بیت المقدس میدان جنگ بن گیا ، 100 فلسطینی زخمی

117
مقبوضہ بیت المقدس: قابض صہیونی فوج آتشیں بم اور آنسوگیس کے گولے برسا رہی ہے‘ تشدد سے زخمی ہونے والے فلسطینی کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے‘ اسرائیلی اہل کار نوجوان کو گرفتار کرکے لے جارہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں پر دھاوا بول دیا۔واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پیش آیا۔ پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں 100سے زائد فلسطینی زخمی ہو گئے، جب کہ صہیونی پولیس نے 50افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی۔ خبررساں اداروں کے مطابق بیت المقدس میں رمضان کے آغاز سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن حالیہ جھڑپوں میں شدت کہیں زیادہ تھی۔ جھڑپوں کا آغاز اسرائیلی حکام کی طرف سے افطارکے حوالے سے عائد پابندیوں کے بعد ہوا تھا۔ رمضان کے آغاز ہی میں اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس کے قدیم حصے میں واقع باب دمشق کے ارد گرد رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں،جہاں مسلمان ہر سال رمضان افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب وہاں سیکڑوں فلسطینی جمع ہوئے اور صہیونی اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔ اسرائیلی پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے صوتی گولے اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا۔ جواب میں فلسطینیوں نے بھی پولیس کی جانب پتھر اور شیشے کی بوتلیں پھینکیں۔ جھڑپوں کے دوران 20 صہیونی اہل کار زخمی ہوئے،جب کہ زخمی ہونے والے 105فلسطینیوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ اس دوران انتہا پسند آبادکاروں کے گروہ ’لاحافا‘ نے بھی باب دمشق کی جانب مارچ کیا اور مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی،جس میں فلسطینی لڑکوں کو ایک یہودی کی پٹائی لگاتے دکھایا گیا تھا۔ اس کے جواب میں کئی وڈیو شیئر کی گئیں،جن میں یہود کے مسجد اقصیٰ پر دھاوے اور مسلمانوں سے انسانیت سوز سلوک کے مناظر موجود تھے۔ صہیونی پولیس نے انتہاپسند یہودکے مارچ کو روکنے کے لیے بھی دکھاوا کرتے ہوئے دمشق گیٹ سے پہلے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں،تاہم سارا زور فلسطینی مظاہرین پرتشدد کرنے پر رہا۔ ادھر یہودی دہشت گردوں کی نمایندہ تنظیم نے اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماہ صیام میں مسجد اقصیٰ پر دھاووں کو طول دینے کے لیے آباد کاروں کو اپنے ساتھ راشن سامان کے صندوق لے جانے کی اجازت فراہم کریں۔ ٹمپل مائونٹ گروپ کے ڈائریکٹر ٹومی نیزانی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبادکاروں کو قبلہ اول میں عبادت کے لیے داخلے کی اجازت دینا کافی نہیں۔ ہمیں وہاں پر کھانے پینے کا سامان ساتھ لے جانے اور مسجد کے اندر بیٹھ کر کھانے پینے کی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ 28 رمضان المبارک کو یوم القدس کے موقع پر آباد کاروں نے قبلہ میں جمع ہونے کی مہم شروع کررکھی ہے۔