جنگ ستمبر 1965 کے پرعزم لمحات و واقعات

249

نجیب ایوبی

1965میںہندوستان نے کشمیر کے محاذ پر پاکستان کے حملے کا جواب دینے کے لیے جو حکمت عملی ترتیب دی وہ یہ تھی کہ پاکستان پر ابتدا میں تین جانب سے حملہ کیا جائے۔ چنانچہ قریب ترین ہدف لاہور کا انتخاب کیا گیا، اور ہندوستان نے اپنی فوج کو شمال کی جانب ’جسٹر‘ کے علاقے اور جنوب میں ’قصور‘ پر حملہ کرنے کا حکم جاری کیا۔
6 اور 7 ستمبر کو پاکستان کی فضائیہ نے ’ہلواڑہ، پٹھان کوٹ، اور آدم پور‘ پر یکے بعد دیگرے تین حملے کرکے ہندوستان کو شدید پریشانی میں ڈال دیا تھا۔ فضائی کارناموں کے ساتھ ہی پاکستان نے زمینی مقابلے میں بھی دشمن کو خاصا نقصان پہنچایا۔ ہندوستانی زمینی حملے کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے کہ لاہور اور سیالکوٹ کے بارڈر پر ہندوستان نے اپنی افواج کو مجتمع کرنے کے بعد بھرپور حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور یہ ٹاسک ہندوستانی میجر جنرل نرنجن پرشاد کو سونپا گیا، جو رات کی تاریکی میں اپنے 25 ڈویڑن کے ساتھ اپنے ٹینکوں کی فارمیشن میں آگے بڑھتا چلا آیا، اور آرٹلری و بھاری توپ خانے زمینی فوج کو مدد دینے کے لیے ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
5 میل طویل اس سرحد پر پاکستان کی پہلی دفاعی لائن صرف سات بٹالینز پر مشتمل تھی۔ پاکستان کی انتہائی کم نفری پاکستانی فوج کے لیے انتہائی مشکل چیلنج تھا کہ وہ ہندوستانی یلغار کو لاہور شہر کی جانب بڑھنے سے کیسے روکے؟ ہندوستان کے لیے ضروری تھا کہ لاہور میں داخل ہونے کے لیے باٹا پور جانے والے واحد پل پر کسی طرح اپنا قبضہ جمایا جائے، تاکہ اپنی آرٹلری اور ٹینکوں کو لاہور شہر میں داخل کروایا جاسکے۔ یہ علاقہ جس فوجی نام سے جانا جاتا تھا اسے برکی سیکٹر کہا جاتا ہے جو میجر راجا عزیز بھٹی شہید کی کمانڈ میں تھا۔
اس محاذ پر موجود ایک غازی کرنل (ر) سردار عبدالرئوف مگسی جو میجر عزیز بھٹی کے ساتھ موجود تھے، بتاتے ہیں کہ جب دشمن’بی آر بی‘ نہر ایک طرح سے عبور کرچکا تھا، تب اللہ نے ان کی راہنمائی کرتے ہوئے کس طرح دشمن کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملایا۔
کرنل (ر) سردار عبدالرئوف مگسی کے مطابق ’’میجر شفقت بلوچ اور میجر عزیز بھٹی اپنے جوانوں کے ساتھ دشمن کو پیچھے دھکیل رہے تھے کہ 7 اور 8 ستمبر کی رات ہماری کمپنی کو حکم ملا کہ دشمن سے بھسین کا علاقہ خالی کرائو۔ ہم نے اس علاقے کی پہلے سے ریکی نہیں کی تھی، یہ کام دوسری کمپنی کی زیر نگرانی تھا۔ اس کمپنی کا ایک جوان ہمارے ساتھ ہوا اور ہم اس کی رہنمائی میں آگے بڑھنے لگے۔ جوان راستہ بھول گیا تھا، اور ہم اْس کی غلطی سے اْس جانب نکل گئے کہ جہاں ہمیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کتوں نے کچھ لوگوں کو چلتے پھرتے دیکھ لیا تھا۔ یہ علاقہ ہمارے منصوبے میں شامل نہیں تھا۔ جب ہم وہاں سے چکر کاٹ کر آگے بڑھے، تو احساس ہوا کہ ہم دشمن کے دائیں جانب عقب میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ دشمن کی 15ڈویڑن کی دو بٹالین فوج تھی جو ’بی آر بی‘ نہر پر قابض ہوکر آگے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ ہمارے پاس صرف 119افراد کی کمپنی تھی۔ ہم نے اللہ کا نام لیا اورعقب سے حملہ کردیا۔ دشمن بوکھلا گیا۔ ہم نے 351 دشمن مارے اور 187گرفتار کرلیے۔ اس دوران 15ڈویڑن کے کمانڈر جنرل نرنجن پرشاد کی جیپ اور ڈائری بھی ہمارے قبضے میں آگئی جس میں لاہور پر حملے کا پورا منصوبہ درج تھا اور نقشے مارک کیے گئے تھے۔ ان دستاویزات کے ہاتھ لگنے سے ہمیں اپنی دفاعی حکمت عملی تیار کرنے کا موقع مل گیا۔ یہ جیپ آج بھی 18بلوچ پلٹن کوارٹر گارڈ میں وار ٹرافی کے طور پر موجود ہے۔ ہم نے 8 ستمبر کو نہ صرف بھسین کا علاقہ بلکہ دشمن کا وسیع علاقہ پل کنجری، ککڑ اور مقیم پور بھی قبضے میں لے لیا (یہاں سے امرتسر صرف 12میل دور تھا)۔ ہم پیش قدمی کرتے آگے بڑھتے جارہے تھے کہ ہائی کمان کے حکم پر ہماری پلٹن کو مناسب حد تک پیچھے ہٹا لیا گیا۔ لاہور کے مکمل دفاع کے لیے یہ بھی ضروری تھا۔ ہماری یونٹ 8 ستمبر کو بھسین ڈے کے طور پر مناتی ہے۔‘‘
کرنل (ر) سردار عبدالرئوف مگسی نے مزید بتایا کہ ’’یہ کہنا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ہندوستانی حملے سے باخبر تھی انتہائی غلط ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم اْس وقت ہاکی کا فائنل میچ کھیل رہے تھے کہ اس اثنا میں جنگی بگل بج اٹھا۔ ہم سب حیران ہوئے کہ اس وقت بگل اچانک کیوں بجا ہے؟ کیونکہ یہ حالت امن کی نشاندہی نہیں کررہی تھی، ہم فوراً بھاگے، جس کے ہاتھ جو اسلحہ لگا اس نے آٹھایا، وردی پہننے کا ہوش نہ رہا۔ کسی نے مشین گن اٹھائی، تو کوئی ہینڈ گرنیڈ بکس اٹھا رہا تھا۔ جنگ کا بلاوا جس انداز میں آیا تھا وہ یہی بتاتا ہے کہ دشمن نے شب خون مارا ہے، اسی لیے افراتفری برپا ہوئی۔ ہم جس وقت محاذ پر پہنچے ہیں وہاں ہماری مدد کو اور کوئی نہیں تھا، ہماری باقاعدہ بریگیڈ اس کے دو تین دن بعد پہنچی تھی۔ ہماری کمپنی کے ذمے بی آر بی، جلو اور سائفن کے آگے پیچھے کے کچھ علاقے تھے۔ جب کہ دوسرا گروپ کرنل شفقت بلوچ کی زیر قیادت آگے ’ہڈیارہ‘ میں تھا، اور ان سب کے پیچھے میجر عزیز بھٹی تھے۔
ہندوستانی ٹروپس اور زمینی فوج کے دو ڈویڑن بھاری گولہ باری کرتے ہوئے پاکستان کے اندر بی آر بی نہر کے ایک جانب اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے اور آرٹلری بھی ان کے ساتھ اپنی توپوں کو فٹ کرچکی تھی۔ ہماری فوج نے انتہائی کم نفری کے ساتھ کئی گھنٹوں تک ہندوستانی یلغار کا مقابلہ کیا۔ یہ مقابلہ شدید ترین شکل اختیار کرتا جارہا تھا کہ اچانک ہندوستانی فوج نے ایک بریگیڈ اور ایک ٹینک رجمنٹ کے ساتھ شدید ترین بمباری کرتے ہوئے باٹا پور کی جانب بڑھنا شروع کیا۔ ان کے پیچھے ہندوستانی فوجی فائرنگ کرتے ہوئے پل کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اس شدید ترین حملے میں پاکستانی فوج نے لاہور کو بچانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے باٹاپور پل تباہ کرنا بہت ضروری تھا۔ مگر پل پر تباہ کن مواد پہنچانا وہ بھی دن کی روشنی میں، ناممکن تھا… اور رات تک دشمن کو روکے رکھنا اس سے بھی زیادہ مشکل کام تھا۔ دشمن چوکنا تھا اور مسلسل فائرنگ کرکے پاکستانی فوج کو پل کے نزدیک آنے سے روک رہا تھا۔ پل تک دھماکا خیز بارود لے جانے کی کوشش میں ہمارے کچھ جوان زخمی اور ایک شہید بھی ہوچکا تھا، مگر ان سخت ترین حالات میں بھی جذبہ ایمانی کم نہ ہوا اور چند جوان دن کی روشنی میں ہی کسی نہ کسی طرح سینکڑوں پونڈ دھماکا خیز مواد کو پل کی بنیادوں تک لے جانے میں کامیاب ہوگئے، اور چھوٹے چھوٹے گڑھے بناکر اْن میں بارود فٹ کرنے کے بعد آگ لگانے والے دھاتی تاروں کو جوڑ کر اپنے ساتھ چار پانچ سپاہیوں کے کور میں بحفاظت پل کے پار آنے میں کامیاب رہے۔میجر راجا عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ نے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے دشمن کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ حملہ آور تعداد میں ہم سے بہت زیادہ تھے، یوں سمجھ لیں کہ ایک کے مقابلے میں تین سپاہیوں کا تناسب تھا۔ دشمن چار سو توپوں کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا، جبکہ ہمارے پاس درمیانے درجے کی چھوٹی بڑی ملا کر ایک سو توپیں موجود تھیں۔ ہماری آرٹلری کمک ابھی راستے میں ہی تھی کہ دشمن کا بھرپور حملہ شروع ہوگیا۔
6 اور 7ستمبر کے دن تک ہم نے دشمن کا خوب جم کر مقابلہ کیا اور دشمن کو اپنی جان کے لالے پڑگئے تھے۔ اس حالت میں جنگ کے تیسرے دن یعنی 8 ستمبر کو دشمن کے قدم اکھڑنے شروع ہوگئے۔ اپنی یقینی پسپائی کو دیکھتے ہوئے جنرل چودھری نے اپنا ’’پیرا ٹروپر‘‘ بریگیڈ نمبر 50 بھی محاذِ جنگ میں اتارنے کا فیصلہ کیا اور بڑی تعداد میں پیراشوٹ کی مدد سے اپنے کمانڈوز کو میدانِ جنگ میں اتار لیا گیا۔ یہ اضافی نفری آجانے سے دشمن کی نفری 35 ہزار ہوچکی تھی جس پر پاک فوج کے 5 ہزار جوان تھے۔
ہمارا آپریشنل موٹو تھا ’’پاکستانی فوج کا جوان آخری سپاہی، آخری گولی تک لڑے۔ سنگینوں سے لڑے، خالی ہاتھوں سے لڑے، ناخنوں سے لڑے، دشمن کو نیست و نابود کردے، اپنی زمین کا ایک انچ بھی دشمن کے ناپاک قدموں تلے نہ رہے۔‘‘ اس حکم سے افسروں اور جوانوں میں نیا عزم اور ولولہ پیدا ہوگیا۔ ہندوستانی لشکر کا ابتدائی مقابلہ بارڈر پر موجود رینجرز نے صرف رائفلز کے ساتھ کیا۔ یہ رینجرز اْس وقت تک فائر کرتے رہے جب تک ان کے پاس گولیاں ختم نہیں ہوگئیں۔ اس کے بعد سنگینوں کے ساتھ دوبدو فائٹ ہوئی اور اْس وقت تک ہوتی رہی جب تک ایک ایک رینجر نے جامِ شہادت نوش نہیں کرلیا۔ دفاعی حکمت علمی کے تحت پاکستان نے اپنے کچھ فوجی دستے نہر کے دوسری جانب بھیج دئیے تھے۔ آرڈر ملنے پر وہ بھسین کے علاقے میں ایک بڑے دائرے میں بکھر گئے اور دشمن کو تین جانب سے اپنے نرغے میں لینے میں کامیاب رہے۔ دشمن پوری طرح ہمارے جال میں پھنس چکا تھا۔ ایسے میں اچانک پاکستانی توپ خانہ دشمن پر گولوں کی صورت میں آگ برسانے لگا۔ سحر کی سپیدی پھوٹتے ہی ہماری پاک فضائیہ نے بھی آسمان سے دشمن پر آگ کے گولے برسانے شروع کردئیے۔ ہماری فضائیہ نے اسکواڈرن لیڈر ’’بچہ‘‘ کی قیادت میں زمین سے محض سو ڈیڑھ سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے دشمن کی صفوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ اس فضائی یلغار نے دشمن پر ایسی دہشت ڈالی کہ اس کے حوصلے پست ہوگئے اور آدھی سے زیادہ فوج انسانی لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی۔”
میجر شفقت بلوچ نے باٹا پور کے پل کو پار کرنا دشمن کے لیے ناممکن بنادیا تھا۔ چند گھنٹوں میں لاہور جیم خانے میں شراب پینے کا عزم لے کر چلنے والے ہندوستانی سورما اپنی جیپیں اور دیگر سامان چھوڑ کر اِدھر اْدھر جان بچانے کے لیے بھاگتے پھر رہے تھے۔ ایسے میں 7 ستمبر کی صبح جنرل سرفراز نے بریگیڈیئر قیوم شیر کی کمان میں اسٹرائیک فورس (ریزرو فوج)کے جوانوں کو دشمن پر بھرپور جوابی حملے کا حکم دے دیا۔
یہ بڑا دلیرانہ فیصلہ تھا۔ ہماری محفوظ فوج کی تعداد انتہائی خطرناک حد تک کم تھی۔ حکم ملتے ہی 8 ستمبر کی صبح بریگیڈیئر قیوم شیر اپنے سپاہیوں کے ہمراہ نہر پار کرکے دوسری جانب اتر گئے۔ جوانوں نے ہنگامی پل بناکر کچھ ٹینک نہر کے پار پہنچا دیئے تھے۔ بریگیڈیئر قیوم شیر نے بھسین کی طرف سے’واہگہ‘ اور بریگیڈیئر آفتاب نے شمال کی جانب سے ’طوطی‘، ’رانی‘ اور ’شمشیر‘ پر بھرپور حملہ کیا۔ یہ اتنا تیز اور زوردار حملہ تھا کہ جنرل نرنجن پرشاد اپنے ہیڈ کوارٹر کی چار جیپیں جن میں اس کی ذاتی جیپ بھی شامل تھی، مع جنگی دستاویزات بھیسن کے قریب چھوڑ کر بھاگ گیا اور ہماری محفوظ فوج نے بی آر بی کے پار مورچے قائم کرلیے۔
ڈوگرائی پر ہمارا قبضہ ہوچکا تھا، ہماری فوج نے ڈیڑھ میل آگے پہنچ کر اپنا مورچہ بنا لیا۔ فائربندی کا حکم آنے تک دشمن نے اس مورچے کو چھڑوانے کے لیے چھبیس حملے کیے اور اپنی کئی پلٹنیں اور ٹینک اس مورچے کو حاصل کرنے میں تباہ کروا لیے، لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اپنی ناکامی اور پسپائی کا بدلہ ہندوستانی فوج نے ڈوگرائی ہڈیارہ کے علاقے میں دیہاتیوں کا قتلِ عام کرکے لیا۔ بھاگتے بھاگتے انھوں نے پانی کے کنوو?ں میں زہر ڈال دیا تھا۔ بریگیڈیئر اصغر نے دو بٹالین فوج کے ساتھ دشمن کے پورے ڈویڑن کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔ میجر شفقت بلوچ نے ہڈیارہ نالے پر دشمن کو روکے رکھا اور کرنل نواز کا توپ خانہ دشمن پر آگ برسانے لگا۔ ہمارے او۔ پی نے دشمن کے عین درمیان داخل ہوکر اسلحہ سے بھرے ٹرکوں کو نشانہ بنایا۔ یہ اسلحہ سے لدے ٹرک ہڈیارہ نالے کے پل پر سے گزر رہے تھے کہ ہمارے سپاہیوں نے ان کو نشانہ پر لے لیا۔ دشمن پر قیامت ٹوٹ پڑی، جس سے پل بند ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی بچ جانے والے پلوں کی حفاظت کے لیے فرنٹیئر فورس کی آر آر جیپیں اور مشین گنیں پوزیشن میں چلی گئیں اور میجر شفقت بلوچ کو نہر پار کرکے آنے کا حکم مل گیا۔ دشمن کے سامنے ہڈیارہ سے برکی تک کا سارا علاقہ تھا۔ لیکن جہاں کہیں بھی دشمن نے سر اٹھانے کی کوشش کی، اْس کا سر کچل دیا گیا۔
10 ستمبر کو برکی سیکٹر پر دشمن کا حملہ اب تک کے حملوں میں سب سے بڑا تھا۔ دشمن کے ٹینک اور انفنٹری برکی کے اندر گھس آئی تھی۔ توپ خانے کے صوبیدار شیر دل اور میجر عزیز بھٹی نے ایک مقام پر دفاعی اور آبزرویشن چوکی قائم کرکے مؤثر گولہ باری جاری رکھی، جس سے دشمن کی ٹینک رجمنٹ کا کمانڈنگ افسر بھی مارا گیا اور برکی سیکٹر کی گلیاں اور راستے دشمن کی لاشوں سے اٹ گئے۔ بے شمار جلتے ہوئے ٹینکوں اور ٹرکوں نے بچے کھچے زخمیوں کو بھی بھسم کرڈالا۔ اسی محاذ پر میجر راجا عزیز بھٹی دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کرنے میں کامیاب رہے، اور پھر اْس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔ انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاعی پوزیشن کے لیے منظم کیا۔ یہاں تک کہ 12 ستمبر کا دن شروع ہوگیا، دشمن اپنے چھوٹے ہتھیاروں، ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا کر اس نہر کو پار کرنا چاہتا تھا، مگر راجا عزیز بھٹی دشمن کے راستے میں آہنی دیوار بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے نہ صرف دشمن کے شدید دبائو کا سامنا کیا بلکہ اس کے حملے کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔ اسی دوران دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ ان کے بدن پر لگا اور شہادت ان کا مقدر ٹھیری۔ میجر عزیز بھٹی شہید ہوچکے تھے –
جنرل چودھری کی خام خیالی تھی کہ دو دن میں لاہور فرنٹ پر وہ پاکستانی فوج کی مدافعت مکمل ختم کردے گا، اور کسی وجہ سے ایسا نہ بھی ہوا تو سیالکوٹ کا محاذ کھول کر ایک اور حملہ کیا جائے اور لاہور کے عقب سے حملہ کرکے لاہور کو قبضے میں لے لیا جائے۔
دفاعی مبصروں کے خیال میں جنرل چودھری نے سیالکوٹ پر تاخیر سے حملہ اس لیے کیا تھا کہ اپنی دانست میں وہ اس دوران پاکستانی ٹینک اسکواڈرنوں کو لاہور، بیدیاں اور قصور کے دفاع پر بکھیر چکا ہوگا اور اس کے ’’آہنی ہاتھیوں‘‘ کے مقابلے میں پاکستان کی ایک آدھ ٹینک رجمنٹ کیا کرسکے گی؟ اس نے دوسری چال یہ چلی کہ جنگ کے میدان کو پھیلاتا چلا گیا اور سیالکوٹ کے شمال سے’جسٹر‘ تک لڑائی کو پھیلا دیا۔ یہ سارا میدانی علاقہ یوں بھی ٹینکوں کی جنگ کے لیے بڑا موزوں تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