عابد رحمت

21 مراسلات 0 تبصرے

پانی ہی نہیں ملتا

عوام الناس اوراہل قلم ودانشورچیختے رہ گئے، کئی کئی دن تک مباحث کادورچلا ، لوگ واویلاکرتے رہے، ہرسوآوازیں بلندہوئیں ، سب نے سب کچھ...

دوکہانیاں، ایک نتیجہ

آپ سیاست پہ بھی لکھاکریں ، وہ بے تکان بولے جارہاتھااورمیں اسے یہی سمجھانے میں کوشاں تھاکہ پاکستان کے 99فیصدکالم نگارسیاست ہی کی دھجیاں...

امیدوں کاتسلسل

زرخیززمینوں ،لہلہاتی وادیوں ،آب شارندیوں،شاداب درختوں سے اٹے ہوئے پہاڑوں ،ہمالیہ کے برف پوش گلیشروں ،معتدل آب وہوا،پانچ دریاؤں (سندھ ،جہلم،چناب ،راوی ،ستلج)اورآٹھ لاکھ...

ایک چپ ،سوسکھ

قصورکے ایک نواحی گاؤں میں ذوالقرنین نامی ایک ڈاکٹرکلینک چلایاکرتاتھا۔ایک دن وہ اپنے کلینک میں بیٹھاہواتھاکہ ایک آدمی آیااورانہیں ان کے دوشاگردوں کے سامنے...

قندوزکے معصوم فرشتے

سروں پر سفیدعمامے ، سفیدلباس میں نکھرے نکھرے سے خوبصورتی کے شاہکار،مسکراتے کھلکھلاتے چہرے، لبوں پہ تبسم آمیز مسکراہٹ، آنکھوں میں مستقبل کے سہانے...

زندگی اورموت کی ریس

سفرجاری تھا، مجھے نیندکی آغوش میں اترے ابھی کچھ ہی لمحات گزرے تھے کہ چیخ پکارسے میری آنکھ کھل گئی ۔پیچھے دیکھاتوکچھ عورتیں،جن میں...

ہوس کی آگ اورمقدس رشتے 

آج پھر سرِشام جب ملگجے اندھیرے دھیرے دھیرے ہرسواتررہے تھے ،وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اسی ویران شاہراہ پرکسی تازہ شکارکی تلاش میں تھا۔اس...

روشنی ہی امیدہے

یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ سفرایک درس بھی ہے اوردرسِ عبرت بھی ، اسی لئے توکہاگیاہے زمین پرچلوپھرو، سفرکرواوردیکھوہم نے نافرمانوں کاکیاحال کیا۔یہ انہی...

قوم کی نیندمیں خلل نہ ڈالو

20فروری دوپہرکاوقت تھا، باپ پھرسے حسان کی تلاش میں نکل کھڑاہوا، ابھی دہلیزسے باہرقدم رکھا ہی تھا کہ زبان پریہ الفاظ جاری ہوئے ’’یاخدا!حسان...

گم شدہ بچے، غم زدہ باپ اورتڑپتی مائیں 

اسے چمن میں کھلے ڈیڑھ سال ہواتھامگروہ حسن ودلکشی کی ساری حدیں پھلانگ چکاتھا، اس کی خوشبوسے پوراگلستاں معطرتھا، شایداسی لئے وہ حسان کے...

