کتنے ہی شہر اور قصبے ایک نئی کروٹ لے سکتے ہیں

913
Akhtar Abbas
Akhtar Abbas

اس شہر کو کس ہارون نے آباد کیا تھا یہ فی الوقت بتانا میرے لیے مشکل ہے کسی نہ کسی کتاب سے اس بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور مل جائے گا بے شک یہ ڈویژن بہاولپور کے آخری شہر فورٹ عباس سے قریب ہی واقع ہے جہاں کبھی غربت، ریت اور پانی کی پیاس ہوتی تھی، انسان ہی نہیں دھرتی بھی پیاسی تھی، فصل مشکل سے ہو پاتی تھی، آج حیرت انگیز طور پر یہ علاقہ انگور، پپیتے اور عمدہ خوش ذائقہ کینوؤں کے باغوں کے لیے مشہور ہو رہا ہے، ایک نوجوان نے جو زرعی سائنس کا طالب علم تھا کچے گھڑوں میں کدو کی فصل کو اگا کر کامیابی اور اختراع کا نیا باب لکھ ڈالا ہے۔ ہارون آباد واحد تحصیل اور شہر ہے جہاں سے جنرل ضیا کے نام سے منسوب مسلم لیگ زیڈ کے واحد ایم این اے اعجاز الحق اور اکلوتے ایم پی اے چودھری غلام مرتضیٰ جیتے ہوئے ہیں اور اسی پارٹی کے سربراہ چودھری یٰسین اس شہر کی بلدیہ کے چیئرمین ہیں، اسی بلدیہ ہال میں ایک ہی دن میں سوچنے کے نئے زاویے کے نام سے دو پروگرام ہو ئے، ایک خواتین کے لیے اور دوسرا مردوں کے لیے، خود میری حیرت نہیں جاتی کہ نئی بات سننے کے لیے اس قدر اشتیاق اور آمادگی کہ ایک روز پہلے تک تمام نشستوں کی بکنگ ہو چکی تھی۔ خواتین نے اس قدر برمحل اور شاندار سوالات کیے کہ حیرت دوچند ہو گئی، بظاہر تو یہ ایک نوجوان طارق جاوید کا کام تھا جو اس مضافاتی شہر میں نیا زاویہ کے سفیر تھے، اور آدھی رات کو اپنے دوستوں کے ساتھ لاہور سے آنے والے مہمان کو لینے شہر سے چالیس کلو میٹر باہر آئے ہو ئے تھے، اب یہ شہر وائٹل پیو تے زندگی جیو جیسی خوش ذائقہ چائے کے مرکز کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے جس کا چند برس قبل تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، وائٹل فیملی اپنی خدا ترسی اور فلاحی کاموں کے باعث ہی شہر کی تمام سیاسی نشستوں پر کامیاب ہو پاتی ہے، آج کل ان کی چائے کے اشتہار کے ٹی وی پر خوب چرچے ہیں بہت عرصے بعد اپنی تہذیب اور روایات کی نمائندگی کرنے والا اشتہار دیکھنے کو ملا۔ اسی شہر میں صحافیوں کے تین تین کلب دیکھنے سننے کو ملے، ایک میں اپنے بچپن کے دوست اور جناح کے نامہ نگار سعید رامے کی دعوت پر جانے اور اراکین کلب سے ملنے اور خطاب کرنے کا بھی اتفاق ہوا۔ ہاتف سوسائٹی کے ایک ہسپتال کا دورہ کرنے کا بھی موقع بھی ملا جہاں اہل دل کی مدد سے مستحق مریضوں کے فری ڈائلیسز کا انتظام اور کتنی ساری مشینیں دیکھ کر دل اطمینان سے بھر گیا، یہیں طارق صاحب نے ایک الماری پر مشتمل دیوار ضرورت کا بھی زنانہ اور مردانہ نئے سوٹ رکھوا کر افتتاح کروایا اس امید کے ساتھ کہ یہ بھی دیوار آگہی کی طرح ضرورت مندوں کے کام آنے کا وسیلہ بنے گی۔ ہارون آباد سے دور اور فورٹ عباس کے قریب صدر ایوب خان کے پرسنل اسٹاف آفیسر کے صاحب زادے سعید جاوید کے ان باغات کا بھی خوب ذکر سنا جو انہوں نے تیس برس بعد ریاض سے واپس آکر اور ڈاکٹرز ہاسپیٹل لاہور کے پہلے ایڈمنسٹریٹر کی ذمے داریاں ادا کرتے کرتے سوچا اور اگا ڈالا تب ان کے ہر دوست اور عزیز نے انہیں منع کیا کہ یہاں باغ مت لگاؤ آج تک تو کسی کو یہ خیال نہیں آیا، تم نقصان کروا کر ہی کیوں سمجھنا چاہتے ہو، مگر وہ بضد رہے اور آج ان کے آٹھ سو پودوں کے علاوہ وہاں چپے چپے پر ان کی پیروی میں اگائے اور لگائے گئے باغات کی بہار ہے کہ لوگ گوگل کے سے ان کی تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں اس حوالے سے جب کئی سوال اٹھائے گئے تو میں نے حکیم نیاز عاصف صاحب اور ان کے دوستوں سے فقیر والی میں تنویر صاحب کے ڈیرے پر الوداعی کھانے کے موقع پر گزارش کی کہ دنیا کے ایک جانے مانے انتظامی امور کے ماہر اور کنسلٹنٹ مائیکل جونز کی بات اہل ہارون آباد سے بڑی مطابقت رکھتی ہے۔
