الیکشن کمیشن ارکان کا تقرر: حکومت اور اپوزیشن کا عدالت جانے کا اعلان

64

 

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان سے ارکان کے تقرر کا معاملہ بند گلی میں داخل ہو گیا۔ پارلیمانی کمیٹی بھی تنازع حل کرنے میں ناکام ہو گئی۔ حکومت اور اپوزیشن نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آئین کے تحت الیکشن کمیشن رکن کے تقرر کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اتفاق رائے سے 3 نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں لیکن اگر اتفاق رائے نہ ہو تو
وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر الگ الگ 3,3 نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجواتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کم از کم دو تہائی اکثریت سے 6 میں سے ایک نام کا انتخاب کر سکتی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی میں مجوزہ ناموں پر ڈیڈلاک پیدا ہو جائے تو آئین خاموش ہے۔ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن ارکان کی ریٹائرمنٹ کو 6 ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے بھجوائے گئے نام مسترد کر دیے تھے۔ پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے برابر برابر ارکان ہوتے ہیں۔
ارکان کا تقرر