہے۔ ایک اشتہار کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں، لڑکیوں کے پیڈ کا اشتہار جب ٹی وی پر نظر آتا ہے آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں، لڑکیاں بھاگتی ہوئی، ناچتی ہوئی آتی ہیں کہ ہائے اتنا زبردست ہے ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ چھوٹے بچے کہتے ہیں ارے امی، باجی بھی پیمپر پہنتی ہیں، کتنی شرم کی بات ہے جو چیز چھپانے کی ہوتی ہے بالکل کھول کر بتایا جارہا ہے، بے حیائی کی انتہا ہے، یہ تو حیا کو ختم کرنے کی بات ہے۔ میری پیمرا سے التماس ہے کہ ایسے اشتہارات بند کیے جائیں۔
اسما ابراہیم۔ نارتھ کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