امریکا بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے ،سراج الحق 

123
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے عدلیہ اور حکومت کی طرف سے ڈیمز بنانے کے عزم کو سراہا ہے اور کہاہے کہ پاکستان میں اس وقت پانی کی کمی کی جوصورتحال ہے وہ الارمنگ ہے ۔ بھارت پاکستانی دریاؤں کا پانی روک کر ملک کو صحرا بنانااور اس کی زراعت اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا چاہتاہے،امریکا بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کی کوشش جبکہ پاکستان کو صرف وعدوں پر ٹرخارہا ہے ۔چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جماعت اسلامی اسلام آباد کے ضلعی اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سراج الحق نے امریکی اور چینی وزرائے خارجہ کے پاکستان کے دوروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ امریکا نے ہمیشہ پاکستان سے اپنے مفادات حاصل کیے ہیں اور کبھی بھی پاکستان کی مشکل حالات میں مدد کو نہیں پہنچا ۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا امریکا نے کبھی اعتراف نہیں کیا ۔ امریکا پاکستان سے ہمیشہ ڈو مور کا مطالبہ کرتاآیاہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے ۔ امریکا اس کے ازالے کے بجائے وقتاً فوقتاً پاکستان کی امداد پر قدغن لگاتا رہا ہے ا س وقت بھی امریکا نے پاکستان کی امداد بند کر رکھی ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ چینی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان حوصلہ افزا ہے اور پاکستان کے مسائل حل کرنے میں چین دلچسپی لے رہاہے ۔ سی پیک منصوبہ پاک چین تعلقات کی مضبوط کڑی ہے ۔ ہر مشکل وقت میں چین نے ہمارا ساتھ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بھارت کے ساتھ دفاعی اور سول ایٹمی معاہدے کر کے اسے مضبوط سے مضبوط تر کرنے اور خطے کا تھانیداربنانے کی کوشش کر رہاہے جبکہ پاکستان کو صرف وعدوں پر ٹرخایا جارہاہے ، امریکا کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت کی طرف سے گیس اور بجلی کے بلوں اور کھاد کی بوری کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا ۔ پہلے ہی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ کھاد مہنگی کرنے سے زراعت پر برے اثرات پڑیں گے ۔ کسان پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے اسے سبسڈی کی ضرورت ہے اس پر مزید بوجھ ڈال کر اسے مسائل کا شکار کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے ۔ ضروریات زندگی عام شہری کی پہنچ میں ہوں ۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، غربت جہالت کا قلع قمع کیے بغیر عام شہری کی پریشانیاں دور نہیں ہوسکتیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو بیرونی دباؤ سے آزاد کرایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔ ہم فرد اور معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں ہمارا کارکن عوام کی خدمت پر یقین رکھتاہے ۔ ہم دعوت اور محبت سے معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کا ہنی مون کا پریڈ گزر گیاہے اب کارکردگی دکھانے کا وقت ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