اہم بلاگز

خبردار! ووٹ مانگ کر شرمندہ نہ کریں

خبردار! ”ووٹ مانگ کر شرمندہ نہ کریں“۔ یہ چند حرفی اعلان ان سب سیاسی پنڈتوں، سیاسی مداریوں کے لیے ہے جو دہائیوں سے کرسی اقتدار پر رہ چکے ہیں، لیکن علاقے کی پس ماندگی ختم کر سکے، نہ ہی کوئی اعلی پائے کا ترقیاتی کام کروا پائے۔ اگر کہیں کنواں نکلوایا، گلی پختہ کروائی، روڈ پر کنکریٹ ڈال دی یا ٹرانسفارمر لگوا دیا تو حضور! اپنی ذمہ داری یا قوم کی بھلائی کے لیے تو نہیں کیا ناں! ووٹ کے لیے کیا اور ووٹ لیا۔ کام کروایا بھی تو صرف وہاں جہاں سے خبر تھی ووٹ ملے گا، یا ووٹ لیا۔ رہی بات علاقائی سطح پر کام کی تو جو کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ میرا ووٹ عرصہ دراز سے آپ کی جھولی میں گرتا رہا لیکن میرے علاقے کے لیے کیا کیا؟ پانی اب بھی تیسرے محلے کے گھر سے لاتے ہیں کہ اپنا کنواں بھی جواب دے چکا۔ ٹیوب ویل منظور شدہ ہے لیکن اس کے حصے کا ووٹ گزشتہ برسوں لے گئے تھے آپ اور یہ میری ساتویں نسل کے لیے بنے گا۔ مرکزی سڑک، میرے گھر کی طرف والی ایسی صحیح سلامت و کشادہ ہے کہ کھا پی کر سوار ہوں گاڑی میں، تو دس منٹ کے اندر اندر ہضم ہو جائے۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار روڈ آپ اور آپ جیسی دیگر ہستیوں کی نظر کرم کا منتظر اور ووٹروں کا منہ چڑاتے ہوئے کہتا ہے: ”اور دو ووٹ انہیں“۔ بجلی کی صورت احوال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یاد رہے میں خیبر پختون خوا کے دور دراز کے قصبے مانسہرہ سے زرا دور ہوں۔ جہاں کے باسیوں کو صرف نعرے لگانے ہی کی سہولت میسر ہے۔ پانی شہری اپنی بنائی بورنگ یا کنویں سے حاصل کرتے ہیں؛ جب کہ دیہی آبادی کی عورتیں اب بھی سر پر مٹکے اٹھا کر بھر بھر لاتی ہیں۔ پہاڑی علاقوں پر رہنے والی آبادی کا سارا ووٹ کھا کر بھی انہیں سہولیات سے دور رکھا ہوا ہے۔ سڑک! جی جی وہ بھی میسر ہے۔ گھنٹا دو دو گھنٹا بے چارے پیدل سفر کرتے ہیں کہ روڈ کی سہولت صرف شہری آبادی کو میسر ہے۔ روڈ اتنے کشادہ کہ دو گاڑیاں ہی مشکل سے گزرتی ہیں۔ چھوٹے سے شہر میں گھنٹا بھر ٹریفک جام رہتا ہے کہ لنک روڈ تو کوئی ہے نہیں اور ٹریفک کی بہتری روڈ کی کشادگی کے لیے کچھ کیا ہی نہیں۔ کسی دور کے علاقے میں احسان کرتے ہوئے سیاسی نمایندے نے روڈ نکلوایا بھی تو ایسا کہ گدھے اور خچر بھی منہ بنا کر مشکل سے چڑھیں، چہ جائیکہ انسان! اور نمایندے بے شرمی کی سرخی آنکھوں میں لائے وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں اقتدار کی چڑیا پکڑنے۔ اسپتال وہی سالوں پرانے جن میں عملہ، ادوایات اور سہولیات اب بھی مشکل سے پوری ہوتی ہیں۔ علاج معالجے کے لیے ایبٹ آباد جانا پڑتا ہے کہ یہاں معیاری علاج تو درکنار معیاری اسپتال بھی نہیں۔ تعلیم کے لیے بھی لوگ بڑے شہروں کو جاتے ہیں کہ یہاں ایسا کوئی بندوبست نہیں۔ لڑکوں کا ایک کالج تو ہے جہاں بارہویں کے بعد کی کلاسیں ہیں جب کہ...

