ٹیکس تنازعات میں پھنسے ہوئے 200ارب روپے کے ٹیکس واجبات کی ریکوری کا اغاز

101

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام ماتحت اداروں کو ٹیکس دہندگان سے ٹیکس تنازعات میں پھنسے ہوئے 200ارب روپے کے ٹیکس واجبات کی ریکوری کے لیے کارروائی شروع کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تقرری کے بعد ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر ری ویمپنگ کی جارہی ہے اس دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی ٹاپ انتظامیہ کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کے مجموعی طور پر 385 ارب روپے سے زائد مالیت کا ریونیو ٹیکس تنازعات میں پھنسا ہوا ہے اورایپلٹ ٹربیونلز اور دیگر متعلقہ فورمز کی جانب سے ٹیکس تنازعات میں کئی کئی ماہ تک حکم امتناعی جاری رہنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ٹیکس ریکوری نہیں ہوپارہی ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھی نقصان ہورہا ہے اور ایف بی آر و اس کے ماتحت اداروں کے کام کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف ایپلٹ ٹربیونلز کی جانب سے جن کیسوں میں حکم امتناعی جاری کیے ہوئے 180روز سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے وہاں 200ارب روپے کا ریونیو پھنسا ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر حکام کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹیکس تنازعات کے کیسوں کے حوالے سے ایپلٹ کے میکنزم میں کمزوریوں و خامیوں کی وجہ سے ریونیو پھنسا ہوا ہے کیونکہ بہت سے ایسے کیس ایپلٹ کی سطح پر جاکر پھنس جاتے ہیں جہاں ٹیکس دہندہ کے ذمہ ٹیکس واجبات کے سو فیصد شواہد موجود ہوتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