سراج الحق کا پشاور مدرسہ زبیریہ کا دورہ، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت

85

پشاور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پشاور میںمدرسہ زبیریہ کا دورہ کیا، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات اور تعزیت کا اظہار کیا۔بم دھماکے کے شہدا کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمدخان ، عنایت اللہ خان اور پشاورکے ضلعی امیر عتیق الرحمن بھی ان کے ہمراہ تھے ۔اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کل 30اکتوبر( 12ربیع الاول) کو فرانس میں سرکاری عمارتوں پر خاکے لگانے اور مسجد میں دھماکے کے خلاف بھرپوراحتجاج کریںگے۔ مسجد میں دھماکا ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ، مسجد میں قرآن اور حدیث پڑھنے والوں پر حملہ ہوا۔اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔حکومت کو معلوم تھا کہ واقعہ ہونے والا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت کو اطلاعات تھیں، لیکن دہشت گردی کی اطلاعات کے باوجود حکومت نے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے،27اکتوبر کی صبح 8 بجے یہ سانحہ ہوا ابھی تک کوئی حکومتی شخصیت تعزیت کے لیے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ دشمن نے کسی بارڈر پر نہیں پشاور کے وسط میں حملہ کیا ہے، اچانک دہشت گردی کے واقعات شروع ہوگئے ہیں حکومت بتائے کیا وجہ ہے، اتنے اداروں اور سیکورٹی چیک پوسٹوں کے باوجود دہشت گرد کیسے اور کہاں سے آجاتے ہیں؟ وزیر اعظم کا اپنا اعلان تھا کہ جب تک قاتل نہیں پکڑے جاتے حکومت ہی قاتل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان واقعات پر خاموش نہیں رہیں گے۔ حکومتی نااہلی اور بے حسی کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مدرسے پر حملہ اسلام آباد پر حملہ تصور کیا جائے، اے پی ایس واقعے کی طرح ایکشن پلان بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت پاکستان کو کمزور کر ے گا، ہمارا سوال ہے کہ حکومت کیا کررہی ہے۔بھارتی تخریب کاروں اور دہشت گردوں کو روکنے کے لیے حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں ۔اگر بھارتی دہشت گرد اسی طرح ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بناتے رہے تو لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے وہ حکمرانوں کے خلاف نکلیں گے اور انہیں گریبانوں سے پکڑیں گے ۔