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے ۔ایک دن خلیفہ دور کھڑا ہوکر امام صاحب اور اپنے دونوں بیٹوں کو دیکھتا رہا ۔ جب چھٹی کا وقت ہوا تو ایک بیٹے نے امام اصمعیؒ کی چپلیں اٹھائیں اور جلدی سے جاکر زمین پر رکھ دیں ۔ خلیفہ نے اگلے روز امام اصمعیؒ کو روکا اور فرمایا " حضرت ! مجھے لگتا ہے کہ میرے بچوں کی تربیت پر آپ کی نظر کچھ کم ہے ؟"۔ امام صاحب نے حیران ہوکر خلیفہ کو دیکھا اور پوچھا آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے ؟ ۔ خلیفہ نے جواب دیا کیونکہ کل میں نے دیکھا کہ میرے ایک بیٹے نے تو آپ کے جوتے لاکر زمین پر رکھے لیکن دوسرا فارغ کھڑا تھا ۔ آپ اندازہ کریں خلیفہ کی نظر میں تعلیم سے کہیں زیادہ اپنے شہزادوں کی تربیت ضروری تھی ۔ ابتدائی تعلیم و تربیت بچے گھروں پر حاصل کرتے اور پھر مزید تعلیم کے لئیے مختلف اساتذہ کے پاس روانہ ہوجاتے ۔ استاد بھی کمال کے تھے ۔ وہ استاد سے زیادہ " مربی " تھے  ، وہ کتابوں سے زیادہ اپنے عمل سے سکھاتے تھے ۔ امام بخاریؒ ساری زندگی مسلسل سفر میں رہے مختلف مربین( مینٹورز) سے علم حاصل کرتے رہے ۔ امام غزالیؒ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے گھر کے قریب ہی ایک رئیس کا بیٹا رہتا تھا ۔ جو استاد اس رئیس کے بیٹے کو پڑھانے آتا ۔ ان کے واپس جاتے ہوئے امام غزالیؒ گھوڑے کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے اور مختلف سوالات پوچھ پوچھ کر اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہتے تھے ۔ امام ابو حنیفہؒ انتہائی  کم عمری میں مدینہ تشریف لائے اور امام مالکؒ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا ۔ بو علی سینا نے ایک سال تک بادشاہ کے ذاتی کتب خانے میں بند ہوکر مسلسل دن رات کتابوں کا مطالعہ کیا اور پھر وہاں سے پہلے قاہرہ پھر بغداد اور انھی دونوں شہروں کا مسلسل سفر کرتے رہے تاکہ اساتذہ کے تجربوں سے استفادہ کرسکیں اور بالآخر طب پر 200 کتابیں تصنیف کرڈالیں جو آج بھی کئی آپریشنز اور سرجریز کی بنیاد ہیں ۔ لیکن پھر ہم نے اپنے بچوں کو ذہنی غلام بنانا شروع کردیا ۔ ہم نے ان کو چند گھنٹوں ، چند اساتذہ ، چند کتابوں اور چند امتحانات تک محدود کردیا ۔ بچے کو بورڈ اور پیپر کا غلام بنادیا ۔ وہ جو علم کا سفر ملکوں ملکوں پھیلا ہوا تھا ہم نے اسے چار دیواری میں قید کردیا ۔ جو محض کسی استاد کا نہیں بلکہ استاد کی صورت میں ایک مینٹور ( مربی ) کا متلاشی تھا ہم نے اس کو رٹے کے پیچھے لگادیا ۔ ہم نے تعلیم کو محدود کردیا ۔ تعلیم کو سکھانے کے بجائے کمانے کا ذریعہ بنادیا ۔ وہ ابتدائی تعلیم جو گھروں میں دی جاتی تھی اسے ہم نے اسکولوں کے حوالے کردیا ۔ وہ تربیت جو 7 ، 8 سال کی عمر تک ماں...

