زندگی کی بھیک نہ مانگیں جہاد کریں

193

کشمیر کے سودے کے بعد اب بین الاقوامی برادری بھارت اور پاکستان کے حکمراں سب مل کر کشمیر کے مسئلے کے اصل سبب اور حقائق کو تبدیل کرنے پر کمر بستہ ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فون کرکے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر یوں کی زندگیاں بچائے۔ بھارتی حکومت نے اپنی اپوزیشن کو کشمیر جانے سے روک دیا۔ راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا وفد سرینگر ائر پورٹ سے واپس کر دیا گیا۔ صحافیوں کو بھی اجازت نہیں ملی پولیس انتظامیہ اور اپوزیشن رہنمائوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ اس ساری صورتحال کو تمام اخبارات نے بہت زیادہ اجاگر کیا ہے۔ اپوزیشن رہنمائوں کی پرواز میں موجود کشمیریوں نے جو صورتحال بتائی وہ بھی ہولناک ہے۔ رفتہ رفتہ ساری دنیا مسئلہ کشمیر کے اصل سبب اور تنازع کے بجائے کرفیو، گرفتاریوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اپوزیشن یا صحافیوں کے دورے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اگر کرفیو اٹھا لیا جائے تو بڑی کامیابی قرار دی جائے گی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چار پولیس والوں کو سزا دی دے دی گئی تو بھی اس کا ڈنکا پٹ جائے گا۔ اور بھارت کا قبضہ سچا رہے گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے سربراہ کو فون کرکے کشمیریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپیل کررہے ہیں۔ قریشی صاحب کشمیری ہوں یا دنیا میں کسی بھی جگہ (کے مسلمان)اللہ نے جس چیز میں زندگی رکھی ہے اسے جہاد کہا جاتا ہے اقوام متحدہ، او آ ئی سی یا دیگر تنظیموں سے اپیلوں کے نتیجے میں کسی کو زندگی نہیں مل سکتی۔ افغان عوام کو زندگی ملی تو ان کے جہاد کے نتیجے میں وہ جہاد کسی حکومت نے شروع نہیں کیا تھا۔ بوسنیا میں جو زندگی مسلمانوں کو ملی اور انسانی حقوق کا مجرم سلاخوں کے پیچھے گیا تو وہ جہاد کے نتیجے میں گیا۔ فلپائن میں صرف جہاد نے مسلمانوں کا صوبہ بنوایا۔اخوان زندہ ہیں تو جہاد کے سبب فلسطینی زندہ ہیں ،جہاد کے نتیجے میں عالمی برادری اور اپیلوں کا اس میں کوئی دخل نہیں۔کشمیر میں بھی جب تک جہاد جاری رہا اور اس کی تھوڑی بہت پشتیبانی جاری رہی کشمیریوں کو زندگی ملی ہوئی تھی۔ لیکن جب جہاد مجاہدین اور تحریک مزاحمت کا راستہ پاکستان کی جانب سے بند کریا گیا تو پھر کشمیری بھی مرنے لگے اور مجاہدین کی شہادتیں بھی بڑھ گئیں۔ اللہ نے جہاد میں زندگی رکھی ہے اور ہمارے حکمران اپیلوں اور ٹیلی فون کال کے ذریعے زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ کشمیری او رپاکستانی قیادت کے رویوں میں زمین آسمان کا فرق ہے یہاں سے بار بار خوفزدہ کرنے والے بیانات جاری ہو رہے ہیں کہ جنگ ہونے والی ہے جنگ منڈلا رہی ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے وغیرہ وغیرہ لیکن کشمیری قیادت کے عزم و حوصلے کا یہ عالم ہے کہ دو ہفتے کے کرفیو کے بعد جمعے کو کرفیو توڑنے کا اعلان کر دیا اور صرف اعلان نہیںکیا بلکہ کرفیو عملا بھی توڑ ڈالا۔ پورا کشمیر اینٹوں اور پتھروں سے بھرا ہوا تھا۔ حیرت ہے پاکستانی قیادت کو کشمیری نوجوانوں کی وہ تصویر نظر نہیں آئی جس میں وہ دونوں ہاتھوں میں پتھر اٹھائے ہوئے ہے۔ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کی مودی کی اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیا جا سکا۔ اب دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے نتیجے میں کشمیر میں کرفیو ختم ہونے کا امکان پید اہو گیا۔ لیکن کرفیو ختم ہو گیا تو کیا مسئلہ کشمیر حل ہو گیا مسئلہ کشمیر کا حل تو یہ ہے کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی سے استصواب کا حق دیا جائے وہ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ اگر بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہوتے تو دو ہفتے کا کرفیو نہ توڑتے بلکہ علی گیلانی مودی کو فون کرتے کہ بھائی ذرا کرفیو میں نرمی کردو ہمیں کھانے پینے کا مسئلہ ہے۔ کشمیری تو زندگی کے لیے مر رہے ہیں۔ اگر مسئلہ صرف کرفیو ہوتا تو کشمیری کب کا یہ کرفیو ختم کراچکے ہوتے۔ کشمیر کا مسئلہ کرفیو ہے نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی مسئلہ صرف بھارتی قبضہ ہے جب بھارتی قبضہ ختم ہو جائے گا تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کرفیو کا مسئلہ بھی نہیں رہے گا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تو بھارت بھر میں ہور ہی ہیں پاکستان میں حکمرانوں نے ہزاروںلوگوں کو لاپتا کر رکھا ہے۔ امریکا اور برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے نام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی جگہ کسی متنازع علاقے پر بزور قوت قبضہ نہیں کیا گیا۔ چین میں بھی مسلمانوں کے انسانی حقوق سلب ہیں۔ یہ ساری خلاف ورزیاں بھی یقینا قابل مذمت ہے لیکن کسی علاقے پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد ہے۔ لہٰذا پاکستانی حکمران صرف ایک نکتے پرتوجہ مرکوز رکھیں کہ کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کرایا جائے۔ جس جانب پاکستانی حکمران اور عالمی برادری پیش قدمی کررہی ہے اس کے نتیجے میں کشمیری وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے سے قبل تھے۔ اصل مسئلہ وہیں موجود رہے گا۔ اس خیال کو تمام مسلمان حکمران اپنے دماغ سے نکال دیں کہ زندگی بھیک مانگنے سے ملے گی۔ زندگی جس راستے سے ملتی ہے کشمیریوں نے تو اسے اپنایا ہوا ہے باقی لوگ اسے ترک کرنے بلکہ گناہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہی افغان مجاہدین طالبان جنہیں امریکا سمیت پوری دنیا دہشت گرد قرار دیتی تھی آج انہیں امریکا نے دہشت گردی کے لیبل سے آزاد کر دیا ہے جب کہ اس کے عوض طالبان نے جنگ بندی کی امریکی اپیل منظور نہیں کی اتنا احسان کیا کہ حملوں میں 50 فیصد کمی کر دی جائے۔ یہ جہاد ہی تو ہے جس کی برکت سے آج طالبان امریکا کو اپنی شرائط بتا رہے ہیں کہ معاہدہ طے پاتے ہی امریکا اپنے ڈرون لے جائے گا۔ فوجی انخلاء کے لیے 14 ماہ دیئے جائیں گے اور اسلحہ منتقلی کے لیے 2 سال دیں گے۔ طالبان نے کبھی زندگی کی بھیک نہیں مانگی۔ دنیا کو مسئلہ کشمیر کی کیا پڑی اگر پاکستان کے حکمران اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انہیں چاہیے کہ زندگی کی بھیک نہ مانگیں مسئلہ کشمیر حل کرائیں۔ ایک طرف حکمراں زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف سید علی گیلانی اعلان کر رہے ہیںکہ بھارت پوری فوج بھی وادی میں لگا دے ہم حقوق سے دستبردار نہیں ہونگے۔ بھارتی فوج مارنے کے لیے تیار ہے اور ہم احتجاج کے لیے۔ یعنی انہوں نے کشمیریوں کی زندگی کے لیے مرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ شرمناک عمل یہ ہے کہ جب مودی نے کشمیر پر قبضے کا عمل کر ڈالا تو اس کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والے وزیراعظم نے اسے ایک مرتبہ پھر پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔ وہ دہشت گرد جاتا کہیں سے بھی اس کے نقصان کی اس قدر فکر کیوں ہے۔ دوسری طرف کرتار پور کی رٹ لگائی ہوئی ہے اس کے بارے میں بار بار توجہ دلائی جارہی ہے کہ یہ سکھوں کے لیے نہیں قادیانیوں کے لیے کھولا جارہا ہے۔ ہمارے وزیراعظم صرف گورنر ہائوس کو عوام کے لیے کھولنے کی بات کررہے ہیں یہ کام کرنے کا یہ وقت نہیں اور اس کی تشہیر کی بھی ضرورت نہیں یہ تو آپ کا انتخابی وعدہ تھا آپ صرف کشمیر کی بات کریں اس کے لیے کیا کام کیا گیا ہے۔