ایک زمانے میں وہ ایک معمولی سے ہوٹل میں آرکسٹر بچایا کرتا تھا۔ اس نے کچھ گیت اور دھنیں ذاتی بھی تیار کر رکھی تھیں، ورنہ عام طور پر وہ مشہور امریکی گلوکاروں اور موسیقاروں کی دھنیں ہی بجاتا اور داد پاتا۔ ایک شام حسب معمول آرکسٹر بجاتے بجاتے وہ بے دھیانی اور بے خیالی میں اپنی ہی ایک دھن بجانے لگا۔ ایک بوڑھا شخص دور سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور کرسی ڈال کر بیٹھ گیا۔ اس کے اس طرح قریب آنے اور محویت سے سننے کے باعث مائیکل کنفیوژ ہوگیا اور اس نے بے اختیار ایک مشہور فلمی دھن بجانی شروع کردی۔ اس پر اس بوڑھے آدمی نے نرمی سے کہا ’’وہ دھن جو تم پہلے بجا رہے تھے اور ہاں یہ بھی بتاؤ کہ یہ کس فلم سے ہے‘‘۔
مائیکل نے شرمندگی سے کہا ’’نہیں یہ کسی فلم سے نہیں یہ تومیری اپنی دھن ہے‘‘۔ پھر تم اتنے شرمندہ کیوں ہو رہے ہو۔‘‘ بوڑھے نے اسے دلاسا دیا، اسی دھن نے مجھے تمہاری طرف متوجہ کیا۔ مائیکل کو لگا بوڑھا صرف اس کا دل رکھ رہا ہے۔ اس لیے وہ بڑبڑایا، مگر وہ تو عام سا گیت ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اسے سب کے سامنے بار بار بجاؤں۔ تب اس مہربان بوڑھے نے وقار اور اعتماد بھری محبت سے کہا ’’تم اپنا میوزک خود نہیں بجاؤ گے تو اور کون بجائے گا۔‘‘ اس طلسماتی جملے نے مائیکل کی سوچ اور زندگی ہی بدل کے رکھ دی۔ اب وہ اپنی ذاتی دھن بجاتے ہوئے ایک مستی کے عالم میں بول رہا تھا ’’اپنی دھن تم خود نہیں بجاؤ گے تو اور کون بجائے گا۔‘‘ اس لمحے کے بعد مائیکل نے پھر صرف اپنی دھنیں ہی بجائیں اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکا کے نامور موسیقاروں میں شمار ہونے لگا۔ آج اس کی ایک اور پہچان بھی ہے، وہ دنیا کے ان 20 فی صد کارپوریٹ ٹرینرز میں سے ہے جو دنیا بھر میں اپنی تخلیقی قوتوں Creativity کے باعث جانے جاتے ہیں اور باقی 80 فی صد کے استاد اور رہنما مانے جاتے ہیں۔ وہ اس مقام پر اس لیے ہے کہ آج بھی وہ اپنے کام اور پروفیشن کی ہر دھن خود بناتا اور خود بجاتا ہے۔
پنجاب کے ایک سرحدی قصبے اور اس کے مہربان لوگوں سے مل کر مجھے ان میں سے کتنے ہی مائیکلز جونز لگنے لگے، جو نہ سوچتے تو آج بھی کسی چائے کمپنی کے ڈسٹری بیوٹر ہوتے، اپنا برانڈ بنا پاتے نہ اس کی مقبولیت اور کامیابی مے مزے لے پاتے، میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم میں سے کچھ لوگ اس مہربان بوڑھے ہی کی طرح ہو جائیں جس نے قریب جا کر اس کی حوصلہ افزائی کی تھی تو ہمارے کتنے ہی شہر اور قصبے ایک نئی کروٹ لے لیں، ان قصبوں کے بیٹے اور بیٹیاں جو بڑے شہروں کا رزق ہو چکی ہیں، وہاں اپنی پہچان بھی بھولنے کو ہیں اپنے گھروں میں اپنی اپنی کتنی ہی نئی دھنیں تخلیق کر سکتے ہیں، انہیں مقبول بنا سکتے ہیں اپنی نئی پہچان پا سکتے ہیں۔
میں چار دہائیوں کے بعد اس شہر گیا تھا جہاں کبھی ۱۳۲۔۶۔ آر سے ماسٹر خادم حسین صاحب کے ساتھ جا کر اپنے منتخب ہم جماعتوں کے ساتھ مڈل کے وظیفے کا امتحان دیا تھا اور زندگی میں پہلی بار اسکالرشپ جیتنے کا مزہ لیا تھا، اس شہر میں مَیں پہلی بار اپنی مرضی کے کپڑے خریدے اور پہلی بار درزی سے سلوائے تھے، اس معمولی سے خود مختاری سے کیے فیصلے کی خوشی نے مجھے ہفتوں نہال رکھا تھا۔ تب کی ٹوٹی سڑکوں اور بند اور تنگ گلیوں والا قصبہ آج فراحی کی کتنی ہی حیرتوں کے تحفے دے رہا تھا۔ وہاں اچھی اور کھلی سڑکوں کے جال بچھے ہیں، سنگل کب کی ڈبل ہو چکی ہیں، نہر کنارے نئی نئی آبادیاں رہنے کے لیے بلا رہی ہیں، آج یہاں کے عام لوگ بھی زندگی سے سیکھنے، اور کامیابی پانے کی راہ پر چلنا سیکھ رہے ہیں اور اپنی دھنیں خود بجا رہے ہیں۔ چاہے وہ سیاست میں ہوں، بزنس میں یا تعلیم میں۔ ہمیں پسند ہوں یا نہ ہوں، ہم انہی دھنوں کو سن رہے ہیں، سنا رہے ہیں، ناشکری اور نا آسودگی کے کلچر میں اپنی اپنی کامیابی کی دھن بجانا بہت مشکل ہوتا ہے، مگر جو کوئی ہمت کر لے اسے بجا لے تو یہ دھن بجتی خوب ہے۔