بچوں کی تر بیت میں والدین کا کردار

اولاد اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ عام آدمی ہی نہیں نبیوں اور بزرگوں نے بھی اولاد کی تمناکی اور دعائیں مانگیں۔یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان اولاد کی تر بیت اور پرورش کے لئے تا حیات اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہے۔ رب ذوالجلال فرما تا ہے " مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہے"(الکہف) ہمارے سامنے سماج کی مختلف اکائیوں کی شکل میں موجود شرفاء و ذلیل ،کامیاب و ناکام،معززو مقہور افراد بچپن کی منازل طئے کر تے ہوئے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ ہمارے اردگرد بسنے والے یہ انسان جن میں قاتل بھی ہیں اور مقتول بھی،امن پسند بھی ہیں اور فسادی بھی یہ صرف اس تربیت کا نتیجہ ہے جو ان کو فرا ہم کی گئی جس کی بنا ء پر کوئی فتنہ پرور بن کر ابھر ا تو کو ئی ہا دی اور صالح بن کر ابھرا۔جس بچے کو اچھی تر بیت میسر آگئی وہ بہتر انسان بن گیا جو رہنمائی اور تر بیت سے محروم رہا وہ بے راہ روی کا شکار ہو گیا۔ رسول اکرم ﷺ کا فر مان ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتاہے پھر اس کے والدین اس کو یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بچے پیدائشی طور پر پاکیزہ اور نازک ہو تے ہیں۔اگر ان کو خیر کا عادی بنادیا جائے اور اچھے کا م سکھائے جائیں تو وہ زندگی میں آگے بڑھتے ہیں بجائے اس کے اگر وہ بر ے افعال کے عادی ہو جا ئیں تو بربادی اور ہلاکت ان کا مقدر بن جا تی ہے۔ما ں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ کہا گیا اورایک مثالی ماں کو ایک ہزار اسا تذہ پر تر جیح دی گئی ۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی اور باپ کو جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ بنا دیا گیا۔ والدین کو ان اعلی و ارفع مقامات پر فائز ہ کرنے کی وجہ نسل نوکی تربیت میں ان کا گرانقدر کردار اور اولاد کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا آرام وسکون نثار کر ناہے۔ حشرات الارض پیدا ہو تے ہی رینگنے ،پرندے پرواز اور چوپائے چلنے پھرنے کے قابل ہو جا تے ہیں جب کہ اولاد آدم کو اپنی پیدائش کے بعد امور زندگی کی انجام دہی کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتاہے۔ اور وہ طویل عرصہ جس کے باعث بنی نوع انسان اپنے آپ کو خود کفیل بنا پاتی ہے اسے تعلیم و تر بیت سے تعبیر کیا جا تا ہے۔ جہاں جانور اپنی خوراک اور زندگی کا ادراک لئے روئے زمین پر آتاہے وہیں انسانی نو زائیدہ نسل ان تما م رموز پا نے میں ایک عر صہ لگادیتی ہے۔ تربیت بنی نوع انسان کا وہ واحد وصف ہے جس کی بدولت انسان اپنی آنی والی نسلوں کو حسب منشاء تیار کر تاہے ۔ کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل اس ملک و قوم کے بچوں پر ہو تا ہے۔بچوں کو نظر انداز کر کے کو ئی بھی قوم آج تک کامیابی حا صل نہیں کر سکی ۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و تخریب...

