قافلہ آزادئ کشمیر رُکا نہیں، تھما نہیں 

437

عمران احمد سلفی

یوں تو جدوجہد آزادئ کشمیر میں متعدد مراحل آتے رہے ہیں جن میں کشمیر کے دونوں جانب رہنے والے مسلمانوں نے آزادئ وطن کے لیے بیش بہا جانوں کے نذرانے پیش کر کے جدوجہد آزادی کو جلا بخشی ہے بد قسمتی سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم بھارتی استبداد سے بھی پہلے اس وقت سے روا رکھے گئے ہیں جبکہ وہاں ڈوگرا راج قائم تھا اور مسلم اکثریتی آبادی ان کے بہیمانہ جبر تلے دبے ہوئے تھے۔ تقسیم ہند کے موقعے پر امید ہو چلی تھی کہ اب تاریک دور کا خاتمہ ہو گا اور کشمیری عوام بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کے ذریعے آزادی کی بہاریں دیکھ سکیں گے اور آئندہ نسلیں امن و سکون اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکیں گی۔ تاہم یہ امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب مہاراجا کشمیر ہری سنگھ نے عوامی رائے کے علی الرغم بھارت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور ہندوستان نے کشمیر میں اپنی فوجیں اتار دیں تاکہ عوام کے جذب�ۂ الحاق پاکستان کو بالجبر دبا دیا جائے اور جنت نظیر کشمیر پر اس کا غاصبانہ قبضہ بر قرار رہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ بھارت ایک طرف تو دنیا بھر میں اپنی جمہوریت نوازی کے راگ الاپتا پھرتا ہے اور دوسری جانب وادی کشمیر کے عوامی جذبات کے بر خلاف جبرو استبداد کے ذریعے غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ گزشتہ ساٹھ برس سے کشمیری مسلمان ہندو سامراج کی چکی میں پس رہے ہیں اور جب کشمیری حریت پسندوں نے 48ء میں مسلح جدوجہد کے ذریعے اپنے وطن کو بھارتی شکنجے سے آزاد کرانے کا عزم کیا اور موجودہ آزاد کشمیر سے بھارتی قبضہ چھڑا کر آزاد حکومت قائم کی اور قریب تھا کہ کشمیری مسلمان اور مجاہدین سری نگر تک پہنچ جائے کہ چانکیہ سیاست کے پروردہ پنڈت نہرو کے فوراً پینترا بدلتے ہوئے اقوام متحدہ میں دہائیاں دیں اور لشکر کشی رکوانے پر وادی میں استصواب رائے کروانے کا وعدہ کیا۔ حکومت پاکستان نے عالمی ادارے کا احترام کر تے ہوئے پیش قدمی روک دی اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کر لیا۔ تاہم وہ دن گیا اور آج کا دن آیا بھارتی حکمران اپنے وعدوں سے انحراف کر تے ہوئے وادی کشمیر میں استصواب رائے کرانے سے گریزاں ہیں اور اس مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چار بڑی جنگیں اور بے شمار جھڑپیں ہو چکی ہیں تاہم کوئی نتیجہ برامد نہیں ہوا بلکہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوگیا اور اس کا مشرقی بازو جدا کر دیا گیا۔
آج تک اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں پر عمل نہیں کر اسکا جب کہ مشرقی تیمور میں اس ادارے نے انتہائی سرعت کا مظاہرہ کر تے ہوئے اسلامی ملک انڈونیشیا کو تقسیم کر دیا تاہم الکفرملۃ واحدہ کے مصداق ہندو حکمرانوں سے یہ ادارہ اب تک اپنی قراردادوں پر عمل کرانے سے قاصر رہا ہے۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے مظلوم حریت پسند کشمیری مسلمانوں نے 80 کی دہائی میں تمامتر سیاسی سفارتی کوششوں میں ناکامی کے بعد مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی کشمیر کا بیڑہ اٹھایا اور 8 لاکھ ہندوستانی فوج کے مقابل مٹھی بھر مجاہدین نے اپنے مقدس لہو سے شمع آزادی کو فروزاں کیا۔ بھارتی درندے 80 ہزار سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کر چکے ہیں ہزاروں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عصمت دری اور بوڑھوں بچوں کے ساتھ ساتھ گھروں دکانوں حتیٰ کہ مقدس مقامات مساجد وغیرہ کی حرمت پامال کر رہے ہیں لیکن کسی عالمی قوت کا ضمیر نہیں جاگتا۔ جمہوریت اور انسانی آزادی کے چمپئن امریکا اور اس کے حواری یورپی اقوام کشمیر کی جانب سے نظریں چراتے ہوئے استعماری قوت بھارت کی سرکوبی سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ایک پاکستان ہے جو نصف صدی سے کشمیر کاز کا پرچم سر بلند کیے ہوئے ہے اور سیاسی سفارتی ذرائع سے اس مسئلے کے پر امن حل کے لیے کوشاں ہے۔ جب کہ پاکستان نے تمام جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کر کے بھارتی مطالبہ پورا کر دیا کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کیا جائے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارت وعدوں کے برعکس ایک مرتبہ پھر راہ فرار اختیار کر رہا اور مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے اس مسئلہ کو سرد خانے کی نذر کرنا چاہتا ہے البتہ پاک بھارت تعلقات میں اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک کہ مسئلہ کشمیر حل نہ کیا جائے جہاں ظالم و جابر ڈوگرہ حکمرانوں کے جبرو استبداد کے خلاف کشمیری مسلمانوں کے جذبہ حریت کی علامت ہے وہیں بھارتی استعمار کے خلاف نفرت اور حصول آزادی کے عزم صمیم کا اعلان ہے۔ وادی کے دونوں جانب کشمیری پر امن ہڑتال اور مظاہروں کے ذریعے عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے اور دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کر کے انہیں اپنی جائز تحریک آزادی کی حمایت و تعاون پر راضی کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ دن بڑے جوش و جذبے کے ساتھ اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جا تا ہے۔ ملک بھر میں عام تعطیل کی جاتی ہے تاکہ دنیا بھر کی اقوام کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم پر ان کی توجہ مبذول
کرائی جا سکے۔ اس مرتبہ بھی 5 فروری مقبوضہ آزاد کشمیر پاکستان اور دنیا بھر میں جہاں جہاں کشمیری آباد ہیں مظاہروں بینروں پوسٹروں پہلے کارڈز اور انسانی زنجیروں کے ذریعے عالمی ضمیر بیدار کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں یہ دن تجدید عہد اور عزم نو کا دن ہوتا ہے اور اس یقین کے اظہار کا دن ہے کہ ایک نہ ایک دن ضرور با لضرور کشمیری عوام بھارتی پنجہ استبداد سے آزادی حاصل کر کے الحاق کے ذریعے تکمیل پاکستان کی آرزوؤں کی تکمیل کر کے رہیں گے۔ پاکستانی حکومت اور عوام قدم بقدم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے انہیں جبرو استبداد کی سیاہ رات سے نکال کر آزادی کی روشن و رخشندہ صبح سے ہم کنار کرنے کی جدوجہد کرتے رہیں گے یہ دن ہمیں احساس دلاتا ہے کہ قافلہ آزادئ کشمیر کہیں رکا نہیں اور تھما نہیں ہے بلکہ حریت پسندوں کا یہ کارواں شاہراہ آزادی پر رواں دواں ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ایک دن کشمیریوں پر آزادی کا سورج طلوع ہوگا اور ان کی آئندہ نسلیں اپنے مذہب روایات اور الحاق پاکستان تلے آزاد فضا میں سانس لے سکیں گی۔ آئیے ہم اور آپ بھی اس موقع پر اپنے مظلوم و مجبور کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اعلان کریں کہ بھارت کبھی حریت پسند کشمیری عوام کو غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ وہ جتنا چاہے مظالم ڈھالے لیکن کشمیریوں کے سینوں میں جو شمع آزادی فروزاں ہے اسے بجھا نہیں سکے گا اور اس حقیقت کو بھارت جس قدر جلدی سمجھ لے اس کے لیے وہی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین یا رب العالمین۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