حکومت گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی کرے

33

اسلام آباد (اے پی پی) غیر سرکاری تنظیم چائلڈ رائٹس موومنٹ کے نمائندوں نے کہا ہے کہ حکومت گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کی حقوق سے متعلق قانون سازی کرے، تشد داور جنسی ہراسگی کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، ملک بھر میں 33لاکھ سے زائد کم سن چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔بد ھ کو نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چائلڈ رائٹس مومنٹ کے نمائندوں امتیاز احمد، زہر ہ نقوی، سید اشتیاق گیلانی اور نورالرحمن نے کہا کہ مخصوص قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے انسانی اسمگلنگ میں بھی آئے روز اضافہ دیکھنے میں آرہاہے، حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ چائلڈ لیبر کے مسائل پر نظر ثانی کر کے بہترین پالیسیاں وضع کریں 2010ء کے بعد چائلڈ لیبر کی حقو ق سے متعلق مخصوص قانونی سازی نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے گھر وں میں کام کرنے والی بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتاہے۔ ملک میں مخصوص قانون نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں سے گھر وں میں دن رات بغیر کسی اوقات کار کے کام لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچو ں اور بچیوں سے تھوڑی سی تنخواہ میں ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے24گھنٹوں میں سے 16گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ماضی میں حکومتوں نے چائلڈ لیبر کے مسائل پر خصوصی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے ہیومن ٹریفکنگ، چائلڈ لیبر اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کے منشور میں بچوں کی حقوق کے بارے میں ایجنڈے شامل کرنے پر زور دیا تھا۔ نمائندوں کا مزید کہنا تھاکہ ہمارا کام حکومت وقت کو بچوں کو درپیش مسائل سے متعلق آگا ہ کرنا ہے، اس مقصد کے لیے آج 11اکتوبر انٹرنیشنل گرلز چالڈ ڈے کے طور منایا جارہا ہے اور ایوب پارک میں 3دن بجے بچوں کے ساتھ امن واک کا اہتمام کیا جائے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.