   کون اہل ہے!! سوال کیجئے…؟؟

وہ ننھے منھے ہاتھ اخبار کو تھامے"انتخابات" پڑھنے کی کوشش میں مصروف تھے کے اتنے میں ابو کمرے میں آگئے فاطمہ نے اپنے معصوم ہاتھ اخبار سمیت آگے بڑھائے اور اپنے ابو سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔۔ یہ کیا لکھا ہوا ہے؟ اس کے ابو نے اسے بتایا یہ "انتخابات "ہے بیٹی۔پھر فاطمہ نے بہت معصومانہ لہجے میں پوچھا انتخابات کس کو کہتے ہیں ؟؟؟ اس سوال کو سنتے ہی اس کے ابو نے اس کو ٹال دیا اور بولا جاؤ اور امی سے کہو کھانا دے دیں ۔فاطمہ کے کمرے سے جاتے ہی اس کے ابو نے اخبار اٹھایا تو دیکھا کہ الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے سارا اخبار الیکشن کی سرگرمیوں سے بھرا پڑا ہے۔  فاطمہ کے دو بھائی تھے لیکن وہ اس سے کافی بڑے تھے پر کچھ دن پہلے اسکے  بڑے بھائی کو ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا تھا اور دوسرا بھائی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہسپتال میں داخل تھا فاطمہ کے اس سوال نے کہ" انتخابات کا مطلب کیاہے؟؟" اس کے ابو کے زخموں کو تازہ کر دیا تھا وہ سوچنے لگے کہ پھر وہی جھوٹے وعدے ،بھی نہ پوری ہونے والی تسسلیاں اور پاکستان کو امن سے بھرپور شہر بنانے کے خوابوں کا تانتا بن جائے گا پھر کوئی نہ کوئی بےایمانی سے جیت جائے گا پھر پانچ سال تک اربوں روپے لوٹے جائیں گے اور ہزاروں گودوں کو ویران کردیا جائے گا پھر عوام کو دلاسے دیے جائیں گے اسٹیجوں پر کھڑے ہوکر نعرے لگائے جائیں گے اور تقریروں میں پھر بلند خیالات کا اظہار کیا جائے گا اور پھر دو تین سال بعد کسی کرپٹ لسٹ میں نام کا شمار ہو جائے گا۔۔۔ ان کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس امانت کو کس کے سپرد کریں تاکہ روزِ محشر وہ اپنے بیٹے سے نظریں ملا سکیں وہ ابھی بھی یہ سوچ رہے تھے کہ اتنے میں فاطمہ کمرے میں داخل ہوگئی ابو کو پریشان دیکھ کر اس نے کوئی سوال نہ پوچھا اور کھانا لگا دیا ۔وہ کھانا کھا کر ہسپتال کی جانب روانہ ہوگئے جہاں ان کا چھوٹا بیٹا موت کے منہ میں تھا ہسپتال تو پہنچ گئے لیکن گاڑی سے اترنے کی ہمت ان میں اب بھی نہ تھی وہ اس بات کو سوچ رہے تھے کہ آخر کون ہے جو نظام بدل سکتا ہے کون ہے جو پاکستان کو واپس" اسلامی جمہوریہ پاکستان" بنا سکتا ہے لیکن افسوس کافی دیر سوچنے کے بعد بھی وہ مایوس ہو گئے انھوں نے تمام جماعتوں میں فرق کرنا شروع کر دیا اور آخر وہ ایک ایسے فیصلے پر پہنچ گئے جس سے اگر  دنیا میں جیت نہ ملتی تو کم از کم آخرت میں پکڑ بھی نہ ہوتی انہوں نے سوچا کہ دنیا سنوارنے والے سے اسلام پھیلانے والا رہنما بہتر ہے امیروں کو خوشحال سے خوشحال تر بنانے والوں سے غریبوں کے ساتھ کھانا کھانے والا رہنما اچھا ہے اور اگر دنیا میں ہار بھی گئے تو کم ازکم اللہ اور اس کے رسول کے آگے پشیمان نہیں ہونا پڑے گا یہ...

رانی پدماوتی اور علاؤالدین خلجی ۔۔۔ کیا حقیقت کیا افسانہ

محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد سے لے کر 1857 ؁ء کی جنگ آزادی تک بر صغیر ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نے گیارہ سو سال تک حکومت کی ہے۔ ہندوستان مختلف النسل اقوام کا مجموعہ ہے جس کے باشندے رنگ ، نسل اور مزاج کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں متقسم ہیں۔ ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں چندر گپت موریا اور اشوک کے علاوہ کوئی اور حکمران ایسا نہیں گزرا کہ جس نے ان تمام گروہوں کو ایک سلطنت میں ضم کرکے حکومت کی ہو۔ اس کے برعکس مسلم سلاطین نے برصغیر میں کئی مضبوط اور مستحکم سلطنتیں قائم کیں جن میں تغلق، خلجی، لودھی اور مغل سلطنتیں شامل ہیں۔ سب لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کے افسانہ ہو یا فلم یہ صرف تاریخی پس منظر رکھتے ہیں مگر اصل تاریخ سے بہت مختلف ہوا کرتے ہیں بلکہ قطعی مختلف بھی ہو سکتے ہیں، یہاں تک کے سارے تاریخ دا ں جس بات کو رد کرتے ہوں فلم میں تجارتی نکتہ نظر سے اس ا فسانہ یعنی پاپولر کلچر کو خوب خوب بڑھا چڑھا کر بیاں کیا جاتا ہے۔ جس کو مستند تاریخ نہ کوئی سنجیدہ شخص مانتا ہے اور نہ ہی کوئی منوانا چاہتا ہے۔ ہاں عامتہ الناس البتہ اس میں خوب دلچسپی لیتے ہیں اور اپنے اپنے نکتہ نظر سے فلم کی بیان کردہ تاریخ کو صحیح اور مستند یا جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے رہتے ہیں۔ سخت گیر حکمرانوں پر متوازن رائے قائم کر نا یوں بھی مشکل ہوتا ہے اور جب مسئلہ ہندو اور مسلم بھی ہو تو بر صغیر کی فضا متوازن رائے قائم کر نے کے لیئے کتنی سازگار ہے، سب جانتے ہیں۔ علاؤالدین خلجی پر بھارت میں حال ہی میں ایک فلم ریلیز ہوئی ہے۔فلم ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطوں کی دنیا میں ایک ہلچل سی مچ گئی، دیگر ذرائع ابلاغ پر بھی فلم پر لے دے شروع ہوگئی۔ تاریخ سے مکمل نابلد افراد نے بھی گفتگو میں بڑھ چڑھ کر رائے زنی کی اور اپنے اپنے حسابوں علاؤالدین خلجی کو دیوتااور نجات دہندہ قوم یا ظالم اور عیاش حکمراں ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ تجارتی نکتہ نظر سے بنائی گئی کسی بھی فلم میں بیان کردہ تاریخ ایک سِرے سے اس قابل ہی نہیں ہوتی کہ اس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ایک بے معنی بات کو اس قدر اہمیت دینا ہی اصل میں اس تحریر کا محرک بنا کہ مستند تواریخ سے علاؤالدین خلجی کی جو تصویر سامنے آتی ہے اسے بلا کم و کاست بیان کردیا جائے۔ فلمی فسانے کو حقیقت سے جدا کردیا جائے۔ تاریخ دان نہ جج ہوتا ہے نہ وکیل کہ وہ کسی کے اچھے یا برے ہونے پر دلائل دے یا کسی کے اچھے یا برے ہو نے کا فیصلہ صادر کرے۔ وہ صرف حقائق کی چھان پھٹک کرکے واقعات کو معروضی انداز میں پیش کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اچھے برے ہونے کا فیصلہ قاری پر چھوڑتا ہے ورنہ مورخ اور فلمساز میں فرق کم رہ جائے گا۔ تاریخ کے بیان میں اگر ذاتی پسند یا نکتہ نظر شامل...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

اُف یہ بیویاں

عورت ٹیڑھی پسلی کی وہ تخلیق ہے کہ ایک بار بیوی بن جائے تو پھر ٹیڑھے سے ٹیڑھے مرد کو بھی یک جنبش انگلی ایک ہی پاؤں پہ وہ ناچ نچواتی ہے کہ شوہر نامدارکے تمام کس بل نکال دیتی ہے۔اور مرد بے چارہ جو قبل از شادی کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا اب بیوی کے پلو سے ایسے بندھا رہتا ہے جیسے اونٹ کے گلے میں بلی اور بلی بھی وہ کی جو بہت سے بلوں میں اکیلی گھری ہوئی ہو جیسے رضیہ غندوں میں اور دور کھڑا ایک خاوند لاچارگی و نحیف آوازمیں کہہ رہا ہو کہ :شیر بن شیر؛ بیوی آ پکا وہ قانونی حق ہے جسے آپ سو(۱۰۰)دو سو(۲۰۰) افراد کی موجودگی میں قبولیت ثلاثہ کے ساتھ بخوشی حق قبولی میں لیتے ہیں۔بعد از شادی بعدین دو سو دن شادی مرگ ہو بھی جائے تو یقین مانیں آپ دنیا کے خوش قسمت ترین خاوند خیال کئے جائیں گے ہو سکتا ہے آپ کو :عائلی شہید: کے اعلی رتبے پر خیال کیا جائے۔ بیوی میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہوایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ جب چاہے کوئی سا بھی روپ دھار سکتی ہے۔جب چاہے گرگٹ بن کے کوئی سا بھی رنگ بدل لے۔رنگ بدلنے کے لئے خاوند،سسرال،یا میکہ کہیں سے بھی بیوی کو اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے سے ہی :بیوی نامہ:میں ڈیٹا اسٹور میں پڑا ہوتا ہے۔بس یہ بیوی پر منحصر ہے کہ ذاتی منشا و مدعا کے مطابق کب ،کونسا روپ دھار کر خاوند،ساس،نند،اوردیورانی کو بیوقوف بنانا ہے۔یعنی گھر میں دھونے والے برتنوں کی کثرت ہو تو کثرت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لئے بھی بیوی کے سر میں درد نکل سکتاہے،سسرالی مہمانوں کی آمد آمد ہو تو :خاتون خانہُ:گندے دوپٹے سے سر باندھ کر بوڑھی :دائیہ ؛کی وضع اپنا سکتی ہے۔اور اگرمیکہ والوں سے کوئی دور پار کے رشتہ دار بھی آ جائیں تو :کپتی بیوی: کے غلاف سے دھارمک ،بی بی اور موٗدب بیوی کہاں سے عود کر آ جائے گی کہ پورا سسرال انگشت بدنداں،حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ :ہیں: ایسا روپ تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ تنخواہ کا دن وا حد دن ہوتا ہے جس میں ایک دم کپتی بیوی گل اندام محبوبہ کی وضع قطع اپنا لے گی کہ :سکے خاوند: کو یقین نہیں آتا کہ وہ ذاتی بیوی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی بیوی کے سامنے کھڑا ہے۔بیوی کے یہ ناز و نخرے اس وقت تک چلتے ہیں تا وقتیکہ شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی نہ ہو جائے۔ ایام ماہ آ خرجب شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی ہو جاتے ہیں تو فوری طور پہ :گجی ماں:جیسے ٹکا کے بے عزتی کرتی ہے جیسے بچپن میں رات تاخیر سے وآنے پہ اماں کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی رہتی ہے۔ بیوی کا پاور ھاؤس اسکا میکہ ہوتا ہے جبکہ خاوند کے لیے یہ جگہ بارگاہ ادب سے کم نہیں۔ ہر اس شخص کو کسھیانی مسکراہٹ اور عزت و مقام بخشتے ہوئے جھک کر سلام اور گلے لگانا پڑتا ہے جو آر...

انگریزی،انگریزنی اور ہم پاکستانی

انگریز برصغیر سے جاتے ہوئے اپنی اپنی انگریزنیوں کو تو ساتھ لے گئے۔تاہم انگریزی ہمارے واسطے بطور عذاب اور امتحان کے چھوڑ گئے۔ہم ٹھہرے باوقار پاکستانی،اپنی چائے میں مکھی بھی پڑ جائے تو اسے مکمل نچوڑ کر اور کبھی کبھار چوس کر چائے بدر کرتے ہوئے کہیں دور پھینک کر بقیہ چائے یہ کہتے ہوئے پی لیتے ہیں کہ حلال کمائی کی ہے، مگر کسی کی جھوٹی چائے کو تو ہاتھ لگانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔بھلا تصور کریں کہ انگریز کی چھوڑی ہوئی انگریزی کو ہم کیسے ہاتھ لگائیں گے۔ہاں اگر انگریزی کی جگہ انگریزنی ہو تو ہاتھ اور منہ لگانے کو ہم قومی فریضہ خیال کریں گے۔پھر بھی ہم یارانِ مہر و محبت ،انگریزی کو بھی صیغہ مونث خیال کرتے ہوئے اس امید سے برداشت کر رہے ہیں کہ اک روز تو آئیگی آتے آتے’’پر کتھوں‘‘نہ انگریزی اور نہ ہی انگریزنی آتی ہے،مایوسی کہیں کفر تک نہ لے جائے اور مذکور ان دو صنف اور صنفِ نازک سے بدلہ لینا مقصود ہو تو رختِ سفر باندھیے گوروں کے دیس کا اور ایک عدد گوری سے شادی کر وا کے خوب اپنی تشنگی بجھائیے۔جیسے 90 کی دہائی میں میرا ایک دوست اس عزمِ صمیم سے ولایت پڑھنے گیا تھا کہ وہاں جا کر انگریزی اور انگریزنیوں سے گن گن کر بدلے لوں گا۔اور وہ اپنی زبان کا پکا نکلا کہ گن گن کر اس نے سات آٹھ انگریزنیوں سے شادیاں کی ،گن گن کر پندرہ بیس مکس کراپ( mix crop ) قسم کے بچے پیدا کئے جنہوں نے بڑھاپے میں ایک ایک کر کے چھوڑ دیا اور اب محترم سوچ رہے ہیں کہ ’’اپنے اور اپنا پاکستان زندہ باد‘‘۔مگر یہ سب ہر بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ انگریزی اور انگریزنی کو ایک ساتھ ہاتھ ڈال لے۔اور اگر یہ دونوں ایک ساتھ کہیں ہمارے ہتھے چڑھ جائیں تو پھر ہم ان دونوں کی وہ ’’ماں بہن‘‘ ایک کرتے ہیں کہ خدا پناہ۔میرا ایک دوست انگریزی کے ساتھ وہ ’’کتے خوانی‘‘ کرتا ہے کہ گورے ان کی انگریزی اگر پڑھ لیں تو انگریزنیوں کو بچوں سمیت موصوف سے ایسے چھپاتے پھریں جیسے بلی اپنے بچوں کو منہ میں دبائے سات گھروں میں لئے پھرتی ہو۔میری نظر سے ان کا لکھا ہوا ایک پیرا گراف گزرا ۔اس پیراگراف پڑھنے کے بعد جو میرے احساسات تھے میں چاہتا ہوں کی قارئین کی نذر کروں،پیرا پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے preposition کو دھوبی پلڑا مار کر اور مجھے کرنٹ لگا کر زمیں پر دے مارا ہو،preposition کے بے ہنگم استعمال سے میں سمجھا ،کہ ہو سکتا ہے کہ میں ہی ذہنی طور پہ تیا ر نہ تھا ،ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ use of tense کو بھی انہوں نے اتنی tention میں رکھا ہوا تھا کہ میں خود tense ہو گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے،بندہ ماسٹر ڈگری کر کے ماسٹر لگا ہوا ہے تو پھر انگریزی میں اتنا ماسٹر کیوں نہیں کہ ایک جملہ ہی ٹھیک سے لکھ سکتا ہو۔اب دیکھئے ذرا کہ ’’میں کہتا ہوں‘‘ کی انگریزی me told اور ’’تم آجانا‘‘ کی they come کی...

ہمارے بلاگرز